226

سچا ئی میں ہی نجا ت ہے۔


تاریخ کا یہ سبق ہے کہ وہ سچ ضرور سامنے لے آتی ہے۔ نہ واقعات چُھپتے ہیں ا ور نہ لوگوں کے کردار۔ کسی کو ضمیر کا بوجھ چین نہیں لینے دیتا اور کوئی ذاتی تعصب کی بنیاد پر اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ جو لوگ یہ تصور کیے بیٹھے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متفق ہے اور صرف ایک رائے رکھتی ہے انھیں فوج کے دو ریٹائرڈ جرنیلوں کی گفتگو کے بعد ایک دفعہ پھر سوچ لینا چاہیے کہ یہ صرف چند افراد یا گروہوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس جنگ میں جیسے عام آدمی دو مختلف رائے رکھتے ہیں اسی تقسیم کے اثرات تمام اداروں میں کام کرنے والوں میں بھی نظر آتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ کی یہ واحد کڑی ایسی ہے جسے جب مورُخ لکھنے پر آئے گا تو اس کے سامنے تضادات کا انبار لگا ہو گا۔ ایسا تو افغان جہاد میں بھی نہیں ہوا تھا۔ جو اس میں حصہ لے رہے تھے یا پھر جو ان کی مدد کر رہے تھے ان میں ایک یکسوئی تھی۔ چند آوازیں تھیں جو اٹھتی تھیں اور ہر کوئی ان کے تعصب، نظریے اور مخالفت کی بنیادوں کو جانتا تھا۔ ہر کسی کو معلوم تھا کہ ان سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ نگاروں کا ماضی کمیونسٹ انقلاب، قوم پرستی اور اسلام کے نام پر اٹھنے والی کسی بھی تحریک کی مخالفت سے وابستہ ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دو ایسے علاقے تھے جو ہر دوسرے دن دھماکوں سے لرزتے تھے۔
یہی وہ زمانہ تھا جب روسی افواج کو خوش آمدید کہنے والے اپنے مضامین میں لکھتے تھے کہ انقلاب نے پاکستان کے دروازے پر دستک دے دی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب تاجکستان اور ازبکستان جیسے مسلمان روسی علاقوں کی طرح پاکستان سے بھی مذہب کو دیس نکالا دے دیا جائے گا۔ مخالف آوازیں تو تھیں لیکن صدابصحرا۔ ایم کیو ایم نے تو جنم ہی نہیں لیا تھا اور بلوچستان کے قوم پرست ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے مظالم سہنے کے بعد اپنے اپنے گوشہ عافیت میں گم تھے۔ کوئی لندن تو کوئی افغانستان۔
البتہ خیبر پختونخوا سے اسی طرح کے پالیسی بیان آتے تھے جیسے اس دور میں بھارت کے تجزیہ نگار لکھا اور سیاسی رہنما بولا کرتے تھے۔ اس بظاہر یکسوئی کے باوجود بھی تاریخ وقت گزرنے کے بعد پورا سچ ضرور سامنے لائی۔ افغان جہاد کو تجزیہ نگار کتنا بھی فساد کہہ لیں، اس نے ان تمام افراد کی تمناؤں کا خون کر دیا جو یہ سوچا کرتے تھے کہ افغانستان کے بعد، پولینڈ، یوگو سلاویہ یا ایشائے کو چک کے مسلمان علاقوں کی طرح ایک دن روسی افواج پاکستان میں بھی آ دھمکیں گی اور یہ ملک بھی ایک کمیونسٹ ریاست میں تبدیل ہو جائے گا۔
اس خواب کے چکنا چور ہونے کے بعد اس ملک میں پورے دس سالوں کی ایک طویل خاموشی ہے۔ حکومتیں بنتی بگڑتی رہیں، لیکن نہ دہشت گردی کا خوف تھا اور نہ شدت پسندی کا ڈر۔ بلوچستان جیسے صوبے میں بھی عصبیت اور پنجابی استعمار کے نعرے دفن ہو چکے تھے۔ لیکن اس کے بعد ہم نے کہاں غلطی کی کس جگہ بھٹکے کونسا راستہ اختیار کیا کہ آج ہم لہو لہان ہیں، یہ افتاد ہم پر کیسے ٹوٹی ہے۔ یہ ہے وہ بنیادی سوال جس کو حل کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یہی سوال ہے جو پوری قوم کو منقسم کیے ہوئے ہے۔ اسی سوال کا جواب ڈھونڈتے ہوئے جنرل شاہد عزیز ضمیر کی خلش میں یہاں تک انکشاف کر جاتے ہیں کہ سوات میں طالبان نے معاہدہ نہیں توڑا تھا۔ بلکہ حکومت نے امریکا کے دباؤ پر معاہدہ ختم کر کے ایکشن شروع کر دیا تھا۔
دوسری وہ ہیں جو طالبان کے بارے میں اپنا مخصوص نظریہ رکھتے ہیں اور وہ فیصلے کی کمزوری کو طالبان کی طاقت میں اضافے کی وجہ سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں نقطہ نظر ہیں جو پوری قوم کو منقسم کیے ہوئے ہیں۔ یہی دونو ں نقطہ نظر ہیں جو ہمیں سچ بولنے سے روکتے ہیں۔ یہی دونوں نقطہ نظر ہیں جو تعصب کی عینک سے تجزیے کرواتے ہیں۔ گزشتہ بارہ سالوں میں اس ملک میں جس چیز کی موت واقع ہوئی ہے وہ سچ ہے۔ سچ کی لاش چوراہے میں لٹکی ہوئی ہے، اور تعصب کا کوڑا پورے معاشرے پر برس رہا ہے۔
اگر تجزیہ کرنے والی آنکھیں انصاف سے کام لیں تو انھیں صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں اس بات کی تہہ تک پہنچنے میں، کہ دہشت گردی میں امریکا کا ساتھ دینے والوں کے نظریات، بیک گراؤنڈ یہاں تک کہ کسی حد تک مسلک کونسا تھا اور طالبان کے خلاف کون لوگ تھے جو مسلسل ایک ماحول بناتے رہے، اور آج اس ملک کو ایسی دلدل میں لا کر پھینکا کہ جس کا کوئی حل نہ آپریشن سے نظر آتا ہے اور نہ مذاکرات سے۔ دنیا میں کسی ایسی جنگ کا کوئی منطقی نتیجہ نہیں نکل سکتا جس نے نظریات کا لبادہ اوڑھ رکھا ہو۔
کسی ایسی کارروائی کا بھی انجام ممکن نہیں جو کسی مسلک یا عقیدے کی مخالفت اور غصہ کو اپنے ساتھ لیے ہوئے ہو۔ یہ قاعدہ اور کلیہ پوری ا نسانی تاریخ پر محیط ہے۔ اب اس کسوٹی پر رکھ کر اپنے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حامیوں اور مخالفوں کی فہرست مرتب کر لیں تو آپ پر فرق واضح ہو جائے گا۔ اس جنگ کی حمایت میں پیش پیش آپ کو وہ سیکولر طبقات نظر آئیں گے جن کا زندگی بھر کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو ایک شدت پسند اور خون آشام رنگ میں پیش کرنا ہے اور انھیں اس میں لطف آتا ہے۔ ایسے لوگوں کی گزشتہ پچاس سالوں کی تحریریں اٹھا لیں وہ اسلامی تاریخ سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر مثالیں لائیں گے اور جس طرح مغرب اسلام کو بدنام کرتا رہا، ایسے وہ بھی کرتے رہے ہیں۔
دوسرے وہ مسلکی گروہ ہیں جن کی چپقلش صدیوں سے واضح ہے۔ ان کا طریق کار دوسرا ہے۔ وہ دینی تصریحات اور فتوؤں سے مخالفین کو واجب القتل قرار دیں گے۔ دوسری جانب اس شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مخالف جو گروہ ہیں ان میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو اسے عالمی استعمار کی مسلط کردہ جنگ تصور کرتے ہیں اور ہر سطح پر اس کے خلاف لڑنے کو افضل قرار دیتے ہیں۔ ان میں کچھ ریاست کو قائل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس سے نکل جائے تا کہ مسئلہ بہتر ہو اور دوسرے وہ ہیں جو ایسی ریاست کے خلاف بھی جنگ کو واجب قرار دیتے ہیں۔
یہ ہے وہ سچ جس کو اس ملک میں ذبح کی گیا ہے۔ کوئی اپنے اندر کا تعصب باہر نہیں لاتا۔ سب منافقت کرتے ہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے مخالف گروہ کو ریاست اپنی طاقت سے کچل دے۔ کسقدر دیوانگی ہے کہ کسی کو اندازہ تک نہیں کہ اس سے ہم ایک آگ کو ہوا دے رہے ہیں جس میں سب کچھ جل کر خاکستر ہو جائے گا۔ یہ تو ابھی کل کی بات ہے۔ امریکا اور عالمی استعمار کے ساتھ مل کر عراق کی ٹوڈی حکومت جسے نمایندہ حکومت بتایا جاتا ہے، اور اس نے اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو فسادِ فی الارض کے فتوؤں سے دبانے کی کوشش کی۔
پانچ سال میڈیا اور دانشور عراقی حکومت کی ان کارروائیوں کو دہشت گردی اور القاعدہ کے خلاف جنگ قرار دے کر فلوجہ سے تکریت اور موصل تک آبادیوں کو تہہ تیغ کرنے کو قیام امن کی کوشش گردانتے رہے۔ یہ الفاظ بھی استعمال ہوئے کہ ان دنوں عراق اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ کسی نے ان شہروں سے دربدر ہونے والے مہاجرین اور مرنے والے عام شہریوں کی داستان تک نہ لکھی۔ کہا کہ جب قوم حالتِ جنگ میں ہو تو ایسی باتیں قوم کو تقسیم کرتی ہیں۔
قوم نے تو تقسیم ہونا ہی تھا، لیکن عراق کی اس حکمت عملی نے پوری امت کو بھی تقسیم کر دیا۔ امن قائم کرنے کی اس کوشش نے ایک ایسے خوفناک گروہ ’’داعش‘‘ کو جنم دیا جس سے آج سب خوفزدہ ہیں۔ خوف کیوں نہ ہو۔ یہ جنگ اب اصل تعصب اور اصل چہرے بے نقاب کر رہی ہے۔ بھارت سے تین ہزار رضا کار اپنے نام لکھوا چکے۔ پاکستان کا ایک نوجوان چند دن پہلے ان کے ساتھ اپنی جان دے چکا۔ دوسری جانب داعش کے ساتھ بھی ہر ملک اور پاکستان سے بھی لوگوں کی آمد جاری ہے۔ ایک ایسا گروہ اٹھ کھڑا ہوا ہے جس سے ایران اور سعودی عرب دونوں خائف ہیں۔
ایسا گروہ جس کی آنکھوں میں انصاف اور امن نہیں صرف اور صرف انتقام ہے۔ خونریزی اور قتل جن کا ہتھیار ہے۔ لیکن اب بھی کوئی سچ نہیں بول رہا۔ اب بھی کوئی نہیں کہتا کہ ان تمام ریاستوں کو ان نظریاتی اور مسلکی تعصب سے بھرے لوگوں نے اس جنگ بھی الجھایا۔ سچ بولو، صاف گوئی سے کام لو کہ ہم سب نے مل کر اپنے مسلک،، عقیدے، اور نظریے کی آگ میں اس ملک اور اس امت کو جھونک دیا ہے۔ یہ آگ بہت تیز ہے، اس کی کوئی سرحد نہیں۔ اس کو جھوٹ اور فریب کی ہوا تیز کر رہی ہے۔ سچ بولو، ورنہ انجام خوفناک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں