247

سپریم کورٹ کے الیکشن ایکٹ 2017 پر فیصلے میں 99%، مڈل کلاس کو ریلیف نہیں ملا۔حسنین ملک

تلہ گنگ (نمائندہ بے نقاب)سپریم کورٹ کے الیکشن ایکٹ 2017 پر فیصلے میں 99%، مڈل کلاس کو ریلیف نہیں ملا، ان خیالا ت کا اظہار نیشنل پارٹی تلہ گنگ کے رہنما حسنین ملک نے ایک بیان میں کیا ،ان کا کہنا تھا کہ 2 مارچ 2018 آج سپریم کورٹ کا الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے. مختلف پارٹیوں کی طرف سے الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف متعدد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کیں گئیں. جنھوں نے نواز شریف کی اہلیت بطور پارٹی صدر چیلنج کیا. ایک درخواست نیشنل پارٹی نے بزریعہ صدر

پنجاب ایوب ملک دائر کی. جس میں سیکشن 202(2)، 61(1)، 132(3)،(b)،(c) کو پیٹیش نمبر cp. 47/2017 میں چیلنج کیا گیا. نیشنل پارٹی کا موقف تھا کہ الیکشن ایکٹ میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے فیس، 2000 اور 4000 ہزار سے بڑھا کر باالترتیب بڑھا کر, 20,000 اور 30000 کردی گئی ہے. اسی طرح الیکشن کے اخراجات کی حد 1500000 سے بڑھا کر 4000000 کردی گئی ہے. سیاسی جماعت بنانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے 2000 ممبران کی حد مقرر کر کے مزدوروں اور کسانوں کی سیاسی دھارے سے نکال دیا گیا ہے. سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کی فیس 2 لاکھ مقرر کرکے بہت ساری عوام دوست چھوٹی سیاسی جماعتوں کو سیاسی عمل سے باہر کردیا گیا ہے. مزید ضمانتی فیس کی ضبطگی کی جو حد مقرر کی گئی ہے اس سے غریب امیدواروں کو مالی نقصان ہوگا. نیشنل پارٹی کی یہ پٹیشن دیگر پٹیشن جو نواز شریف کی پارٹی صدارت کے خلاف کی گئیں تھیں کے ساتھ یکجا کیا گیا اور کیس چلا. توجہ طلب بات یہ ہے کہ پورے کیس میں ہمارے موقف کو سنا ہی نہیں گیا. اور نہ بحث ہوئی. جب فیصلہ آیا ہے تو اس میں نیشنل پارٹی کی درخواست کا بھی زکر ہے. مگر افسوس س کہنا پڑھتا ہے کہ فیصلہ میں مذکورہ نکات کو کؤئی لفٹ نہیں کرائی گئی اور اس طرح درخواست کو نمٹا دیا گیا. ہم سمجھتے ہیں کے اس فیصلے سے اشرافیہ کی اجارہ داری قائم رہے گی اور سیاست انھیں سرمایہ دار اور وڈیروں کے گھر کی لونڈی رہے گی. 99% مفلوک الحال عوام ملکی سیاست دور رہنے پر مجبور ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں