298

دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر نئی حلقہ بندیوں نے حکمران جماعت کے پارلیمنٹرنیز کو شدید دباؤ میں لا کھڑا کر دیا ،قومی اسمبلی کے حلقوں میں پانچ پانچ یونین کونسلیں ادھر اوھر کر دی گئیں ۔

چکوال ( نمائندہ بے نقاب)دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر نئی حلقہ بندیوں نے حکمران جماعت کے پارلیمنٹرنیز کو شدید دباؤ میں لا کھڑا گیا ہے حالانکہ ان نئی حلقہ بندیوں میں سابقہ حلقہ 60کی علاقہ ونہار کی پانچ یونین کونسلوں کو سابق 61میں ڈالا گیا ہے اور نیلہ کی پانچ ، چھ یونین کونسلوں کو واپس سابقہ حلقہ این اے ساٹھ میں لگا دیا گیا ہے

دونوں قومی اسمبلی کے حلقوں میں پانچ پانچ یونین کونسلیں ادھر اوھر کی گئی ہیں جس سے پورے ضلع چکوال سیاسی بھونچال آگیا ہے ۔ سب سے زیادہ متاثرین میں ایم پی اے سردار ذوالفقار علی خان دولہہ اور صوبائی وزیر تعمیرات ملک تنویر اسلم سیتھی ہیں جو گذشتہ 17سالوں سے ان حلقوں میں عوامی خدمت میں مصروف رہے ہیں اور سرکاری ترقیاتی فنڈز پر انہوں نے اچھے خاصے ہم خیال پیدا کر لیے ہیں حالانکہ ضلع چکوال مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ ہے اور ضلع چکوال میں ہولڈ میاں محمد نواز شریف کا ہے ، میاں نواز شریف جس کے سر پر ہاتھ رکھیں گے اس کی کامیابی یقینی ہے دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کی صفوں میں اطمینان دکھائی دیتا ہے اور وہ مسلم لیگ ن کے پارلیمنٹرنیز کی بے چینی اور تشویش پر خوب مزے لے رہے ہیں کیونکہ اس ہلکی اتھل پتھل سے مسلم لیگ ن کے اندر توڑ پھوڑ پیدا ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں سردار ذوالفقار دلہہ ایم پی اے چوہدری سلطان حیدر علی ایک حلقے میں آگئے ہیں ملک تنویر اسلم سیتھی اس حلقے میں چلے گئے ہیں جہاں پر پہلے ہی امیدواروں کا ہجوم ہیں جس میں ملک سلیم اقبال ، سردار آفتاب اکبرلائن میں لگے ہی ، تنویر اسلم سیتھی اور سردا ر ذوالفقار دلہہ دونوں حلقہ بندیوں کے خلاف احتجاج بھی کر رہے ہیں اور اپیلیں دائر کرنے کیلئے قانونی مشاورت بھی کر رہے ہیں ان نئی حلقہ بندیوں میں قانونی اور تکنیکی پہلو دکھائی نہیں دیتا نا تجربہ کار لوگوں نے پرانی حلقہ بندیوں پر کلہاڑا چلا دیا ہے عام انتخابات جولائی کے درمیان میں منعقد ہونے کے امکانات روشن ہیں اور پانچ مئی کو حلقہ بندیوں کا حتمی نوٹیفکیشن ہونے کے بعد الیکشن کمیشن عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں