221

ختمِ نبوّت معاملہ اور راجہ ظفرالحق رپورٹ میں تاخیر کیوں ؟


ختمِ نبوّت معاملہ اور راجہ ظفرالحق رپورٹ میں تاخیر کیوں ؟
تحریر ۔ ڈاکٹرملِک شاہ نواز اعوان
محسنِ پاکستان بلکہ محسنِ عالمِ اسلام ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بجا فرمایا ہے ۔کہ ’’ختمِ نبوّت ﷺکے حلف نامہ کے مسائل پر حکومتی ایوانوں میں غلطی نہیں بد معاشی ہوئی ہے‘‘عقیدہ ختمِ نبوّت پر ہماری جان ،مال،عزت وآبرو سب کُچھ قربان ہے ‘‘تحریک انصاف کے راہنماء عمران خان نے کہا ہے کہ ختمِ نبوّت کے حوالے سے حکومتی ترمیم کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کا انتظار ہے اگر صحیح رپورٹ سامنے نہ آئی تو معاملہ بہت آگے تک جائے گا۔بلاشبہ بقول محسنِ پاکستان غلطی نہیں بدمعاشی ہوئی ہے اگر اِس بد معاشی پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اسمبلی کے فلور پر چیخ و پکار نہ کرتے اور صدائے احتجاج بُلند نہ کرتے تو شائد یہ معاملہ دبا دیا جاتا شیخ رشید احمدکے احتجاج کے بعد حکومتی اور دیگر جماعتوں کے ممبرانِ اسمبلی کو بھی ہوش آیا اور خوابِ غفلت سے بیدار ہوئے پھر غلامان مصطفیﷺ کے شدید ردِعمل میں حکومت کو حلف نامے کو اصل صورت میں لانے کی توفیق ہوئی لیکن پوری قوم کا یہ مطالبہ تھا کہ اِس بدمعاشی کے مُرتکب بد بو عناصر اور محرکین کا پتہ چلنا چاہئیے کہ گنبدِ خضرایٰ کے مکین تاجدارِ ختمِ نبوت رحمتِ دو عالم ﷺکی عزت و ناموس پر ڈاکہ ڈالنے کی کِس یا کِن بد بختوں نے ناپاک جسارت کی قوم کے مطالبے پر حکومت نے سینیٹر اور مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جِس نے اِس جُرم عظیم اور ناپاک جسارت کرنے والے مرتکبین و محریکین کی نشاندہی کرنی تھی ایک خبر کے مطابق اِس کمیٹی کی رپورٹ20دسمبر کو منظر عام پر آنا تھی لیکن ابھی تک رپورٹ شائع نہیں ہوئی پوری قوم اور عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ،عالمی مجلس احرار اِسلام سمیت دیگر دینی مذہبی جماعتیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ راجہ ظفرالحق کی کمیٹی کی رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائے لیکن ابھی تک مسلسل تاخیر برتی جا رہی ہے افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومتی ارکان سے تو کیا گِلہ حکومتی حلیف کا جمیعت علماء اسلام (ف) سمیت دیگر مذہبی ،سیاسی راہنما ء بھی پُراسرار خاموشی کا شکار ہیں جبکہ پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائے تاکہ اِس سازش اور بدمعاشی کے ذمہ داروں کا پتہ چل سکے ۔معروف کالم نویس اور سینئر صحافی راجہ شاہد رشید طراز ہیں کہ ’’میں نے سینٹر راجہ ظفر الحق سے رابطہ کیا تو راجہ صاحب فرمانے لگے کہ یہ کوئی حکومتی یا پارلیمنٹری کمیٹی نہیں ہے کمیٹی صدر مسلم لیگ(ن) میاں نواز شریف نے بنائی ہے اور کمیٹی یہ رپورٹ مکمل کرنے کے بعد صدر مسلم لیگ (ن) کو دینے کی پابند ہے میں نے عرض کیا کہ ذمہ داروں کا تعین کرنا بھی تو کمیٹی کی ذمہ داری ہو گی فرمانے لگے کہ کمیٹی کی زمہ داری یہ ہے کے اس سارے معاملے کی اصل حقیقت کیا ہے۔
چےئرمین کمیٹی سینٹر راجہ ظفر ا لحق نے اپنے دور وکالت میں ہمیشہ ختم نبوت کے حوالے سے قادیا نیو ں کے خلاف عدالتوں میں کیس لڑ ے ہیں اور عقیدہ ختم نبو ت کے ساتھ ان کی والہا نہ وابستگی ہر قسم کے شک و شبہ سے با لا تر ہے لیکن اب انکو امت مسلمہ کے انتہای اہم مسئلہ اور قوم کے درد کو محسوس کر نا چاہیئے مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز سے وابستگی اپنی جگہ لیکن اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیشی اور شافعِ محشر رحمتِ عالم تاجدارِ ختمِ نبوّت ﷺ کو بھی کل محشر میں منہ دکھانا ہے قوم مزید اِس معاملہ میں کسی قسم کے تساہل و تاخیر کو برداشت نہیں کریگی اب کمیٹی کی بلاتاخیر رپورٹ شائع ہونی چاہیئے اور اِس سازش کے مرتکب بد معاشوں کا پتہ چلنا چاہیئے حکومتی حلیف قائدِ جمیعت مولانا فضل الرحمان سمیت مذہبی سیاسی رہنماؤں کو بھی حکومت کی اتنی واضح قادیانیت نوازی کے بعد وزارتوں اور اقتدار کو لات مار دینی چاہیئے اِس موقع پر سیال شریف کے گدی نشین خواجہ حمیدالدین سیالوی نے جِس دینی حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے پوری قوم اُنکا خیر مقدم کرتی ہے اور جن ممبرانِ اسمبلی نے اپنے استعفے پیر صاحب کے ہاتھ پر رکھ کر دینی غیرت و حمیت کا ثبوت دیا ہے قوم اُنہیں خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے اور ساتھ ہی قومی اسمبلی میں موجود حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت مولانا غوث ہزارویؒ کے نام لیوا ؤ ں سے بھی یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ بھی گنبدِ خضرایٰ کے مکین تاجدارِ ختمِ نبو ت حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر وزارتوں اور عہدوں کو لات ماریں اور حکومتی قادیانیت نوازی کے بعد خدارا اپنا راستہ جُدا کریں ۔
دامنِ مصطفیٰ ﷺسے جو لپٹا یگانا ہو گیا ۔
جِس کے حضور ﷺ ہو گئے اُس کا زمانہ ہو گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں