500

بارشیں کیونکر۔ تحریر:امیر احسان اللہ چینجی

میرے ہاتھ لرز رہے ہیں کہ اس حساس موضوع کو زیر قلم لانا کم از کم میرے لئے اتنا آسان نہیں۔ سرما کی یخ بستہ رات تھی رات گرنے والی اوس نے سخت سردی کی وجہ سے جم کر برف کی شکل اختیار کر لی تھی جسے ہم عرف عام میں کورا کہتے ہیں عموماٗ طلوع آفتاب کے وقت یہ ٹھنڈ اپنے عروج پر پہچ جاتی ہے۔ بچے اپنے اپنے سکولوں کی راہ لے رہے تھے کہ انہیں قریبی کھیت میں پڑے سفید گٹو میں کسی جاندار چیز کا احساس ہوا حسب معمول بچے ڈر گئے لیکن بچگانہ دلچسپی بدستور قائم رہی اس وقت وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ اندر کوئی کتا یا بلی ہے۔ بچوں نے دور سے ہی اس پر چھوٹے چھوٹے پتھر پھیکنے تو گٹو کے اندر سے بچے کے آواز سنائی دی تب بچے مزید سہم گئے لیکن دو ایک نڈر بچے مزید تحقیق میں قریب چلے گئے کیا دیکھےہیں کہ گول مٹول ایک خوبصورت سا بچہ جو شائد کچھ گھنٹے ہی پہلے اس دنیا میں آیا سردی سے کانپ رہا تھا اور اس کے ہاتھ پاؤں شل ہوچکے تھے اس حیرت انگیز مشاہدے پر بچوں نے اپنی عقل کے مطابق گٹو میں پڑی معصوم سی جان کو تنکے چبھو کر جاننے کی کوشش کی کہ وہ زندہ بھی ہے۔ بچے اس وقت شدید سہم گئے جب سورج کی کرنوں اور تنکوں کی تکلیف کے احساس نے ننھی جان کو بلبلانے پر مجبور کر دیا سکول کے بچے قریبی ایک گھر گئے اور حقیقت حال بتائی۔ اب ننھی جان سردی اور بھوک کی وجہ سے بلک رہی تھی یا شائد دنیا والوں سے اپنا قصور پوچھ رہی تھی۔ اس کا سوال تھا کہ اگر انسان اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتا ہے تو میری آمد پراس سردی میں مجھ جیتے جاگتے اور بھوکے کو کتے بلوں کی طرح کیوں پھینک دیا گیا۔ قریبی گھر سے چند بڑے وہاں پہنچے اور علاقے کے ایک بااثر شخص کے پاس بچے کو لے جایا گیا جہاں بچے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا بچے کو کمبل میں لٹایا گیا اور فیصلہ ہوا کہ فلاں شخص کو بلایا جائے جو لاولدی کا درد سہہ رہا تھا جب اسے اطلاع بھجوائی گئی تو وہ دوڑتا چلا آیا اور بچے کو سینے سے لگاتے ہوئے اس کو اپنانے کا عہد کرلیا۔ بچہ اس کے حوالے کردیا گیا اور اس نے خدا کا شکر ادا کیااور بچے کو اپنے گھر لے آیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا چند گھنٹوں بعد ہی بچے کی طبیعت بگڑنے لگی تو وہ فوراً تلہ گنگ ڈاکٹر کے پاس لے گئے ڈاکٹر نے معاینے کے بعد معذرت کے ساتھ بتایا کہ بچہ شدید سردی اور بھوک سے متاثر ہوا ہے اور اب اس کی روح پرواز کر چکی ہے۔ یوں ایک دفعہ پھر اس بے اولاد جوڑے کی چند ہی گھنٹوں بعد گود اجڑ گئی وہ بچے کو سینے سے لگا کر یوں کراہ رہے تھے جیسے ان کا اپنا بچہ تھا رنج و الم میں آنسو تھے جو تھمنے کا نام ہی نہ لے رہے تھے۔ وہ اپنے اس معصوم بچے کی میت کو لے کر اپنے گاؤں پہنچے اور پورے اعزاز کے ساتھ تدفین کی اور گردونواح سے لوگ آکر ان سے تعزیت کررہے ہیں ۔ یوں یہ کہانی بظاہر تو ختم ہوگئی لیکن درحقیقت وہ ننھی جان اہل فکر کے لئے بہت سارے سوال چھوڑ گئی۔ ہم باران رحمت کے لئے نماز استسقاء کا اہتمام کرتے ہیں کیونکہ ہمیں فکر ہے کہ گندم کی فصل نہ ہوگی تو کھائیں گے کیا ؟ـ اللہ کی ذات سے بھی سودا بازی کرتے ہیں۔ جس معاشرے میں چھ سالہ قصور کی زینب کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرکے قتل کیا جائے اور لاش کچرے میں پھینک دی جائے وہاں کیااللہ کا عذاب نازل نہ ہوگا؟ مردان کی عاصمہ ہو یا نقیب کا قتل ۔ جو ملک خالص اسلامی نظریہ کے تحت حاصل کیا گیا ہو لیکن معاشرے میں ایسی افسوس ناک شرم آمیز مثالیں قائم ہورہی ہوں وہاں ہم اپنا چہرہ غیر مسلموں کے سامنے کیسے پیش کریں گے۔ کم از کم اتنی کم عمر بچیوں کا جنسی استحصال پڑوسی ملک بھارت میں نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہوگا تو کم از کم یہاں کے مقابلے کم ہوتا ہوگا۔ جبکہ وہ ملک ہم سے آبادی کے لحاظ سے پانچ چھ گنا بڑا ہے۔ راؤ انوار جیسے پولیس آفیسر ہیں تو ہم کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والے بھارتی فوجیوں کے کردار کی کیسے مذمت کریں گے یہی وجہ ہے کہ ہمارے مجموعی معاشرتی بدکردایوں سے مسئلہ کشمیر کو بھی سخت دھچکا لگاہے۔ ہمارے سیاست دان اپنے غیر قانونی اثاثوں کا دفاع کررہے ہیں یا پھر مخالفین پر زبان چھری کی طرح چلاتے نظر آتے ہیں۔ لوٹ مار رشوت سفارش اور غنڈہ گردی کی سیاست کو فروغ مل رہا ہے۔ ایسے حالات میں بارشیں کیونکر ہوں اللہ کی رحمت سے ناامید بالکل نہیں لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے رویوں پر غور کیا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں