178

کچھ لوگ ملک میں امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں وہ کسی بھی صورت امریکی غلامی قبول نہیں کریں گے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان

تلہ گنگ(نمائندہ بے نقاب)ملک میں موٹر وے بن تو رہی ہیں جن پر گاڑیاں رواں دواں بھی ہیں لیکن جمہوریت کی گاڑی گڑھوں کھڈوں والے روڈ پر چل رہی ہے

۔یہ بات جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عیدگاہ سرگودھا میں مفتی محمود کانفرنس میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب میں کہی انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ ملک میں امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں وہ کسی بھی صورت امریکی غلامی قبول نہیں کریں گے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کی جنگ اسلامی معیشت کے خلاف ہے۔پارلیمانی سیاست میں حکومتیں بنتی ٹوٹتی رہتی ہیں، جمہوریت مستحکم ہو جائے تو سازشی عناصر سیاست میں اضطراب پیدا کر دیتے ہیں، آج نواز شریف کی حکومت کے ساتھ بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے، جیلوں میں جانے والے سیاستدانوں کو کرپٹ کہا جاتا ہے ادارے احتساب کی آڑ میں سیاسی انتقام لے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کی گاڑی چلنے نہیں دی جا رہی، میاں نواز شریف کو تمام ادارے چور ثابت کرنا چاہتے ہیں، یہ رویہ ملک میں تصادم پیدا کر رہا ہے، قوم کے وسیع تر مفاد کیلئے سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے لئے آگے بڑھیں۔ مولانا فضل الرحمان نے عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والا خود لعنت کا مستحق ہے، وہ ملک میں غیر ملکی مفاد کے لئے کام کررہے ہیں۔ عوام عمران خان کے کردار کو سمجھ چکے ہیں، آنے والے وقت میں خیبر پختونخواہ میں بھی پی ٹی آئی کا صفایا ہو جائے گا، ماضی میں سیاسی مخالفین کو سیاسی قیدی بنایا جاتا تھا اب مخالفین پر کرپشن کا الزام لگا کر پوری دنیا میں بدنام کیا جاتاہے جس کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ عوام ہوش کے ناخن لیں اور متحد ہو جائیں۔ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے جس کے فیصلوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، پارلیمنٹ قانون ساز ادارہ ہے جس کا کام قانون بنانا ہے، عدلیہ کا کام اس پرعمل کرنا اور انتظامیہ کا اس پر عمل کرانا ہے۔کانفرنس سے ڈپٹی چیئر مین سینٹ مولانا عبدالغفور،قائم مقام جنرل سیکرٹری مولانا امجد خان ،امیر پنجاب مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمان،امیر آزاد کشمیر مولانا سعید یوسف،مجلس احرار کے نائب امیر مولانا سید کفیل شاہ نے بھی خطاب کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں