247

نیشنل پارٹی ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی ۔ رہنما حسنین ملک

تلہ گنگ (نمائندہ بے نقاب) نیشنل پارٹی تلہ گنگ محکوم طبقات کو منظم کرتے ہوئے ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی ان خیالا ت کا اظہار نیشنل پارٹی تلہ گنگ کے رہنما حسنین ملک نے تلہ گنگ سٹی کی کابینہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کی بڑی اور

پاپولر سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ میں وہی جاگیردار طبقہ بیٹھا ہوا ہے جو قیام پاکستان سے پہلے ہی سفید و سیاہ کا مالک تھا اور آج بھی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ طبقہ نہ تو لینڈز ریفارمز ہونے دیتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا قانون بننے دیتا ہے جس سے عام آدمی کا بھلا ہو یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک شخص ہزاروں ایکڑ زمینوں کا مالک ہو جبکہ دوسرے فرد کے پاس اپنی قبر کیلئے بھی زمین نہ ہو ایک شخص کے دستر خوان پر ایک وقت میں درجنوں ڈیشز سجی ہوں اور ان میں سے اکثر کھائے بغیر ڈیسٹ بن میں پھینک دی جاتی ہوں جبکہ دوسرے شخص کے پاس ایک وقت کے کھانے کیلئے بھی کچھ نہ ہو یہ قطعاً اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام نہیں ہے یہ جاگیرداروں اور سرمائیہ داروں کی ملی بھگت سے عوام پر مسلط کردہ ایک مکروہ نظام ہے جس میں عام آدمی کو ایدھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس میں عام آدمی کو ایند ھن کے طور پر استعمال کیا جار ہا ہے عام آدمی کو پسماندہ رکھنے کیلئے تلہ گنگ کیا پورے ضلع چکوال میں یونیورسٹی کو کجا ایک کیمپس تک نہیں بنایا گیا تا کہ عام لوگوں کو اعلیٰ تعلیم سے دور رکھا جا سکے جاگیردارانہ سوچ کا ایک اور شاخسانہ دیکھئے کہ آج سے 30 سال قبل ضلع چکوال کو دو قومی اور چار صوبائی حلقوں میں تقسیم کیا گیا آج آبادی دگنی ہو چکی ہے مگر حلقوں کی تعداد نہیں بڑھائی گئی کیونکہ ایسا کرنے سے مزید لوگوں کو شریک اقتدار کرنا پڑتا جوکہ اس طبقہ کے مفاد میں نہیں 2001 میں جنرل مشرف نے قومی اسمبلی کی سو نشستوں کا اضافہ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہر ضلع میں تقریبا ایک نشست مگر چکوال کو اس میں حصہ نہیں دیا گیا کیونکہ جاگیردار طبقہ نہیں چاہتا تھا آج اتنی ہی آبادی پر ڈیرہ اسماعیل خان میں صوبائی اسمبلی کے سات حلقے ہیں جبکہ چکوال میں چار کیا یہی انصاف ہے اگر انصاف ہے تو ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے میری نوجوانوں اور بلخصوص محکوم طبقات سے استداعا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنے حقوق کے حصول کیلئے نیشنل پارٹی کا حصہ بنیں تا کہ تلہ گنگ سمیت پورے پاکستان میں محکوم طبقات کو منظم کرتے ہوئے ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر سامنے لایا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں