266

چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس پچنند……..تحریر.محبوب حسین جراح.

عکسِ حقیقت
03335925253

عقیدہ ختم نبوت امت مسلمہ کا بنیادی اور اجماعی عقیدہ ہے ۔جس پر امت مسلمہ کی وحدت اور بقاء کا دارومدار ہے اس لئے نبی بدل جانے سے نہ صرف وفاداری کا مرکز تبدیل ہو جاتا ہے بلکہ امت کا تسلسل اور اس کی وحدت کا مرکز بھی تبدیل ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی نبوت کے بعد اس سلسلے کو ختم کردیا چونکہ نبی اکرم ﷺ کی نبوت اور وحی کی مدت قیامت تک پوری نسل انسانی کے لئے ہے اس لئے اس ابدیت اوروسعت کے تحفظ کا تقاضا تھاکہ حضرت محمد مصطفے ﷺکے بعد نبوت اور وحی کی مدت قیامت تک پوری نسل انسانی کے لئے محفوظ کردیا جائے تاکہ حضور ﷺ کے بعد کسی کو کوئی نبوت دی جائے گی اورنہ ہی کوئی وحی آئی گی چنانچہ اللہ رب العزت نے جناب حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری کے ساتھ ہی نبوت کا دروازہ بھی بند کردیا رسول اکرم ﷺ نے دوٹوک اعلان فرما دیا کہ میرے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا اور نہ کوئی وحی نازل ہوگی ۔ البتہ نبوت کے جھوٹے دعویدار ہر دور میں اٹھیں گے جو مکروفریب کے ذریعے معصوم مسلمانوں کو گمراہ کریں گے یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کے وصال کے بعد آج تک سینکڑوں جھوٹے نبیوں نے اپنے دجل و فریب کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا لیکن دنیا سے نامراد لوٹتے رہے انہی میں آج کے دور میں مرزا غلام احمد قادیانی ہے جس نے کم و بیش ایک صدی پہلے پنجاب کے علاقے قادیان میں اپنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اس نے پہلے مہدی،پھر مسیح موعود اور پھر نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اسے نبوت دی گئی ہے اس پر وحی نازل ہورہی ہیں ۔مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی اس جھوٹی نبوت پر کہا کہ میری نبوت کو نہ ماننے والا وہ نجات اور فلاح نہیں پائے گا مرزا غلام احمد قادیانی کے اس دعویٰ پر امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء اکرام نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور عقیدہ ختم نبوت اور دیگر مسلمہ اسلامی عقائد سے انحراف و ارتداد کے باعث دائرہ اسلام سے خارج اور ایک نئے مذہب کے پیروکار ہیں لیکن مرزا کے پیروکاروں کی یہ ضد ،ہٹ دھرمی قائم ہے کہ وہ نئی نبوت ووحی پر ایمان لانے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو آئندہ تمام انسانوں کے لئے نجات دہندہ قرار دینے کے باوجود وہ مسلمان ہیں بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ مرزا پر ایمان نہ لانے والے دنیا بھر کے مسلمان (نعوذ باللہ)کافر ہیں ۔ امت مسلمہ میں پھوٹ ڈالنے والے اس مذہب کو ماننے والوں کو دنیائے اسلام کے تمام علمی و دینی حلقوں نے متفقہ طور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا اس پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے بھٹو دورمیں1974ء میں دستور پاکستان میں ترمیم کرکے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا اس طرح مرزا قادیانی کے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر امت مسلمہ کے اس اجماعی فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کردی جبکہ 1984ء میں صدر جنرل ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں کو اپنے مذہب کے پرچار کے لئے اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی اصطلاحات اور شعائر کے استعمال سے روکتے ہوئے اسے قانونی جرم قرار دے دیا ۔اس طرح قادیانی اب نہ اسلام کا نام استعمال کرسکیں گے اور نہ ہی وہ اسلامی شعائر استعمال کرسکیں گے ۔ اس ترمیم کے بعد یہ آئین پاکستان کا حصہ بن چکا ہے جو کہ دنیا بھر کے غیور مسلمانوں کے دینی جذبات کی عکاسی کرتا ہے مگر قادیانی گروہ نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے قومی اور بین القوامی سطح پر مسلسل سازشیں کررہاہے اور عالمی استعمار جس نے اپنی وسیع ترمفاد کے لئے اس فتنے کوابھارا تھا کو ہر سطح پر اس فتنہ کی پشت پناہی کررہا ہے ۔مغربی طاقتیں تواتراس کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ وہ قادیانیوں کو مسلمان کادرجہ دلوا سکیں اس کے لئے وہ پاکستان کی حکومتوں پر مختلف انداز میں دباو ڈالتے رہتے ہیں تاکہ یہ فتنہ پرور گروہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کے دلوں میں حضور ﷺ کی محبت کو،آن کو، ناموس کو ختم کرسکیں ۔اس پس منظر میں پاکستان میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں میں اضافہ ہورہا ہے ،مقتدر حلقوں میں چھپے ہوئے دین دشمن اور لادین عناصر ان کی پشت پناہی کررہے ہیں ۔اس کے لئے سیکولر لابی نے حال ہی میں قومی اسمبلی اور سینٹ سے حلف نامہ میں 7C,7Bکو ختم کرنے کی مذموم کوشش کو علماء اور عوام نے بھرپور احتجاج کرکے کامیاب نہیں ہونے دیا۔اس طرح ایک بار قوم نے مل کر اس فتنے کو اپنے دائرہ میں رہنے پر مجبور کردیا ۔قادیانیوں نے جہاں پاکستان بھر کے علاقے میں اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں ایسے ہی تحصیل لاوہ کے علاقے پچنندمیں بھی اپنی گمراہ کن سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھیں جہاں اس علاقے کے ایک فوجی نے انگریز دور میں 1914ء میں پہلے جنگ عظیم میں مرتد ہوکر قادیانیت قبول کی تھی اس شخص کی علاقے میں گمراہ کن سرگرمیوں نے کئی مسلمانوں کو مرتد کردیا علا قے میں اس فتنے کی آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے قادیانیوں نے اسلامی شعائر کو کھلم کھلا استعمال جاری رکھاہوا تھا۔اپنی عبادت گاہپر مینار و محراب بنا کر مسجد کا نام دیا ہوا تھامسلمان ووٹ لسٹوں میں ان کے نام درج تھے 1958ء میں علماء حضرات کو اس علاقے میں فتنے کاپتہ چلا جس پر شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے اس وقت یہاں آکر لوگوں کو انکے عقائد بتائے پھر مجلس احرار کے سید عطااللہ شاہ بخاریؒ کے صاحبزادے سید عطاالمحسن نے 1969ء کو اس علاقے میں دورہ کیااور لوگوں کوفتنے کے بارے میں آگاہ کیاچونکہ اس وقت اس فتنے میں علاقے کی بااثر شخصیات نے مرزا قادیانیت کی بیعت کرلی اور 80مردوزن گمراہ ہوکر اسلام جیسے پاکیزہ مذہب کو چھوڑ کر جھوٹے نبی کے جھوٹے دین کو اپنا لیاجھوٹے دین کے بارے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگ ان کیساتھ اٹھنا بیٹھنا،کھانا پینا،لین دین حتیٰ کہ اپنے بچوں کی شادیاں بھی کی ہوئی تھیں مسلمان اور قادیانی ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہوتے تھے اس وجہ سے مسلمان ان لوگوں سے کنارہ کش ہونے میں تذبذب کا شکار تھے لیکن جب قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں عروج پر ہوئیں تو مقامی نوجوانوں کی فکرنے اس فتنے کو لگام دینے کی سوجی جس پر انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تلہ گنگ کے امیر مولانا عبیدالرحمان سے رابطہ کرکے انہیں حالات سے آگاہ کیاجس پر علماء حضرات نے اس علاقے کا دورہ کرکے یہ طے کیا کہ ہرسال یہاں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جائے تاکہ عوام الناس کو اس فتنے سے بچایا جاسکے اس سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاوہ اور تلہ گنگ باڈیزکے علماء اور کارکنان نے بھرپور آگاہی مہم کے لئے 2011ء میں پچنند میں پہلی ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جس میں ملک بھر کے جید علماء کے علاوہ علاقہ بھر کی عوام نے بھی بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنے ایمان کو تازہ کیا اور قادیانیوں کے عقائد جانے ۔ اس کانفرنس کی کامیاب انعقادکے بعد علاقے کی عوام میں اس فتنے کے بارے میں شعور پیدا ہونا شروع ہوگیا اس کانفرنس کی بدولت اللہ کے فضل و کرم سے قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہ پر جس پر مینار و محراب بنا رکھے تھے ایک عدالتی حکم پر انتظامیہ نے مسمار کردئیے۔اسی طرح حضورﷺ کے نام نسبت انہوں نے صلیٰ وعلیہ وسلم اپنی عبادت گاہ کی دیوار پر لکھا ہوا تھا وہ مٹا دیا گیا۔ان کے نام مسلمان ووٹر لسٹ سے نکال دیا گیا کئی مسلمان ان کے بھکاوے میں آکرسچے دین کو چھوڑ گئے اللہ کے فضل و کرم سے دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں ۔ہر سال کی طرح اس سال بھی انشاء اللہ 25فروری بروز اتوار دن 12بجے بھرپور چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو گی ۔اس کانفرس کا مقصد قادیانیوں کے عقائد سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہی نہیں بلکہ قادیانیوں کو بھی دعوت وتبلیغ دینا مقصود ہے کہ مسلمانوں کی آپ کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں آپ جب ملک پاکستان میں ہمارے نبی آخر الزمان ﷺ کی نبوت پر ان کی ناموس کے ،اس ملک کی اساس کے خلاف بات کریں گے تو مسلمان آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ۔قادیانی کمیونٹی سے اپیل ہے آئیں اپنے جھوٹے نبی کے جھوٹے دین کو چھوڑ کر اللہ کے سچے دین اور اللہ کے پیارے ،سچے نبی حضرت محمد نبی ﷺ کے پر ایمان لے آئیں انشاء اللہ اس ملک کے مسلمان آپ کو تحفظ دیں گے۔علاقہ بھر کے غیور مسلمانوں،علماء اکرام ،دینی کارکنوں سے اپیل ہے کہ وہ دینی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے اس عظیم ختم نبوت کانفرنس میں خود بھی شریک ہوں اور دوستوں کو بھی شرکت کی دعوت دیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اس کانفرنس کو کامیاب اور ہر اعتبار سے مقبول فرمائے ۔امت مسلمہ کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کا ذریعہ ، قادیانیوں کے لئے حضور ﷺ کے دامن سے وابستہ رہنے کا وسیلہ اور تمام عالم انسانیت کے لئے راہِ حق کی ہدایت و راہنمائی کا ذریعہ بنائے ۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں