301

چلو کوئی گل نیئں…….تحریر اکرم نور چکڑالوی


اگر ہم اپنے وطن عزیز میں نظر دوڑائیں تو یہاں آپ کو ہر جگہ چلو کوئی گل نیئں پالیسی ہی رائج نظر آئے گی اور اگر میں غلط نہیں کہہ رہا تو یہی پالیسی ہی ہمارے شہر اورملک کی بربادی اور تباہ حالی کی بنیادی وجہ ہے، جیسا کہ اگر کوئی سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے تو چلو کوئی گل نیئں،اس سڑک کی تعمیر کے نام پر کونسلر، چیئرمین،ایم پی اے، یا ایم این اے لاکھوں روپے خود ڈکار چکے ہیں اور بھی کئی بار اور اس کے باوجود وہ سڑک تاحال کھڈرات کا منظر ہی پیش کر رہی ہے تو بھی چلو کوئی گل نیئں، اگر کسی سرکاری ملازم نے عوام کو ذلیل کرنا اپنا فرض عین سمجھ رکھا ہے اور رشوت کو ہی وہ اپنی اصل کمائی اور حق سمجھتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر سرعام لیتا ہے تو بھی کسی کو بولنے کی کوئی ضرورت نہیں اور خبردار جو کسی نے کہیں زبان کھولنے یا کچھ بولنے کی کوشش کی تو کیوں کہ اول تو ہمارے نزدیک یہ کوئی گل نہیں اور اگر ہے بھی تو چلو کوئی گل نیئں،اگر کسی کو سرکاری ہسپتالوں میں مسیحا کے نام پر جلاد بنے ڈاکٹر یا کسی پیرا میڈیکل سٹاف نے عوام کو ذلیل کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اوروہاں فری ادویات کے بجائے فری گالیاں ذلت اور جھڑکیاں ملتی ہیں تو بھی عوام کو بولنا نہیں چاہے اور اگر کسی غریب کے بچے کو پیدا ہونے پہلے ہی ہسپتال کے عملے کی جانب سے قتل کر دیا جائے یا کسی غریب کی بیوی، بہو، یا بیٹی سرکاری ہسپتال میں درد کی شدت سے تڑپ رہی ہو اور عملہ بجائے علاج کرنے اور ادویات دینے کہ خود میٹھی نیند سو رہا ہوتو بھی عوام کو بولنے کا تو حق نہیں کیوں کہ اول تو یہ عام سی گل ہے اور اگر ہے بھی تو چلو کوئی گل نیئں، اگر کوئی وردی میں ملبوس پولیس والا ہر عام آدمی کو گناہ گار سمجھتے اور ان سے پیسے لینا فرض وعین سمجھتے ہوئے اپنی جیب گرم کر رہا ہے یا اپنی جیب زیادہ ہی گرم ہونے پر کسی بیگناہ کو گناہ گار ثابت کر کے سزا دلوا بھی رہا ہے تو پتہ ہونے کے باوجود کسی کوئی کوئی گل بولنے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ ہمارے نزدیک تو یہ کوئی گل ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی سہی تو بھی چلو کوئی گل نیئں،اگر کوئی قلم فروش صحافت کے نام پر کسی عام شہری کو بلیک میل کر رہا ہے یا عزت اچھالنے کی دھمکیا ں دے کر پیسے بٹورنے کے چکرمیں یا اگر کوئی عدالت میں بیٹھا بجائے غریب عوام کو انصاف تراہم کرنے کے قانون و انصاف کا سودا کرنے میں مصروف بھی تو عام شہری کو اس کے خلاف کوئی گل کرنے کی اجازت نہیں اور اگر ہے بھی تو بات نہیں کرنی چاہے کیوں کہ یہاں رائج ہی پالیسی چلو کوئی گل نیئں ہے، اگر حقیقت پسندی سے کسی جماعت یا کسی اور کی حمایت کی عینک اتار کر جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ چلو کوئی گل نیئں پالیسی ہی ہمارا المیہ بن چکی ہے اور ہمارے معاشرے کی بے حسی اور اپنے حق تک کے لیے نہ بول کر خود کو مردہ ثابت کرنے کا ہی دوسرا نام چلو کوئی گل نیئں پالیسی ہے، آج عوام کے پیسے سے تنخواہ حاصل کرنے والے ہی عوام کو اپنا غلام اس وجہ سے ہی سمجھ رکھا ہے اور کئی ایسے سرکاری ملازمین ہیں جو ہیں تو ملازمین مگر خود کو اعلی افسر سمجھتے ہوئے عوام کو ذلیل کرنا اپنا فرض اول سمجھتے اور اس پر بلاناغہ باقاعدگی اور استقامت کے ساتھ یہ فرض ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ اس سب میں ان کی کوئی غلطی بھی نہیں ہے کیوں کہ ہماری عوام ہی چلو کوئی گل نئیں پالیسی کی عادی ہو چکی ہے اور بولنا اور وہ بھی اپنے حق کے لیے تو ہماری عوام کے خیال میں گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے آج ہمارے ہاں کرپشن کا دور دورہ ہے تو سرکاری ملازمین نے خود کو افسراعلی سمجھتے ہوئے کام کرنے کو گناہ سمجھ رکھا ہے تو سیاست دانوں او ر حکمرانوں نے عوام کو بے دریغ لوٹنا اپنا حق سمجھ رکھا ہے اور اس سب کی بنیادی وجہ وہی چلو کوئی گل نئیں پالیسی ہی ہے اگر ہماری عوام بھی شعور اور اپنے حق کا علم اور اپنے حق کے لیے بولنے کا ہنر جانتی اور اپنے حقوق چھین لینے تک کی ہمت رکھتی تو یقینا آج یہاں ایسا ہرگز نہیں ہو رہا ہوتا بلکہ کسی ایک وردی والے کرپٹ افسر کے نشان عبرت بننے کے بعد بہت سو کو عقل آچکی ہوتی اور وہ کرپشن کی اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے بلکہ سیاہ کرنے کے بجائے اس گنگا سے ہی دور بھاگتے اور اگرہماری عوام اپنے حقوق کے لیے بولنے اوراپنے حقوق چھین لینے کا ہنر سیکھ لیتی تو مسحا کے روپ میں چھپے جلاد عوام کو جگہ جگہ جلاد بیٹھے نظر نہ آتے،کوئی کسی کو بلیک میل نہ کرتا اور کوئی قاضی انصاف اور قانون کے خلاف کوئی فیصلہ نہ دیتا اگر ہماری عوام اور وطن عزیز کے عام شہری کو شعور اور اپنے حق کا علم اور اپنے حق کے لیے بولنے اور اپنے جائز حقوق چھین لینے تک کی ہمت آجاتی مگر افسوس ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا کیوں کے ہم اور ہماری عوام چلو کوئی گل نیئں پالیسی ہی کے عادی ہو چکے ہیں اور اسی پر خوش بھی ہیں کہ کچھ بھی ہوجائے ایک بات پر عمل چلو کوئی گل نیئں کہتے ہوئے ساری ٹینشن ہی دور کر دو، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا گزارہ ایسے ہی آخر کب تک ہوتا رہے گا اگر یہی سب کچھ چلتا رہا اور ہماری عوام بھی چلو کوئی گل نیئں پالیسی ہی پر کاربند رہی تو اس ملک کو تو عنقریب یہ دیمک کی طرح چاٹنے والے کرپشن کے متوالے تو ہڈپ کر جائیں گے اس لیے ابھی بھی وقت ہے اور اس وقت کو ہی غنیمت جانتے ہوئے ہماری عوام کو چلو کوئی گل نئیں پالیسی کو چھوڑتے ہوئے جو کرے گا خود لازمی بھرے گاکی پالیسی کو اپنانا ہو گا تاکہ وطن عزیز سے کرپشن کے متوالوں اور کام کو گناہ سمجھنے اور شوت کو خود پر حلال سمجھنے والوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں