384

بابائے سیاست کا آخری پھیرا۔۔۔۔ پی ٹی آئی کی شکست……….تحریر..محبوب حسین جراح

عکس حقیقت
0333592523

ملکی معاملات ،حکومت کے نشیب و فراز، جہانداری اور جہاں بانی آئین و قوانین کو عرف عام میں سیاست کہا جاتا ہے ۔جس طرح شرف انسانی کی تکمیل کے لئے علم کا جاننا ضروری ہے اسی طرح علمی اور نظری کے رموز سے آگاہ ہونا اور ملک و ملت کی بھلائی کے لئے سیاست میں حصہ لینا بہت اہم ہے لیکن اس کے لئے فکر و نظر کی پختگی اور آزمودہ کاری شرط ہے ۔ سیاست خدمت خلق کے ساتھ ساتھ عبادت بھی ہے دنیا میں سیاست ایک عبادت سمجھ کر کی جاتی ہے ۔سیاست کانٹوں کی سیج ہے کانٹوں کی اس سیج پر چلنے والے شخص کو عوام الناس سیاست دان کہتی ہے جو عوام الناس کے لئے اپنا سکون اپنا سکھ چین قربان کرکے ان کی خدمت میں دن رات لگا رہتا ہے ۔ سیاست دان ایک ایسی شخصیت ہوتی ہے جو ملکی اور بین الصوبائی حالات وواقعات پر گہری نظر ہوتی ہے اپنے سیاسی بصیرت کی وجہ سے اسے علاقے بھر میں معتبر مانا جاتا ہے ۔لیکن پاکستان میں سیاستدانوں کے لئے سیاست کڑوی گولی کا درجہ رکھتی ہے اور خصوصاًآج کل کے دور کی سیاست تو لوہے کے چنے ہیں اسے وہی چبا سکتا ہے جو ہر حالات کا ماہرانہ انداز میں مقابلہ کرسکے ۔ ضلع چکوال کی سیاست میں بڑے بڑے نام ہو گذرے ہیں جنہوں نے سیاست کو عبادت سمجھ کر علاقے کی عوام کے لئے اپنی زندگیاں گذار دیں ۔تلہ گنگ کی بات کریں تو یہاں بھی بڑی نامور شخصیات نے عوام الناس کے مسائل کے حل کے لئے اپنی زندگی کی بہترین بہاریں صرف کردیں ایسی ہی شخصیات میں ملک سلیم اقبال بھی ہیں جنہوں نے جب سے سیاست میں قدم رکھا اللہ کی خاص رحمت کے بدولت سیاست کی بلندیوں کو چھوا۔ان کی سیاست ایسے چمکتے سورج کی طرح ہے جس کو کبھی گرہن نہیں لگا ۔ضلع کونسل کے انتخابات اور میونسپل کمیٹی کے انتخابات میں سیاہ بادلوں نے ان کی سیاست کے چمکتے سورج کی روشنی کو وقتی طور پر ماند کردیا تھا لیکن جو حقیقی سیاست دان ہوتا ہے وہ ان سیاہ گھٹاو ں سے گھبراتے نہیں یہی وجہ تھی کہ وقتی طور اپنے دوستوں کی ناسمجھی کی وجہ سے انہیں میونسپل کمیٹیوں کی چیرمین شپ سے ہاتھ دھونا پڑا ان کے مخالفین اپنی اس کامیابی کے شادیانے بجائے لیکن ملک سلیم اقبال جیسے منجھے ہوئے سیاست دان نے اس عارضی شکست پر دلبرداشتہ ہونے کے بجائے اپنی شکست کے اسباب پر کام کیا اور پھر سے اپنے دوستوں میں غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کی وجہ سے مسلم لیگ نون اس علاقے کی ایک بار پھر واحد جماعت بنانے میں کامیاب ہوگئے سخت ترین حالات ،مذہبی عنصر اور دیگر معاملات کے باوجود انہوں نے اپنے نواسے ملک شہریار اعوان کو ضمنی الیکشن میں جتوایا اور اس کے بعد ق لیگ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ساتھ ملانا یہ ان کی شخصیت کا کمال ہے ان کے مخالفین عارضی کامیابی پر خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے وہ جو یہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے ملک سلیم اقبال کے سیاسی سورج کو غروب کردیا ہے یہ ان کی بھو ل تھی حقیقی سیاست دان کبھی بھی کامیابی اور ناکامی پر غفلت کی نیند نہیں سوتا وہ مسلسل سیاست کے میدان میں مصروف عمل رہتاہے ۔ ان سیاسی مخالفین کو اب اپنے کارکنوں کو سنبھالنا مشکل ہورہا ہے ۔ایسا کیوں ہو رہاہے کیا یہ ملک سلیم اقبال کی سیاسی چال ہے یایہ سیاسی کارکن اپنے سیاسی مستقبل سے مایوس ہوکر اپنے ٹھکانے بدل رہے ہیں ۔ یہ ان کے سیاسی لیڈر کو ضرور سوچنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جن ساتھیوں کی وجہ سے انہیں عروج ملا آج وہی ساتھی اپنے قائد کو چھوڑ کر ملک سلیم اقبال کے ہاتھوں میں بعیت کررہے ہیں ۔ملک سلیم اقبال کی یہ خوبی ہے کہ وہ ہر وقت اپنے حلقے میں موجود رہتے ہیں ہر وقت اپنے دوست احباب کے ساتھ ان کا رابطہ رہتا ہے ان کی غمی و خوشی میں خود شریک ہوتے ہیں کبھی بھی انہوں نے اپنا نمائندہ نہیں بھیجا طبع ناسازی اور عمر کے ایسے حصے میں پہنچنے کے باوجود انہوں نے عوام کے ساتھ رابطے میں کبھی بھی غفلت نہ کی ۔انکے مخالفین ان کی طویل ترین حکمرانی سے نالاں تو نظر آتے ہیں لیکن ان کو شکست دیدنا انکے بس کی بات نہیں ۔اس لئے ایک بات واضع نظر آرہی ہے کہ بابائے سیاست اپنے سیاسی مخالفین کی نیندیں اڑاتے ہوئے اپنے سیاسی کیرئیر کی آخری اننگز کو یادگار بنارہے ہیں ۔
لودھراں میں پی ٹی آئی کی شکست اور مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے ساتھ اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ اب پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ عمران خان کے سیاسی زوال کے سفر کا آغاز ہوگیا ہے اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کی خواہش مستقبل قریب میں پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔لودھراں این اے 154 جہاں سے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء اور عمران خان کے قریبی اور پراعتماد ساتھی جہانگیر خان ترین جیتتے آ رہے تھے اور یہ حلقہ ان کا گڑھ بھی کہلاتا تھا جہاں سے وہ بھاری اکثریت سے جیتے بھی ہیں اسی لئے ان کی نااہلی کے بعد عمران خان نے ان کے بیٹے علی خان ترین کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا اور اس بات کی بھرپور توقع تھی کہ علی خان ترین اپنے والد کی طرح بھاری اکثریت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو جائیں گے کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے ان کے مقابلے میں کوئی زیادہ مضبوط امیدوار کو کھڑا نہیں کیا تھا۔مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد اقبال شاہ علی خان ترین کے مقابلے میں خاصے کمزور امیدوار تھے لیکن ان کی کامیابی نے یہ بات ثابت کر دی کہ ان کو ووٹ پارٹی اور نواز شریف کے نام پر ملے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انہیں ووٹ تحریک انصاف اور ترین خاندان کی ناقص کارکردگی کے باعث ملے ہیں عوام نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے عوام نے دھرنا اور ناچ گانا کلچر کو یکسر مسترد کردیا ہے عمران خان جو موروثی اور جاگیر دارانہ سیاست کے خاتمے کا علم نکلے تھے لیکن انہوں نے دوسری جماعتوں کی مسترد شدہ شخصیات کو اپنی پارٹی کا لیڈر بنا کراپنی اصل سیاسی قوت نوجوان نسل کو سائیڈ پر کردیا جس کی وجہ سے نوجوان نسل بھی اب ان کی پالیسیوں سے نالاں نظر آرہی ہے دوسرا عمران خان کی شریف خاندان سے سیاسی مخالفت رویے سے بڑھ کر اس خاندان کے ساتھ دشمنی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے وہ بااصول سیاست کے بجائے بے اصولی سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے زرداری اور ڈاکٹر طاہر القادری کی گاڑی میں سوار ی نے بھی ان کی سیاسی کیرئیر کو داووپر لگا دیا۔لو دھراں میں پی ٹی آئی کی ناکامی نے عمران خان کے سیاسی کیریئر پر بھی بہت سارے سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا اب عمران خان کا مستقبل کیا ہوگا۔ پی ٹی آئی کی ناکامی اس بات کی بھی غمازی ہے کہ عمران خان عوام میں تیزی سے مقبولیت کھوتے جا رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ مزید بڑھا تو عمران خان کے وزیراعظم بننے کا خواب فی الوقت اور مستقبل قریب میں پورا ہونا نہایت مشکل ہے۔لودھراں میں پی ٹی آئی کی ناکامی آئندہ ہونے والے تمام انتخابات میں بھی پی ٹی آئی اور عمران خان کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گی اور ان کی انتخابات میں کامیابی کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں