409

ہمارا انتخاب کیا؟

تحریر:سعد اعوان (دندہ شاہ بلاول )

معزز قارعین ہمارا پیارا ملک پاکستان ۷۰ برس پہلے ہمارے بزرگوں کی لازوال قربانیوں کے بعدمعرض وجود میں آیا اس ملک کیلیے ہمارے آباٗواجداد نے ہر قسم کی قربانی دی اپنے گھر بار چھوڑے اولادیں قربان کیں ہماری ماوٗں بہنوں نے اپنی عزتیں گنوا کر ،ہمارے نوجوانوں نے اپنی جوانی کی قربانی دے کر، بچوں نے گردنیں کرپانوں پہ لٹکوا کر اس ملک عالی شان کی بنیادوں کو مضبوطی فراہم کی لیکن کیا پاکستان بننے کے بعد آنے والی نسلوں نے ان مضبوط بنیادوں کے اوپر کبھی مستحکم ملک کھڑا کرنے کی کوشش کی؟ کیا کبھی کسی نے اپنے ساتھ چھپے میر جعفر اور میر صادق کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے ہر فیصلہ میں ملک کے ساتھ مخلصی ہوتی لیکن انتہایٗ معزرت کے ساتھ ہماری قوم نے ہمیشہ وہی چنا جو اسکے اپنے مفاد میں تھا کہتے ہیں جمہوریت سے ملکی معیشت مضبوط ہونی چاہیے ادارے آزاد اور خود مختار ہونے چاہیءں ملک ترقی کی طرف جانا چاہیے لیکن کیا آپ کو ان میں سے ایک بھی چیز نظر آتی نہی نہ ؟ کیوں نظر نہی آتی کیوں کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کا مطلب سوئس بینکس بھرنا ، ملک سے باہر جائدادیں بنانا ، قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا ہے یہ سب کیوں کیا جاتا کیوں ہوتا ؟ کیونکہ ہماری قوم ووٹ دے کر حکمرانوں کو اس کام کی اجازت دیتی اور قوم ایسا کیوں کرتی کیونکہ قوم بھی کرپٹ اور بددیانت سسٹم کی مددگار ہے
کیا ناپ تول میں کمی کرنے والا چاہے گا کہ قانون ہو اور وہ ناپ تول میں کمی نہ کرسکے؟
کیا ایک چور چاہے گا کہ قانون کا بول بالا ہو اور اس کو پکڑا جاٰے؟کیا ایک بددیانت شخص چاہے گا کہ اسکے اوپر دیانت دار لوگ ہوں؟کیا ایک لٹیرا چاہے گا کہ وہ قانون کی پہنچ میں ہو؟کیا ایک ظالم چاہے گا صاف شفاف سسٹم ہو؟ ان سب کا جواب سب جانتے ہیں لیکن کوئی خود کو بدلنا نہی چاہتا
ہماری قوم برائیوں کی دلدل میں پھنس چکی یہ قوم اپنے جیسوں کا انتخاب نہ کرے تو اور کیا کرے
یہ تو اسلام میں بھی کہا گیا کہ جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران ہونگے تو حکمران جماعتوں کے چاہنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ قوم میں کوئی برائی نہی رہی اور ہمارا معاشرہ پر امن اور خوشحال ہوچکا ہر طرف سکون ہے سب جانتے ایسا نہی لیکن پھر بھی وہ دوبارہ ایسوں کو منتخب کردیتے جو بجائے انکے حق میں بولنے کے اپنے بینک بیلنس کیلیے بولتے نظر آتے
تو کیوں بار بار ایسا انتخاب کرتے نظر آتے ہیں آخر اس پاک سرزمیں کا بھی کچھ قرض ہے ہم پر وہ ادا کیوں نہیں کرتے اپنی قسمت خود برباد کرتے پانچ سال کے بعد اور اگلے پانچ سال پھر روتے نظر آتے ہر ایک کی زبان پر تو شکوہ نظر آتا لیکن پھر جب بات آتی انتخاب کی تو کہیں برادری چلتی تو کہیں گلی نالی کا شور کہیں بجلی کے کھمبے نظر آتے تو کہیں نوکریوں کے سہانے سپنے ۔آخر ہم خود کو ایک آزاد اور خود مختار کیوں نہی سمجھتے ؟ سالوں سے چلتی اس ذہنی غلامی کا طوق اتارنے کی جرات کیوں نہی کرتے ؟ وڈیروں اور جاگیرداروں کو مسیحا سمجھنے کے بجائے خود کو اس قابل کیوں نہی سمجھتے کہ ہم بھی اس قوم کے مسیحا بن سکتے ؟ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کا کیوں نہی سوچتے؟
ہم میں سبھی وہ خوبیاں ہیں جو قوموں کو اونچا مقام حاصل کرنے کیلیے چاہیے ہوتی ہیں لیکن ہم اپنی ان خوبیوں کو پہچانتے نہی ہم اپنے دشمن خود بنے ہوئے ہیں ہمیں سمجھنا ہوگا وگرنہ وقت تو کسی کیلیے نہی رکتا اپنا انتخاب درست کیجیے صادق اور امین لوگوں کو لایئے لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب پورا معاشرہ صادق اور امین کی عملی اور جامع تصویر ہوگا ہمیشہ درست انتخاب ہی کامیابی کی ضمانت ہوتا آج آپکا درست انتخاب آپکے کل کی کامیابی کی نوید ہوگا ان شاء اللہ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں