519

ضلع کی سیاست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر۔۔ محسن قیوم شیخ

محترم قارئین الیکشن کی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے پچھلے چالیس سالوں کے بقاجات کاموں کو مکمل کرنے کی ابتدا ہو چکی ہے سیاسی جوڑ توڑ بھی

عروج پر ہے مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی اپنے آپ کو مکمل فٹ سمجھ کر الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور اس لحاظ سے بھی پرامید ہیں کہ ن لیگ کا ٹکٹ ان کو ہی ملے گا لیکن قیاس ارائیاں یہ بھی ہیں کہ چکوال کے قومی حلقے میں سردارغلام عباس کیلے کوئی گنجائش موجود نہیں ہے جبکہ صوبائی حلقوں میں دونوں امیدوار سکہ بند تصور کئے جا رہء ہیں اس کی خاص وجہ یہ سامنے آرہی ہے کہ موجودہ صورتحال میں اراکین اسمبلی کو دئیے جانے والے فنڈز کی وجہ سے کسی کو سیٹ سے ہٹانے کا سوچ بھی نہیں سکتے بہرحال سردار غلام عباس تمام تر صورتحال کو باریکی سے دیکھ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ وقت بتائے گا لیکن باوثوق زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سردار غلام عباس تلہ گنگ کے حلقے این اے اور صوبائی حلقوں کی مکمل کنٹرول چاہتے ہیں جس میں ان کے تمام تر معاملات ملک سلیم اقبال سے طے بھی پا چکے ہیں قوی امید ہے کہ ملک سلیم اقبال پی پی22سے سردار ذولفقار دلہہ کے مقابلے میں الیکشن لڑ لیں جبکہ قومی پر سردار ممتاز خان ٹمن کو ریپلس کر کے سردار غلام عباس کو امیدوار بنایا جائے جبکہ سرادر ممتاز خان کی بہو کو خواتین کی مخصوص نشستوں پر بنایا جائے جبکہ پی پی 23پر ملک شہریار اعوان مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں مسلم لیگ ق کی جانب سے این اے پر چوہدری پرویز الہی جبکہ پی پی 22پر حافظ عمار یاسر اگر ملک سلیم اقبال پی پی 22امیدوار آئے بصورت دیگر حافظ عمار پی پی 23میں بھی الیکشن کیلے تیار ہیں پی ٹی ائی سے ایڈجسمنٹ پر این اے پر چوہدری پرویز الہی جبکہ دونوں صوبائی پی ٹی آئی کو دئیے جانے کا امکان ہے ۔ملک سلیم اقبال اور سردار غلام عباس میں ہونے والی ملاقات میں طے کیا گیا ہے کہ میجرطاہر اقبال اور سردار زولفقار دلہہ کیلے محاز خالی نہیں چھوڑا جائے گا اگر سردار غلام عباس خان کا ن لیگ کی اعلی قیادت سے کسی بھی سیٹ پر ایڈجسمنٹ ہو جا تی ہے تو مسلم لیگ ن کیلے حوصلہ افزا ہے لیکن سنے میں آ رہا ہے کہ پنچھی اپنی پرانی اڑان بھرنے کو تیار ہیں جس کیلے ماحول تیار کیا جا رہا ہے 2013کے الیکشن میں بھی سردار غلام عباس نے عین اس وقت اکر مسلم لیگ ق کے ساتھ الیکشن لڑنے کی حامی بھری جب سب دروازے بند تھے اور حافظ عمار یاسر بلکل پی پی22پر تیار تھے لیکن کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ق کے حافظ عمار یاسر اگر ن لیگ کے خلاف الیکشن لڑتے ہیں تو ن لیگ کیلے پریشانی بڑھا سکتے ہیں جبکہ بعص کا خیال ہے کہ حافظ عمار یاسر الیکشن میں حصہ نہیں لے گے اگرچہ حافظ عمار یاسر الیکشن میں نہیں آتے تو ق لیگ کو الیکشن میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی ۔پی ٹی ائی چکوال کے صدر سردار منصور حیات ٹمن کیلے کافی چیلنج موجود ہیں کیونکہ اگر مسلم لیگ ق اور پی ٹی ائی میں ایڈجسمنٹ ہوتی ہے تو سردار منصور حیات باغی ہو کر الیکشن لڑیں گے اور اپوزیشن کیلے ٹف ٹائم دے گے کیونکہ انکے دس سے پندرہ ہزار ووٹ ن لیگ کیلے فائدہ مند ہو گے بہرحال ضلع تلہ گنگ اورسابق وزیراعظم نواز شریف کے وعدوں کو عوام نے دل پر لیا ہوا ہے اب وہ ن لیگ کے ساتھ الیکشن میں کیا کرتے ہیں یہ وقت بتائے گا لاوہ میں ن لیگ کی طرف سے لاوہ کو نظر انداز کیا جانا بھی ن لیگ کو لاوہ سے زبردست سیٹ بیک کر سکتا ہے جبکہ زرائع سے معلوم ہو ا ہے کہ لاوہ سے تین سے چار امیدوار تیار ہیں عوام کیا فیصلہ کرتی ہے یہ وقت بتائے گا اس سے قبل 2002میں جنرل پرویز مشرف کی نگرانی میں ہونے والے عام انتخابات میں حلقہ این اے ساٹھ اور پی پی21کا الیکشن فتح کے مارجن کے حوالے سے اب تک ہونیو الے تمام الیکشن میں سب سے دلچسپ تھا۔ مسلم لیگ ق کے ملک تنویر اسلم سیتھی نے مسلم لیگ ن کے پیر شوکت حسین کرولی کو صرف 114ووٹوں کے مارجن سے شکست دی تھی۔ اس دن قومی اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن ایک ہی دن ہوا تھا۔ مسلم لیگ ق کو فوجی جنتا کی مکمل حمایت حاصل تھی اور تمام ریاستی اور سرکاری وسائل کے علاوہ 2001میں بنائی جانے والی ضلعی حکومتیں اور اس کے تمام فنڈز بھی مسلم لیگ ق کے امیدواروں کیلئے موجود تھے۔ جونہی انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے قومی اسمبلی کی نشست پر مقابلہ مسلم لیگ ق کے میجر طاہر اقبال اور مسلم لیگ ن کے ایاز امیر کے درمیان تھا۔ متحدہ مجلس عمل کی طرف سے صاحبزادہ ناصر جمیل ہاشمی بڑے بھرپور انداز میں میدان میں اترے تھے ۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے سردار خرم نواب امیدوار تھے۔ صاحبزادہ ناصر جمیل ہاشمی نے 18000جبکہ سردار خرم نواب نے 43ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔ مسلم لیگ ق کے میجر طاہر اقبال 72ہزار ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے جبکہ ایاز امیر 70500 ووٹ حاصل کر سکے تھے۔ جونہی انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مقابلہ انتہائی کانٹے دار تھا یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حلقہ پی پی20پر مسلم لیگ ق کے چوہدری اعجاز فرحت کا مقابلہ مسلم لیگ ن کی بیگم عفت لیاقت کیساتھ تھا جبکہ متحدہ مجلس عمل کی طرف سے قاضی عبدالقیوم اور پیپلز پارٹی کی طرف سے سابق سیشن جج ملک نذیر اعوان میدان میں تھے۔ پیر شوکت حسین کرولی ابتداء ہی سے ملک تنویر اسلم سیتھی پر واضح برتری حاصل کیے ہوئے تھے۔ جبکہ حلقہ این اے ساٹھ میں میجر طاہر اقبال شروع سے ہی ایاز امیر کے مقابلے میں ایک ہزار اور 1200کے مارجن سے آگے تھے اور صبح سوا پانچ بجے تک یہ صورتحال برقرار تھی۔ جبکہ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے سول ریسٹ ہاؤس میں بھی پاک فوج کے نمائندے انتخابی نتائج وصول کر رہے تھے۔ میجر طاہر اقبال 1500ووٹوں سے فتح یاب ہیں حالانکہ صبح چھ بجے میجر طاہر اقبال کے کیمپ میں ان کے حامی کارکن مایوس ہوکر گھروں کو چلے گئے تھے کہ ان کو شکست ہوگئی ہے۔ ایک دم نتیجے کا اعلان ہوا تو واپس آگئے۔ چوہدری اعجاز فرحت ساڑھے پانچ ہزار ووٹوں سے کامیا ب قرار پاتے ہیں حالانکہ صبح چھ بجے بیگم عفت لیاقت کے حامی اپنی کامیابی کا جشن منا کر واپس گھروں کو چلے گئے تھے او رپھر حلقہ پی پی21کے ملک تنویر اسلم سیتھی صرف114ووٹوں سے کامیاب قرار پاتے ہیں حالانکہ قصبہ کرولی میں پیر شوکت حسین شاہ بھی اپنی کامیابی کا جشن منا کر سوئے ہوئے تھے لیکن نتیجہ سب کی امیدوں کے برخلاف آیا لہذا اس امدہ الیکشن میں بھی کوئی بڑا اپ سیٹ آ سکتا ہے اسی کے ساتھ اللہ حافظ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں