306

فیس بک کے سیاست دان ، اخلاقیات کا جنازہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر اکرم نور چکڑالوی

ہمارا معاشرہ جہاں عورت کو ہر روپ میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،وہ عورت ماں ، بہن ، بیوی یا بیٹی کے روپ میں ہو قابل عزت و احترام تصور کی جاتی اور ہے اور عورت کی عزت واحترام کو ہر جگہ مقدم جانا جاتا ہے کیوں کہ یہی بات اسلامی شعار کا حصہ اور ہمارے اخلاقیات کا تقاضہ بھی ہے مگر بد قسمتی سے جہاں اس ملک کو سیاست دانوں نے لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہیں اب سیاست دانوں کی ایک نئی قسم (فیس بک کے سیاست دان)ایجاد ہونے کے بعد اور ہر سیاسی جماعت کے

سوشل میڈیا ونگ یا پھر سوشل میڈیا ٹیم کے نام سے فیس بکی سیاست دان ایجاد ہونے کے بعد اب ان نومولود اورسیاسی قدروں سے نابلد سوشل میڈیا کے سیاست دانوں نے اب اخلاقیات کا بھی جنازہ ہی نکال کے رکھ دیا ہے ، ان فیس بک کے سیاست دانوں نے کسی عورت کو ان کی مخالف پارٹی کے سیاست دان کی بہن ، بیوی ، یا بیٹی ہونے کے نا قابل معافی جرم میں دنیا کی گری ہوئی اور گندی ترین عورت ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی، ان سیاست دانوں کے ازلی غلاموں نے اپنے نام نہاد آقاؤں کی قصیدہ خوانی اور ان کی رضا حاصل کرنے اور ان کا منظور نظر بننے کی دھن میں اس بات کو بھی شاید بلکہ یقیناًفراموش ہی کر رکھا ہے کہ جس ماں ، بہن ، بیوی یا بیٹی کے بارے میں وہ سوشل میڈیا پر بہت خوشی سے غلط اخلاقیات سے گری ہوئی اور بے بنیاد تحریریں لکھ کر اپنے آقاؤں کو خوش کر رہے ہیں اس طرح ماں ، بہن بیٹی یا بیوی ان کے اپنے گھر میں بھی موجود ہے اور اگر وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی یہ بات وہ سوچ لیں کہ جو باتیں وہ کسی سیاست دان کی ماں ، بہن ، بیوی یا بیٹی کے لیے لکھ رہے ہیں وہی باتیں ان کی اپنی قابل عزت ماں ، بہن ، بیوی یا بیٹی کے لیے استعمال کیے جائیں تو ان کو کیسا محسوس ہو گا ؟ مگر شاید کیوں کہ اس بات سے ان کا ضمیر جاگ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لیے وہ یہ بات سوچنا ہی گوارہ نہیں کرتے اور سیاسی مخالف یا پھر سیاسی مخالف پارٹی کے لیڈر کی ماں بہن کی سوشل میڈیا پر تذلیل کر کے فخر محسوس کرتے ہیں ، اگر آپ کیساتھ فیس بک پرایسے دانشور فرینڈ لسٹ میں موجود ہیں توآپ کو اس بات کا با خوبی علم ہو گا کہ یہ لوگ کس قدر گر چکے ہیں اور کس طرح یہ لوگ مخالف سیاست دان کی ما ں بہن کی عزتیں اچھانے میں مصروف بلکہ مسرور ہیں ، کوئی اپنے سیاسی مخالف کی بیوی کو پیرنی جی کا لقب دے کر اس کی عزت کا جنازہ نکالنے میں مصروف ہے تو کوئی اپنے سیاسی مخالف کی بیٹی کو مختلف القابات دے کر اس کی عزت کا کچرا کرنے کی کوشش میں لگا ہے ، کوئی کسی کو اورینج ٹرین میں سفر کرنے کی وجہ سے اپنے باپ کا نہ ہونے کی نوید سنا رہا ہے توکوئی کسی کی دھوتی تک اتر جانے کی پیشن گوئی کر رہا ہے، کوئی اپنے سیاسی مخالفین کو کسی ناپاک جانور کی ااود قرار دیتے ہوئے اپنے اخلاقیات سے عاری ہونے اور شخصیت پرست(جسے بت پرستی سے بڑا گناہ کہا جاتا ہے) ہونے کا ثبوت دے رہا ہے تو کوئی کسی مخالف پارٹی کے نشان کو ایسے لوگوں کا نشان قرار دے رہا ہے جن کو تحریر میں لانا ممکن نہیں الغرض اپنے سیاسی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے اور خود کو ان کا مخلص ترین غلام ثابت کرنے کے لیے اخلاقیات کی ہر حد پار کرنے کی پوری پوری کوشش کی جارہی ہے جو کہ انتہائی شرمناک بات ہے ، اگر کسی بھی سیاسی پارٹی کاکارکن ہونے کے بجائے عام آدمی اور ان کرپٹ جھوٹے اور مفاد پرست سیاست دانوں کی وجہ سے طرح طرح کے عذابوں میں مبتلاء رہنے والی عوام بن کر جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ سیاسی جلسے جلوسوں میں ایک دوسرے کو غدار وطن اور ملک کا دشمن قرار دے کر ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے تقریبا سارے سیاست دانوں کے مفادات مشترکہ ہیں اور وقت آنے پر کبھی ایک دوسرے کو گلیوں میں تو کبھی عدالتوں میں گھسیٹنے کا دعوی کرنے والے سیاست دان ایک دوسرے کے بھائی بنے نظر آتے ہیں اور عام آدمی جس کو اپنے مفادات اور اپنے پاک وطن کے مفادات سے غرض ہونی چاہے بد قسمتی سے تھی کبھی شخصیت پرستی کی وجہ سے تو کبھی چند روپے کی لالچ میں ا ندھے ہو کریا پھر مفت میں سیاست دان اور دانشور بننے کے چکر میں سوشل میڈیا پر اخلاقیات کا جنازہ نکالنے میں مصرودف نظر آتے ہیں حالانکہ کہ اگر حقیقت پسندی کامظاہرہ کرتے ہوئے ملکی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بخوبی عیاں ہو گی کہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد شاید ہی کوئی ایک ادھ سیاست دان ایسا ہو جس نے اپنا گھر بھرنے اور غریب آدمی کا پیٹ کاٹ کر اپنا پیٹ بھرنے کی پوری پوری کوشش نہ کی ہو مگر افسوس اس سب کے باوجود فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر موجود سیاسی قدروں سے نابلد اور سیاست دانوں کے قصیدہ خوانوں نے اخلاقیات کا جنازہ نکال رکھا ہے اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ کوئی پارٹی ان فیس بکی سیاست دانوں کو اپنے ٹائیگر زتو کوئی پارٹی اپنے شیر کہہ تو کوئی پارٹی اپنے جیالے کہہ کر اس سلسلے اور اس طوفان بدتمیزی کو ان کی حوصلہ شکنی کر کے روکنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کر کے کو مزید چلتے رہنے میں پوری پوری مدد فراہم کر رہی ہے اور اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو کوئی بعید نہیں کہ یہ سلسلہ اور یہ طوفان بدتمیزی سوشل میڈیا سے سیاسی جلسے اور جلوسوں تک جا پہنچے اور پھر کسی کی بھی عزت محفوظ نہ رہے ۔اس لیے ابھی وقت ہے اس سلسلے کو یہیں روک نے کے لیے پوری کوشش کرنی چاہے اگر یہ وقت گزر گیا تو پھر شاید سب ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں