226

صدیق آباد یا جہاز چوک۔… امیر احسان اللہ چینجی۔

گزشتہ روز خلاف معمول پرانے صدیق آباد اور نئے جہاز چوک پر حال ہی میں نصب کئے گئے جہاز پہ غور کیا یقین مانیۓ انتہائی افسوس ہوا۔ایئر مارشل نورخان کے سنہری کارناموں کو محفوظ بنانے اور خراج تحسین پیش کرنے کے لئے نصب گیا گیا جنگی جہاز تہہ در تہہ مٹی میں لپٹا اپنے اصلی رنگ سے مکمل ناواقف ہوچکا تھا۔ نچلے حصے جہاں گردوغبار کا مسکن قدرے کم تھا پتہ دیتا کہ اصل رنگ یہ تھا۔ تین اطراف سے گزرتی گاڑیاں دھول مٹی جہاز کے نام کرکے آگے بڑھ جاتی ہیں۔ اگر ہم ماضی کی ورق گردانی کریں تو تلہ گنگ کی دھرتی کا یہ عظیم بیٹا جسے دنیا ایئر مارشل نورخان کے نام سے نہ صرف جانتی بلکہ مانتی بھی ہے۔ جس نے دشمن پرلپٹ جھپٹ کر نہ صرف پاک افواج کام نام روشن کیا بلکہ سرزمین تلہ گنگ کے بچے بچے کا سر فخرسے بلند کیا۔اس مرد مجاہد نے فضاؤں کو چیر کر دشمن کو ناکوں چنے چبائے اور جرات و شجاعت کی مثالیں قائم کیں۔ میں ان کی بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ایک دفعہ پاک فضائیہ میں اپنے دوست کے ہاں مہمان بنا تو دیکھا کہ کچھ فوجی جوان صاف ستھرے چمکتے دمکتے جہازوں کو نہلا دھلا کر یوں صاف کررہے تھے جیسے ان میں اپنی شکلیں دیکھنی ہوں ۔ میں نے استفسار کیا تو پتہ چلا کہ یہ صفائی پاک افواج کی معمول کی کارروائی ہے۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ جس طرح فوجی جوان صفائی کررہے ہیں نصف نصف کرتے ان کا ایمان پورا ہوجاتا ہوگا۔ وہ فوجی جوان جو صفائی سے لیکر سینے پر گولی کھانے تک پاک دشمنوں کی ہر سازش کو ناکام بنانے میں شب و روز کوشاں ہیں۔جو پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کے مقابلے میں اپنے خون کی قربانی دیتے ہیں۔جو سروں پر کفن باندھ کر اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے دشمنان پاکستان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ جن کی بدولت ہم رات کو میٹھی نیند سوتے ہیں۔جن کی بدولت پاکستان قائم و دائم ہے اور انشااللہ رہے گا۔ لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے کچھ نام نہاد سیاست دان ان پر آوازے کستے ہیں۔ بات جہاز چوک پہ نصب جہاز پر رقصاں مٹی کی ہو رہی تھی لیکن شائد فوجی اداروں سے ہٹ کر صفائی کو اتنی اہمیت حاصل نہیں۔ یا شائد تلہ گنگ انتظامیہ کی توجہ اس طرف نہیں دلائی گئی اور ویسے بھی سو بیماریاں ہیں اور انار ایک آدھ ہی ہوتا ہے۔ اب انتظامیہ بے چاری بھی کہاں کہاں توجہ دے میونسپل کمیٹی تلہ گنگ کے بیشتر ملازمین کسی افسر یا سیاسی شخصیت کے گھروں میں صفائی ستھرائی پر لگے ہونگے۔ ان کی حاضری دفتر مگر کام وڈیروں کے ڈیروں پر ہوتا ہے۔ لے دے کے تلہ گنگ کا ایک ہی ڈھنگ کا چوک ہے لیکن جہاز پر مٹی اور جنگلے کے باہر تینوں اطراف کوڑے اور غلاظت کے ڈھیر دیکھ کر اب تو ڈھٹائی کی وجہ سے شرم بھی نہیں آتی۔ سامنے دو پرائیویٹ ہسپتال ہیں جہاں مریضوں کا علاج چل رہا ہوتا ہے اور مریض جس سو آئے غلاظت کے ان ڈھیروں کو عبور کرکے ہی ہسپتال پہنچ پاتا ہے۔ مگر کیا کریں فریاد کس سے کریں ایسے معاملات کو اجاگر کریں تو بیسیوں فون کالز آتی ہیں اور دوستوں کے توسط سے پیغام آتے کہ اداروں اور ذمہ داروں کو نیند سے نہ جگایا جائے مگرنیند کی بھی کوئی حد ہوتی ہے جوکہ تلہ گنگ میں نہیں ہے۔ یہ جہاز ایک تاریخ ساز شخصیت کے نام سے موسوم ہونے کے باوجود اپنی حالت پہ ماتم کناں ہے۔ یقین کرلیں کہ ہمارے احساس مردہ ہوچکے ہیں ورنہ وراثت میں ملے اس عظیم ورثے کی یوں تذلیل نہ ہوتی۔ کاش ہماری انتظامیہ اس جہاز کو فوجی جوانوں کی طرح نہلا دھلا کر چمکا دیتی۔ کم از کم مہینے میں ایک بار ہی سہی۔ یا پھر انتظامیہ باران رحمت کے لئے اجتماعی دعا ہی کا اہتمام کرا دے تاکہ بارش سے ان کی بے حسی پہ پردہ پڑا رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں