254

کپتان کے مقامی رہنما،عوام سے دوری اور اندونی اختلافات کا شکار ،آمدہ انتخابات میں مشکلات کا سامنا۔

تلہ گنگ (نمائندہ بے نقاب)عمر ان خا ن کی تبدیلی کی آ واز حلقہ این اے اکسٹھ تک نہ پہنچ سکی ۔کپتان کے مقامی رہنماؤں کی عوام سے دوری اور رہنماؤں کے اندونی اختلافات نے مسلم لیگ ن اور ق لیگ کی حلقہ این اے اکسٹھ پر گرفت کومٖضبوط بنو دیا۔ کپتا ن کے مقا می کرتے دھر تے خا موش اور نو جوانوں کی

ہلکی پھلکی ہلچل جا ری ،تا حال ن لیگ اور ق لیگ کا ووٹ بینک بر قرار ۔تفصیلات کے مطابق تحر یک انصاف کے رہنما عمر ان خا ن نے جس طر ح پو رے ملک میں ہلچل مچا رکھی ہے ۔جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی مقبو لیت میں بھی اضا فہ ہوا ہے ۔لیکن دوسری جا نب حلقہ این اے اکسٹھ پر نظر دوڑائی جا ئے تو تحر یک انصاف کے مقا می قا ئد ین کی عدم دلچسپی اور عوام سے دوری کی وجہ تحر یک انصاف کا گر اف اوپر کی بجا ئے دن بد ن نیچے کی جا نب گا مز ن ہے ۔حلقہ این اے اکسٹھ میں تحر یک انصاف کا ووٹ بینک نہ ہو نے کے برابر ہے اور پی ٹی آ ئی پیپلز پا رٹی کی طر ح آ کسیجن پر چل رہی ہے اور کپتا ن کے مقا می لیڈر خواب خر گوش کے مز ے لے رہے ہیں۔ پی ٹی آ ئی کی تھو ڑی بہت سا کھ نو جوانوں کی انتھک محنتوں کی وجہ سے بنی ہو ئی ہے اور مقا می قا ئد ین تو بس اخباری بیا ن بازی تک ہی نظر آ تے ہیں۔ خصوصی سروے کے دوران سیاسی بصیرت رکھنے والے عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ اگرّ آمدہ الیکشن میں مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن کے خلاف مشترکہ امید وار لانے میں کامیاب ہو گئے تو کامیابی کاچانس بن سکتا ہے۔بصورت دیگر ق لیگ اور پی ٹی آئی کو بری شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔مزید کہنا تھا کہ پانچ سال کا عرصہ گزنے کے باوجود حلقہ61 NAپی ٹی آئی اپنا تاثر قائم کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی سب سے بنیادی وجہ عوام سے دوری اور مقامی رہنماؤں کے اندرونی اختلافات ہیں ۔ٍ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں