240

انسانی خون سے تلہ گنگ میانوالی روڈ رنگین ،لیکن سیاسی نمائندوں خاموشی سوالیہ نشان۔

چینجی(امیر احسان اللہ)تلہ گنگ میانوالی روڈ پر پے درپے المناک حادثات کے باوجود تاحال سیاسی نمائندوں کی خاموشی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق تلہ گنگ کے حوالے سے مسلم لیگ کا موجودہ پانچ سالہ ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔ میاں محمد نواز شریف کا تلہ گنگ کو ضلع بنانے کا وعدہ بھی تلہ گنگ کی عوام کے ساتھ ایک مذاق بن کر رہ گیا۔یونیورسٹی کا

وعدہ کیا گیا لیکن عملی طور پر پانچ سال خاموشی چھائی رہی۔تلہ گنگ میں سپورٹس کمپلیکس بھی ترجیحات میں تھا لیکن کمزور سیاسی نمائندے اس منصوبے کو بھی عملی شکل نہ دے سکے۔ میانوالی تلہ گنگ روڈ کو بلکسر انٹرچینج سے منسلک کرکے موٹروے طرز کا روڈ بنانے کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا لیکن تاحال عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اب حادثات کی وجہ بھی مذکورہ روڈ کی ابتر حالت ہے۔ کم از کم اس بین الصوبائی سڑک کو ون وے ہونا انتہائی اہم ہے۔ سندھ اور بلوچستان جانے والی لگثری اور تیز رفتار بسیں عوام کو آئے روز کچل رہی ہیں اور انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں