306

افواج پاکستان،سی پیک اور گوادر کا آنکھوں دیکھا حال۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔۔۔محبوب حسین جراح۔۔03335925253


گزشتہ روزالحاج میاں عبدالقیوم غلہ منڈی والے کی جماعت کی نصرت کے سلسلے میں کراچی جانے کا اتفاق ہوا وہیں پروگرام گوادر جانے کا بھی بن گیا میرے ساتھ ہمسفر میرے بڑے بھائی اور بھتیجے تھے گوادر میں کوئی جان پہچان تو تھی نہیں ایک دوست کی وساطت تلہ گنگ شرق کے کونسلر معروف سماجی شخصیت صوبیدارملک عالم کھریال کے صاحبزادے ملک اسماعیل کھریال کا پتہ چلا کہ وہ گوادر میں پاک فوج میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں ان سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بڑی خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا جس سے حوصلہ ہوا کہ چلو کوئی اپنے علاقے کا بندہ وہاں موجود ہے بلدیہ کراچی یوسف گوٹھ اڈے سے بلوچستان کے شہروں کے لئے بڑی شاندار بسیں چلتی ہیں۔گوادر کے لئے صبح کے وقت بھی بسیں چلتی ہیں لیکن شام کے وقت زیادہ گاڑیاں نکلتی ہیں کرایہ عام گاڑی کا 500روپے جبکہ 1500روپے ٹکٹ والی گاڑی ڈائیو بسیں ہوتی ہیں جو انتہائی آرام دہ ہیں ۔یہ تمام بسیں آج کل رات ۸ بجے گوادر کے لئے روانہ ہو جاتی ہیں جو کوسٹل ہائی وے پر چلتی ہوئی صبح 6بجے تک پہنچ جاتی ہیں راستے میں کوسٹ گارڈ کی جگہ جگہ چیک پوسٹیں ہیں جہاں تعینات اہلکار معمول کی چیکنگ کررہے تھے ان کا رویہ انتہائی دو ستانہ تھا مقامی لوگوں کی عام چیکنگ ہورہی تھی لیکن پنجاب سے جانے والے مسافروں سے تفصیلاً پوچھ گچھ کی جاتی ہے آنے کا مقصد پوچھا جاتا ۔کوسٹ گارڈ ساحل سمندرسے لیکر 30کلومیٹر خشکی کے علاقے کی رکھوالی کرنے والی فورس ہے اس کا علاقہ پاکستان کاایران کی جانب آخری سرحدی علاقے جیونی تک کاہے یہی وجہ ہے کہ پوری کوسٹل ہائی وے کی نگرانی کوسٹ گارڈ کے نوجوانوں کے ذمہ ہے ۔کوسٹل ہائی وے کی حالت اب خستہ ہوگئی ہے کئی جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے FWOاب اس کی مرمت کررہی ہے ۔ساری رات سفر میں گذری صبح 8بجے گوادر پہنچ گئے۔گوادر سے کراچی جانی والی تمام مسافر بسوں پر ایرانی سامان جن میں ڈیزل ،پیٹرول ،کھانے پینے کی اشیاء فروٹ وغیرہ کی کھلے عام سمگلنگ جاری رہتی ہے ان بسوں کے چھت اور سیٹوں کے نیچے بڑے بڑے خانے بنے ہوتے ہیں جن میں یہ سامان لایا جاتا ہے ، بڑ ا خطرناک سفر ہوتا ہے خدا نخواستہ گاڑی کو حادثہ پیش آجائے توگاڑی کا آگ بھی لگ سکتی ہے ۔اس طرح کراچی سے گوادر جانی والی بسوں پر بھی فروٹ سبزی وغیرہ لائی جاتی ہے چونکہ گوادر ایک صحرائی علاقہ ہے ہر طرف ریت ہی ریت نظر آتی ہے اس لئے وہاں کوئی بھی فصل نہیں اگ سکتی اس لئے گوادر کا سارا انحصار ایرانی مصنوعات یا کراچی سے آنی والی اشیاء پر ہوتا ہے صبح گو ادر پہنچے تو ملک اسماعیل کھریال پہلے سے اڈے پر موجود تھے انہوں نے اپنی گاڑی میں بیٹھایا اور اپنے کیمپ لے گئے ۔فریش ہوئے تو ناشتہ آگیا اس دوران کوٹ سارنگ سے تعلق رکھنے والے محمد یونس بھی آگئے وہ بھی پاک فوج میں اپنی ڈیوٹی کے لئے وہاں تعینات ہیں بہت ہی اچھی طبعیت ہے مالک ہیں اس کے علاوہ جنڈ اٹک کے کلیم بھائی ،خوشاب کے بھائی بلال ، اور بھائی بشیر کو بھی جب پتہ چلا کہ علاقے سے مہمان آئے تو وہ سب ہم سے ملنے آئے گئے سب دوستوں نے انتہائی محبت کا اظہار کیا مجھے چونکہ وہاں کے حالات کا پتہ نہیں تھا جو تحفہ میں لیکر گیا تھا وہاں جا کر احساس ہوا کہ یہاں ان سب دوستوں کے لئے تحفے لاتا اللہ ان سب احباب کو حفظ و امان میں رکھے آمین۔ ناشتہ کرنے کے بعد ملک اسماعیل کھریال اور محمد یونس نے گوادر گھومانے کا پلان بتایا انہوں نے ہمارے لئے وی ایٹ پجارو منگوائی ہوئی تھی وہ سب سے پہلے ہمیں ایک ایسے مقام پرلے گئے جہاں ایک دلدل نما چھوٹاسا تالاب تھا جس میں پانی بلبلوں کی شکل میں نکل رہاتھا وہ بتا رہے تھے کہ مقامی لوگ اس کوسمندر کی آنکھ کہتے ہیں ایسا ہی ایک جگہ ہنگول نیشنل پارک میں بھی ہے جو کوسٹل ہائی وے پر ہی آتا ہے ۔امن و امان کی صورتحال بہت اچھی ہے چوری چکاری کے بہت ہی کم واقعات ہوتے ہیں ماردھاڑ قتل و غارت نہ ہونے کے برابر ہے چند سال قبل ملک دشمن قوتوں نے اس پرامن شہر میں خوف وہراس پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن پاک فوج نے ان قوتوں کے عزائم خاک میں ملا دئے ۔ہم شہر کے مختلف سیکٹرز کو دیکھا تمام گوادر میں سڑکیں بنی ہوئی ہیں جو مشرف دور میں بنی تھیں مزید ان میں بہتری نہیں لائی گئی مین جناح ایونیو تین رویہ سڑک ہے اس سڑک کے اطراف اب کافی مارکیٹیں پلازے بن چکے ہیں ہوٹلز مالز بن رہے ہیں ہم نے شہر کے ایک ایسے گول چکر کا نظارہ کیا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ ایشیاء کا سب سے بڑا گول چکر ہے ۔سٹیڈیم بن چکا ہے ،نیا ائیرپورٹ بن رہا ہے یونیورسٹی بنی ہوئی جس میں کلاسز جاری ہیں ۔ شاندار ڈی ایچ کیو ہسپتال بنا ہوا جس کا کریڈیٹ پاک فوج کو جاتا ہے جس میں گوادر کے باسیوں کو تمام طبی سہولیات مہیا کی جارہی ہیں ۔ پھر ہم سمندر کے کنارے چلتے چلتے پورٹ آگئے جہاں سخت سیکیورٹی تھی عام بندے کا جانا ناممکن ہے ان دوستوں کی وجہ سے وہاں جانا ممکن ہوا پرانی کرین کی جگہ اب نئی کرینیں لگ چکی ہیں ایکسپو سنٹر دیکھا جہاں جدید طرز تعمیر کی شاندار بلڈنگ خوبصورت نظارہ پیش کررہی تھی پوری بلڈنگ کا میٹریل حتیٰ کہ کیل تک چائنا سے لائے گئے سارے پورٹ پر انگلش اور چینی زبان میں سائن بورڈ جگہ جگہ لگے ہوئے نظر آئے پورٹ کو بالکل قریب سے دیکھا واقعی یہ اللہ پاک کی خصوصی کرم نوازی ہے کہ اللہ نے پاکستان کو ایک ایسا مقام عنایت فرمایا جس کے لئے ترقی یافتہ ممالک بھی محروم ہیں پانی کی رنگت سے سمندر کی گہرائی کا پتہ چلتا ہے کہ بغیر کسی مدد کے بڑے بڑے بحری جہاز آسانی کے ساتھ لنگر انداز ہو سکیں گے اورشارٹ ٹائم میں یہ جہازلوڈ اوران لوڈ ہو سکیں گے جس سے ان کا وقت اور پیسہ بچے گا اسکے بعد ہم لوگ پی سی ہوٹل گئے جو کوہ باطل پر واقع ہے اس پہاڑ کو ہیمر ہیڈ ہتھوڑے کا سر والا بھی کہتے ہیں اس پر سنگھار ناایک سرکاری ہاوسنگ سکیم ہے جس پر ابھی کچھ کام نہیں ہوا ۔پہاڑ ی پر پورے گوادر کا نظارہ کرنے کے بعد دوبارہ کیمپ آگئے جہاں دوستوں نے شاندار دوپہرکے کھانا کا بندوبست کیا ہوا تھارات بھر سفر کی وجہ سے تھکاوٹ تھی ملک اسماعیل کھریال نے کہا آپ کچھ دیر آرام کرلیں پھر آپ کو گوادر کا بازار دیکھاتے ہی آرام کے بعد ہم گوادر کا بازار دیکھنے چلے گئے جہاں ایک بازار صرف عورتوں کے لئے مخصوص ہے اس بازار میں کسی اکیلے مرد کو جانے کی اجازت نہیں ۔ بازار میں پاکستانی مصنوعات کے علاوہ ایرانی مصنوعات کی بھرمار تھی ۔پاکستانی اشیاء میں زیادہ تر سبزی آٹا خشک راشن وغیرہ کراچی سے آتا ہے ۔ غذائی اجناس کی کمی نہیں لیکن غذا کی ترسیل کے لئے کوئی معقول بندوبست نہیں مستقبل میں یقیناًاس کو مزید بہتر کیا جاسکتا ہے۔ گوادر میں صاف پینے کے پانی کا شدید مسئلہ ہے ابھی حال ہی میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف باجوہ نے سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے منصوبے کا افتتاح کیا ہے جس سے پینے کے صاف پانی کی قلت ختم ہو جائے گی یہ تووہ احوا ل ہیں جو آ نکھوں دیکھے ہیں اگر گوادر کی تاریخ کی بات کریں توگوادر پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں اور دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع صوبہ بلوچستان کا شہر جو اپنے شاندار محل وقوع اورجدید ترین بندرگاہ کے باعث عالمی سطح پر معروف ہے۔(نام گوادر اصل بلوچی زبان کے دو الفاظ سے بنا ہے گوات یعنی ”کھلی ھوا ” اور در کا مطلب” دروازہ” ہے۔ یعنی (ھوا کا دروازہ) گواتدر سے بگڑ کر گوادر بن گیا ہے) 60 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی والے شہر گوادر میں اکیسویں صدی کی ضرورتوں سے آراستہ جدید بندرگاہ کی تکمیل کے بعد اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین، افغانستان اور وسط ایشیاء کے ممالک کی بحری تجارت کا زیادہ تر دارومدار اسی بندر گاہ پر ہوگا۔پاکستان اور بلوچستان کے لئے عظیم معاشی منصوبہ سی پیک ایک گیم چینجر ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی برسوں کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کا ایک شاندار منصوبہ بھی ہے۔ دشمن کی ہزاروں کوششوں اور سازشوں کے باوجود تکمیل کے مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔ اس عظیم معاشی منصوبے کے لئے ہماری عسکری قوت نے بے پناہ قربانیاں دے کر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا یاہے۔گوادر اور اس کے گرد و نواح کی تاریخ بہت پرانی ہے۔یہ علاقہ وادی کلانچ اور وادی دشت بھی کہلاتا ہے اس کا زیادہ رقبہ بے آباد اور بنجر ہے۔ مچھیروں کی بستی کہلانی والی آبادی کا زیادہ تر انحصار مچھلی پکڑنے اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن سے ہے ۔اس کے علاوہ مچھلی پکڑنے والی کشتیوں بنانے کی مقامی انڈسٹری ہے جس میں تین چار خاندان کے لوگ وابستہ ہیں ایک کشتی بنانے میں 6ماہ لگ جاتے ہیں جس کی مکمل لاگت 60لاکھ کے قریب آجاتی ہے جس میں 60ٹن تک مچھلی سٹور کی جاسکتی ہے یہ کشتی بننے کے بعد کھلے سمندر سے مچھلی پکڑنے کے لئے مقامی انتظا میہ ایک پرمنٹ جاری کرتی ہے جو ایک ماہ کے لئے ہوتا ہے اب یہ مچھیرے کی قسمت پر منحصر ہے کہ وہ پہلے روز ہی اپنی ضرورت کے مطابق مچھلی پکڑ لے یا اسے ایک ماہ کے لئے کھلے سمندر میں رہنا پڑ جائے کھانے پینے کا مکمل بندوبست کرکے یہ لوگ کھے سمندر میں جاتے ہیں یہ لوگ ستاروں کی سمت دیکھ کر اپنا راستہ اپناتے ہیں لیکن اب جدید آلات بھی استعمال کئے جارہے ہیں۔ ایک کشتی میں مالک سمیت10افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے کسی کی کوئی تنخواہ نہیں ہوتی مچھلی مارکیٹ میں فروخت ہونے پر آمدن کے تین حصے کر لئے جاتے ہیں ایک حصہ مالک کا ایک حصہ کشتی کے اخراجات کا اور تیسرا حصہ باقی عملے کا۔ ایک منڈی میں بکنے والی مچھلی سے حاصل آمدن 10لاکھ تک بھی ہو سکتی ہے ۔ایک کشتی بنتے ہوئے ہم نے دیکھی جس میں مکمل لکڑی استعمال ہوئی کاریگر نے بتایا کہ اس کشتی کے بیس میں استعمال ہونے والی لکڑی برما انڈونیشیا ملائشیا سے آتی ہے جبکہ اوپر کی لکڑی اور اندر کے ڈھانچے میں پاکستانی لکڑی استعمال کی جاتی ہے اس کشتی کامالک بتا رہاتھا کہ اس سے پہلے میری 10کشتیاں اور ہیں یہ سن کر بڑی حیرانگی ہوئی کہ اتنے مال دار لوگ بھی یہاں موجود ہیں اور اللہ کے رزق کی تقسیم پر عش عش کراٹھے کہ یہ بھی پاکستان کا خطہ ہے جہاں ہر طرف ریت ہی ریت کئی کئی سال بارشوں کا نہ ہوناشدید خشک سالی لیکن اللہ نے وہاں کی آبادی کا رزق مچھلی اور کشتیوں میں رکھ دیا اور ہمارا بھی خطہ ہے جوسرسبزوشاداب ہے ہر قسم کے پھل اور فصلیں اور نعمتوں سے اللہ نے نوازا ہے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو رزق کیسے پہنچا رہے ہیں عقل دھنگ رہ جاتی ہے ۔وادی مکران کوتاریخ میں ہمیشہ سے ہی خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت داو د علیہ السلام کے زمانے میں جب قحط پڑا تو وادی سینا سے بہت سے افراد کوچ کر کے وادی مکران کے علاقے میں آ گئے۔مکران کا یہ علاقہ ہزاروں سال تک ایران کا حصہ رہا ہے۔ ایرانی بادشاہ افراسیاب کے دور میں بھی ایران کی عملداری میں تھا۔325قبل مسیح میں سکندر اعظم جب برصغیر سے واپس یونان جا رہا تھا تو اس نے یہ علاقہ اتفاقاً دریافت کیا اس کی بحری فوج کے سپہ سالار Admiral Nearchos نے اپنے جہاز اس کی بندرگاہ پر لنگر انداز کیے اور اپنی یادداشتوں میں اس علاقے کے اہم شہروں کو قلمات،گوادر، پشوکان اور چابہار کے ناموں سے لکھا ہے۔ اہم سمندری راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے سکندر اعظم نے اس علاقے کو فتح کر کے اپنے ایک جنرل Seleukos Nikator کو یہاں کا حکمران بنا دیا جو303قبل مسیح تک حکومت کرتا رہا۔303ق م میں برصغیر کے حکمران چندر گپت نے حملہ کر کے یونانی جنرل سے یہ علاقہ چھین لیا اور اپنی حکومت میں شامل کر لیا مگر 100سال بعد 202ق م میں پھر یہاں کی حکمرانی ایران کے بادشاہوں کے پاس چلی گئی۔ 711عیسوی میں مسلمان جنرل محمد بن قاسم نے یہ علاقہ فتح کر لیا۔ ہندوستان کے مغل بادشاہوں کے زمانے میں یہ علاقہ مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا جب کہ 16ویں صدی میں پرتگیزیوں نے مکران کے متعدد علاقوں جن میں یہ علاقہ بھی شامل تھا پر قبضہ کر لیا۔ 1581ء میں پرتگیزیوں نے اس علاقے کے دو اہم تجارتی شہروں پسنی اور گوادر کو جلا دیا۔ یہ علاقہ متعدد مقامی حکمرانوں کے درمیان بھی تختہ مشق بنا رہا اور کبھی اس پر بلیدی حکمران رہے تو کبھی رندوں کو حکومت ملی کبھی ملک حکمران بن گئے تو کبھی گچکیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔مگر اہم حکمرانوں میں بلیدی اورگچکی قبیلے ہی رہے ہیں۔ بلیدی خاندان کو اس وقت بہت پذیرائی ملی جب انھوں نے ذکری فرقے کو اپنالیا اگرچہ گچکی بھی ذکری فرقے سے ہی تعلق رکھتے تھے۔1740ء تک بلیدی حکومت کرتے رہے ان کے بعد گچکیوں کی ایک عرصہ تک حکمرانی رہی مگر خاندانی اختلافات کی وجہ سے جب یہ کمزور پڑے تو خان قلات میر نصیر خان اول نے کئی مرتبہ ان پر چڑھائی کی جس کے نتیجے میں ان دونوں نے اس علاقے اور یہاں سے ہونے والی آمدن کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ 1775ء کے قریب مسقط کے حکمرانوں نے وسط ایشیاء کے ممالک سے تجارت کے لیے اس علاقے کو مستعار لے لیا اور گوادر کی بندر گاہ کو عرب علاقوں سے وسط ایشیاء کے ممالک کی تجارت کے لیے استعمال کرنے لگے جن میں زیادہ تر ہاتھی دانت اور اس کی مصنوعات، گرم مصالحے، اونی لباس اور افریقی غلاموں کی تجارت ہوتی۔1783ء میں مسقط کے بادشاہ کا اپنے بھائی سعد سلطان سے جھگڑا ہو گیاجس پر سعد سلطان نے خان آف قلات میر نصیر خان کو خط لکھا جس میں اس نے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی چنانچہ خان نے نہ صرف سلطان کو فوری طور پر آ جانے کو کہا بلکہ گوادر کا علاقہ اور وہاں کی آمدن بھی لا محدود وقت کے لیے سلطان کے نام کر دیا۔جس کے بعد سلطان نے گوادر میں آ کر رہائش اختیار کر لی۔1797میں سلطان واپس مسقط چلا گیا اور وہاں اپنی کھوئی ہوئی حکومت حاصل کر لی۔1804میں سلطان کی وفات کے بعد اس کے بیٹے حکمران بن گئے تو اس دور میں بلیدیوں نے ایک بار پھر گوادر پر قبضہ کر لیا جس پر مسقط سے فوجوں نے آ کر اس علاقے کو بلیدیوں سے واگزار کروایا۔1838 ء کی پہلی افغان جنگ میں برطانیہ کی توجہ اس علاقہ پر ہوئی تو بعد میں1861میں برطانوی فوج نے میجر گولڈ سمتھ کی نگرانی آکر اس علاقے پر قبضہ کر لیا اور1863 میں گوادر میں اپنا ایک اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ مقرر کر دیا چنانچہ ہندوستان میں برطانیہ کی برٹش انڈیا اسٹیم نیویگیشن کمپنی کے جہازوں نے گوادر اور پسنی کی بندر گاہوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔1863میں گوادر میں پہلا تار گھر (ٹیلی گرام آفس)قائم ہوا جبکہ پسنی میں بھی تار گھر بنایا گیا۔1894کو گوادر میں پہلا پوسٹ آفس کھلا جبکہ 1903کو پسنی اور1904کو اورماڑہ میں ڈاک خانے قائم کیے گئے۔1947میں جب برصغیر کی تقسیم ہوئی اور بھارت اور پاکستان کے نام سے دو بڑی ریاستیں معرض وجود میں آئیں تو گوادر اور اس کے گرد ونواح کے علاوہ یہ علاقہ قلات میں شامل تھا۔1955ء میں علاقے کو مکران ضلع بنا دیا گیا۔ 1958ء میں مسقط نے 10 ملین ڈالرز کے عوض گوادر اور اس کے گرد ونواح کا علاقہ واپس پاکستان کو دے دیا جس پر پاکستان کی حکومت نے گوادر کو تحصیل کو درجہ دے کر اسے ضلع مکران میں شامل کر دیا۔ یکم جولائی 1970کو جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا اور بلوچستان بھی ایک صوبے کی حیثیت اختیار کر گیا تو مکران کو بھی ضلعی اختیار مل گئے۔1977میں مکران کو ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا اور یکم جولائی1977کو تربت، پنجگور اور گوادر تین ضلعے بنا دیے۔گوادر کا موجودہ شہر ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی آبادی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نصف لاکھ جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق ایک لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ اس شہر کو سمندر نے تین طرف سے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور ہر وقت سمندری ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ایک خوبصورت اوردلفریب منظر پیش کرتا ہے ویسے بھی گوادرکے معنی ”ہوا کا دروازہ” ہے۔ گہرے سمندر کے علاوہ شہر کے ارد گرد مٹی کی بلند بالا چٹانیں موجود ہیں۔اس شہر کے باسیوں کا زیادہ تر گزر بسر مچھلی کے شکار پر ہوتا ہے اور دیگر اقتصادی اور معاشی ضرورتیں ہمسایہ ممالک ایران، متحدہ عرب امارات اور اومان سے پوری ہوتی ہیں۔گوادر شہر مستقبل میں ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کر جائے گایہاں کی بندرگاہ پاکستان کے علاوہ چین، افغانستان، وسط ایشیاء کے ممالک تاجکستان، قازقستان، آذربائیجان، ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستوں کے استعمال میں آئے گی جس سے پاکستان کو بیش بہا محصول ملے گا۔گوادر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی وجہ سے اب لوگوں کی توجہ اس طرف ہو چکی ہے چنانچہ ایسے میں بے شمار فراڈیوں اور دھوکے بازوں نے بھی جعلی اور دو نمبر رہائشی سکیموں اور دیگر کالونیوں کی آڑ میں لوگوں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے کیونکہ پاکستان کے دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد گوادر کی اصل صورتحال سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ان فراڈیوں کی چکنی چپڑی باتوں اور دلفریب اشتہارات کی وجہ سے ان کے جال میں پھنس کر اپنی جمع پونجھی سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ یہاں ایسی سکیمیں جن کو گوادر دویلپمنٹ اتھارٹی نے این او سی بھی جاری کر رکھی ہیں مگر ان کی ابھی ابتداء بھی نہیں ہو سکی اور وہ اپنے پوسٹروں اور پمفلٹوں پر دوبئی اور ہانگ کانگ کے مناظر اور عمارتیں دکھا کر لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں ویسے بھی گوادر میں پینے کے پانی کی کمیابی، سیوریج کے نظام کی عدم دستیابی اور دیگر عمارتی سامان کی عدم موجودگی کی وجہ سے نہ صرف پرائیویٹ سیکٹر بلکہ سرکاری سیکٹر میں بھی کوئی خاص کام شروع نہیں ہو سکا ماسوائے سی پورٹ اور چند ایک عمارتیں جن میں پرل کانٹی نینٹل اور دیگر منصوبوں کے جن پر کام مکمل ہوچکا ہے۔ جبکہ موجودہ گوادر شہرمیں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، چھوٹی چھوٹی تنگ گلیاں اوربازاروں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایک چیئرمین، ڈائریکٹر جنرل اور گورننگ باڈی جس میں دو وفاقی وزیر،ایک صوبائی وزیر،ڈسٹرکٹ ناظم اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوتے ہیں پر مشتمل ایک ادارہ ہے۔ جی ڈی اے کے ماسٹر پلان کے مطابق گوادر شہر کا علاقہ موجودہ پوری گوادر تحصیل کے برابر ہے اور شہر کی بڑی سڑکیں 200فٹ چوڑی اور چار لین پر مشتمل ہو نگی جبکہ ان سڑکوں کے دونوں جانب 2/2لین کی سروس روڈ ہو گی اور شہر کے مین روڈ کا نام جناح ایونیو رکھا گیا ہے جو تقریبا14کلو میٹر طویل ہے اور اسی طرح بلوچستان براڈوے بھی200فٹ چوڑی اور سروس روڈ پر مشتمل ہو گی اور اس کی لمبائی تقریبا60کلو میٹر ہے جبکہ سمندر کے ساتھ ساتھ تقریبا24کلو میٹر سڑک تعمیر ہو گی اور جو چوڑائی کے لحاظ سے جناح ایونیو کی ماند ہو گی۔ یہ سڑکیں نہ صرف ایشیائبلکہ یورپ کے بہت سے ممالک کے شہروں سے بھی بڑی سڑکیں ہو نگی۔ ابتک ترقیاتی کاموں پر تقریبا60سے70ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ اخراجات بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔شہر میں ترقیاتی کاموں میں تاخیر اور سستی کی سب سے اہم وجہ میٹریل کا دور دراز علاقوں سے لایا جا ناہے جیسے ریت 135کلو میٹر سے لایا جاتا ہے جبکہ سیمنٹ اور سریا وغیرہ 800کلو میٹر دور کراچی سے لایا جاتا ہے۔ موجودہ گوادر شہر صرف 800میٹر لمباہے جبکہ ماسٹر پلان کے مطابق آنے والے دنوں میں گوادر تقریبا40کلومیٹر عریض اور60کلو میٹر طویل ہو گا۔ اب تک جی ڈی اے نے قانون کے مطابق رہائشی، انڈسٹریل اور کمرشل نوعیت کی30 سے زائد سکیموں کے این او سی جاری کیے ہیں جبکہ سرکاری سکیمیں اس وقت 2ہیں جن میں سنگار اہاوسنگ سکیم جو تقریبا 13کلو میٹر لمبی اور4.5کلو میٹر چوڑی سمندر میں مٹی کی پہاڑی پر ہے جبکہ دوسری سرکاری سکیم نیو ٹاون کے نام سے ہو گی جس کے 4فیز ہو نگے اور اس میں 120گز سے 2000گز کے پلاٹ ہو نگے۔ گوادر فری پورٹ نہیں بلکہ ٹیکس فری زون شہر ہو گا۔جی ڈی اے نے این او سی جاری کرتے وقت پرائیویٹ اداروں کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ اپنی اپنی سکیموں میں پینے کے پانی کا انتظام کریں گے اور سمندر کا پانی صاف کرنے کے پلانٹ لگائیں گے جبکہ سیوریج کے پانی کے نکاس کا بھی ایسا انتطام کیا جا رہا ہے کہ گندا پانی سمندر میں شامل ہو کر اسے آلودہ نہ کرے اور کراچی جیسی صورتحال پیدا نہ ہو اور اس مقصد کے لیے ہر پرائیویٹ سکیم کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ سیوریج کے پانی کو صاف کرنے کے ٹریٹمنٹ اور ری سائیکلنگ پلانٹ لگائیں اور اس پانی کو گرین بیلٹ اور پارکوں میں استعمال کیا جائے۔ اب گوادر شہر میں آکڑہ ڈیم سے پینے کا پانی آتا ہے جو 45ہزار کی آبادی کے لیے کافی تھا مگر اب آبادی میں اضافہ کی وجہ سے پانی کا مسئلہ پیدا ہو گیا اور موجودہ پانی کی مقدار کم پڑ گئی کیونکہ اب گوادر کی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا جس کے لیے میرانی ڈیم کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے مگر یہ گوادر سے120کلو میٹر دور ہے جہاں سے پانی لانا بہت مشکل کام ہو گا جبکہ میرانی ڈیم کے پانی کا سردیوں کی بارشوں پر منحصر ہے اور جیسا کہ اکثر ہوتا ہے کہ کئی کئی سال بارشیں نہیں ہوتی تو ڈیم میں پانی بھی نہیں آئے گا لہذا یہ کہا جائے تو درست ہو گا کہ گوادر میں اصل مسئلہ پانی کا ہی ہو گا جو ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں ہی گوادر میں جدید بندرگاہ بنانے کا منصوبہ بن گیا تھا مگرفنڈ کی کمی اور دیگر ملکی اور بین الااقوامی معاملات اور سیاسی مصلحتوں کی وجہ اس کی تعمیر کاکام شروع نہ ہو سکا۔ مگر جب امریکہ نے طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا تو اس کے بعد ابھی چار ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ پاکستان اور چین نے مل کر گوادر میں اکیسویں صدی کی ضروتوں کے مطابق بندرگاہ بنانی شروع کر دی۔چینیوں کے اس شہر میں داخلے کے ساتھ ہی شہر کی اہمیت یکدم کئی گنا بڑھ گئی اور مستقبل کا بین الاقوامی شہر اور فری ٹیکس زون کا اعلان ہوتے ہی ملک بھرکے سرمایہ دار اور دولت مند کھربوں روپے لیکر اس شہر میں پہنچ گئے اور زمینوں کو خرید نے کے لیے مقامی شہریوں کو ان کے منہ مانگے روپے دینے شروع کر دیے جس کی وجہ سے دو سو روپے کرایہ کی دکان تیس ہزار روپے تک ہو گئی اور تیس ہزار روپے فی ایکڑ زمین کی قیمت دو سے تین کروڑ روپے تک پہنچ گئی چنانچہ گوادر کا عام شہری جو چند ایکڑ کا مالک تھا دیکھتے ہی دیکھتے کروڑ پتی اورارب پتی بن گیاچنانچہ اب شہر میں بے شمار چمکتی دمکتی اور قیمتی گاڑیوں کی بھرمار ہو گئی ہے جس کی وجہ سے چھوٹی اور تنگ سڑکیں مزید سکڑ گئیں۔ شہر کے تقریباً تمام بے روز گار افراد نے پراپرٹی ڈیلر کے دفتر کھول لیے جبکہ دوسرے شہروں سے آئے ہوئے افراد نے پراپرٹی کو منافع بخش کاروبار سمجھتے ہوئے بڑے بڑے ادارے قائم کر لیے۔ شہر کی ابتر حالت کو بہتر بنانے اور منظم کرنے کے لیے حکومت نے 2003میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ بنایا جس کا قانون بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے2002 میں منظور کیا تھامگر نومولود ادارہ تاحال شہر کی حالت کو سدھارنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔بندر گاہ خلیج فارس، بحیرہ عرب، بحر ہند، خلیج بنگال اور اسی سمندری پٹی میں واقع تمام بندرگاہوں سے زیادہ گہری بندر گاہ ہو گی اور اس میں بڑے بڑے کارگو بحری جہاز باآسانی لنگر انداز ہو سکیں گے۔ جن میں ڈھائی لاکھ ٹن وزنی جہاز تک شامل ہیں۔ اس بندر گاہ کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان، چین اور وسط ایشیاء کی تمام ریاستوں کی تجارت ہوگی۔ بندر گاہ کی گہرائی 14.5 میٹر ہوگی یہ ایک بڑی،وسیع اور محفوظ بندر گاہ ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر بہت سے ممالک کی اس پر نظریں ہیں۔ بندرگاہ کا ایک فیز مکمل ہو چکا ہے جس میں 3 برتھ اور ایک ریمپ شامل ہے۔ریمپ پر Ro۔Ro جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے جبکہ 5 عدد فکس کرینیں اور 2 عدد موبائل کرینیں جبکہ ایک R T G کرین آپریشنل حالت میں لگ چکی ہیں۔ ایک برتھ کی لمبائی 600 میٹر ہے جس پر بیک وقت کئی جہاز کھڑے ہو سکیں گے جبکہ دوسرے فیز میں 10 برتھوں کی تعمیر ہو گی۔ بندر گاہ چلانے کے لیے تمام بنیادی سامان اور آلات بھی لگ چکے ہیں مگر یہاں پر کام اس لیے نہیں ہو رہا کہ دوسرے علاقوں جیسے وسط ایشیائکے ممالک کے لیے رابطہ سڑکیں موجود نہیں ہیں اور اس مقصد کے لیے کئی بین الاقفوامی معیار کی س?ڑکیں بنوائی جا رہی ہیں مثلاً M8 کی تعمیر پر کام شروع ہو چکا ہے جو تقریباً 892 کلو میٹر طویل موٹروے ہوگی جو گوادر کو تربت، آواران، خزدار اور رٹوڈیرو سے ملائی گی جو پھر ایم 7، ایم 6 اور انڈس ہائی وے کے ذریعے گوادر کا چین کے ساتھ زمینی راستہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ اسکے علاوہ گوادر کو ایران اور افغانستان کے ساتھ ملانے کے لیے بھی سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔آج ہر بلوچستانی سی پیک کی بدولت اپنے بیشتر مستقبل کے لئے پرامید ہے۔ 46 ارب ڈالر کی لاگت سے شروع ہونے والے عظیم منصوبے سی پیک میں نہ صرف سڑکیں شامل ہیں بلکہ اس عظیم الشان منصوبے میں بجلی پیداوار کے منصوبوں سمیت ریل اور سپیشل اکنامک زون کے منصوبے بھی شامل ہیں جو گوادر سمیت بلوچستان کے لئے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری کا یہ عظیم الشان منصوبہ پاکستان اور چین سمیت پورے خطے اور دنیا بھر کے معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے ایک عظیم معاشی منصوبہ ہے۔ اب جب یہ عظیم معاشی منصوبہ ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت بن کر ابھرا اور تیزی سے تکمیل کی جانب رواں دواں ہے تو دنیا نے بھی تسلیم کر لیا اور سب سے اہم بات جو کہ ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ اس منصوبے کی ناکامی کے خلاف ہماری دشمن قوتوں نے مل کر جو سازشیں کیں اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات ان کی وجہ سے رونما ہوئے اور بے جا پروپیگنڈے جو کئے گئے اس کے مقابلے میں حکومت اور بالخصوص ہماری پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کے چاک وچوبند جوانوں نے جس جوانمردی سے ڈٹ کر مقابلہ کیا یہ ان کے پختہ عزم اور مضبوط قوت ارادی کا نتیجہ ہے پاک فوج ،ایف سی اور کوسٹل گارڈ کے نوجوان اپنے بال بچوں والدین دوست احباب سے دور جہاں ہر وقت دشمن کے حملے کا خدشہ ہو کو جس جوش و جذبے سے پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے اس خطے کی حفاظت کررہے ہیں انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب سی پیک جیسا منصوبہ بلوچستان کی عوام کے لئے جو آج تک سرداروں اور وڈیروں کے ظلم و ستم سہتی آرہی ہے آج انہیں پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیز اپنا حق دلا رہی ہیں جو آگے جا کر ان کے مستقبل کو محفوظ بنا دے گی بات صرف عزم اور حوصلے کی ہے کہ وہ ملک دشمن کے پروپیگنڈہ میں آنے کے بجائے اپنی فوج پر مکمل اعتماد کریں اور اس کے ہاتھ مضبوط کریں انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب ہمارا بلوچستان ہمارا پیاراپاکستان دنیا میں ترقی کی بلندیوں کو چھوئے گا۔ یہی وجہ کہ آج سی پیک عملی طور پر ایک عظیم معاشی منصوبے کا روپ دھار چکا ہے اور اب بیرونی دنیا بھی اس منصوبے میں دلچسپی لینے لگی ہے اور ان کی یہ خواہش ہے کہ وہ بھی سی پیک کا حصہ بنے یہی تو ہماری بحیثیت پاکستانی ایک بڑی کامیابی ہے۔یہ سب اللہ کے کرم ا ور پاک فوج کی قربانیوں کی مرہون منت ممکن ہوا۔
پاک فوج زندہ باد پاکستان پائندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں