219

ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والی نئی حلقہ بندیوں کو مسلم لیگ ن کے تمام پارلیمنٹرینز اور عمائدین نے مسترد کردیا

چکوال(نمائندہ بے نقاب)ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والی نئی حلقہ بندیوں کو مسلم لیگ ن کے تمام پارلیمنٹرینز اور عمائدین نے مسترد کردیا ہے

اور اس حوالے سے جلد ہی مسلم لیگ ن کی طرف سے ایک بھرپور لائحہ عمل سامنے لائے جانے کاامکان ہے۔ اُدھر دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف نے ان نئی حلقہ بندیوں پر اطمینان کااظہار کیا ہے۔ مستقبل میں ہونے والے عام انتخابات میں مقابلہ مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہی ہوگا۔ ان نئی حلقہ بندیوں نے آنے والے عام انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن کی تمام منصوبہ بندی کو یکسر غارت کر دیا ہے کیونکہ صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم سیتھی اور ایم پی اے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ ان نئی حلقہ بندیوں کے سب سے بڑے متاثرین ہیں او ریہ دونوں پارلیمنٹرینز سر توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ سابقہ حلقہ بندیاں بحال ہوجائیں۔ جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا موقف ہے کہ یہ حلقہ بندیاں عوام کی سہولت کو پیش نظر رکھ کر کی گئی ہیں۔ نئے حلقہ این اے 64میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی تعداد بڑھ گئی ہے ، قومی اسمبلی میں سردار عباس اور میجر طاہر اقبال کے درمیان ٹکٹ کا تنازعہ ہے ،پی پی21میں سردار ذوالفقار دلہہ کے آنے سے اب ایم پی اے سلطان حیدر بھی اسی حلقے میں ہیں جس کی وجہ سے سلطان حیدر کو بھی پریشانی لاحق ہوگئی ہے۔ صوبائی وزیر تنویر اسلم سیتھی حلقہ پی پی23میں چلے گئے ہیں حالانکہ ان کا گزشتہ 17سالوں کو تمام سیاسی ہوم ورک سابقہ حلقہ پی پی21میں ہے اور اب جو اطلاعات آرہی ہیں کہ حلقہ بندیوں میں اگر تبدیلی نہ ہوئی تو پھر بھی تنویر اسلم سیتھی اپنے سابقہ حلقہ پی پی21سے ہی الیکشن میں حصہ لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں