288

ظلم کی انتہا،داخلی تھوہا محرم خان میں انسانیت شرما گئی، سب انسپکٹر محمداسلم نے حوا کی بیٹی کو شرم سار کر کے تھانہ سے نکال دیا ،پولیس سے مایوسی ہوئی تو میں نے میڈیا کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔روبینہ زوجہ تنویر حسین

تلہ گنگ (نمائندہ بے نقاب)تلہ گنگ کی ڈھوک انوکھی داخلی تھوہا محرم خان میں انسانیت شرما گئی حوا کی بیٹی کو پہلے ڈھوک کے ایک ظالم نے بلیک میل کیا اور ظلم کی انتہا کر د ی جبکہ دوسرا ظلم سب انسپکٹر محمداسلم نے 30کے قریب افراد کی موجودگی میں حوا کی بیٹی کو شرم سار کر کے بغیر مقدمہ درج کیے بے عزت کرکے تھانہ سے نکال دیا تفصیلات کے مطابق تلہ گنگ تھا نہ صدر کی رہائشی دو بچوں کی ماں روبینہ زوجہ تنویر حسین نے تلہ گنگ پریس کلب میں روتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ میں نے

تھانہ صدر تلہ گنگ میں تحریر ی درخواست دی کے میں ڈھوک انوکھی داخلی تھوہا محرم خان کی رہائشی و سکونتی ہوں۔ 2مارچ 2018کو میں اپنے صحن میں موجود غسل خانہ میں نہا رہی تھی جس کی چھت نہیں تھی ہماری حویلی کے ساتھ دلدار حسین اور نیاز حسین پسران محمد خان کا گھر ہے دونوں نے میری نہاتے ہوئے اپنے موبائل میں ننگی تصوریں بنا لی کچھ دن مجھے بلاک میل کرتے رہے اور کہتے رہے کہ ہم تمھارے خاوند کو بتا کر تمھیں دوبارہ طلاق دلوا دیں گے مجھے پہلے بھی طلاق اس وجہ سے ہوئی کہ میرے بھائی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وٹہ سٹہ کی وجہ سے مجھے بھی طلاق ہو گئی دوبارہ طلاق کے خوف سے دلدارحسین ننے میرے ساتھ دو دفعہ جنسی زیادتی کی پھر بھی تصویرں ختم نہیں کی اور بار بار میرے ساتھ جنسی زیادتی کا مطالبہ کر تا رہااور کہتا کہ میں تصویریں انٹر نیٹ پے ڈال دوں گا اور تمھاری اور تمھارے خاوند کی عزت خاک میں ملا دو ں گاجس پر میں نے تنگ آکر اپنے خاوند کو سب سچ بات بتا دی جب میرے خاوند کواس بات کا علم ہو اتو اس نے خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی جب دلدار حسین، نیاز حسین اورمحرم خان اگلی صبح سامنے آئے تو میرے خاوندنے دلدار سے کہا کہ ایسا کیو ں کیا جس پر دلدار حسین ،نیاز حسین اور محرم خان ولد غلام محمد ساکن ڈھوک انوکھی نے میرے خاوند کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جب ہم مقدمہ درج کرانے کیلئے تھانہ صدر تلہ گنگ میں آئے تو درخواست وصول کرلی گئی لیکن آن لائن نہیں کی گئی کیوں کے ہم ان پڑھ ہیں اسی لیے ہمیں آئن لائن سسٹم کا معلوم نہیں تھا اگلے دن بیٹ آفسر محمد اسلم سب انسپکٹر نے بلایا اور 30آدمیوں کے سامنے میرا بیان لیا اور ملزمان سے ساز باز کر کے مجھے بے عزت کیا میرا سسر جو کہ چار شادیاں کر چکا ہے وہ میری شادی کے خلاف تھا اورمیرے خاوند کو بھی اپنے گھر سے نکال دیا تھا اس کو ملزمان پارٹی نے اپنے حق میں استعمال کیا اوروہ کہتا رہا کہ اس سے پہلے بھی اس کو طلاق برے کردارکی وجہ سے ہوئی ہے یہ غلط عورت ہے خدا گواہ ہے کہ میری پہلی طلاق صرف وٹہ سٹہ کی وجہ سے ہوئی ہے میر ے کردار کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے جب مجھے پولیس سے مایوسی ہوئی تو میں نے میڈیا کا دروازہ کھٹکھٹایا میری اور میرے خاوندکی ڈھوک پر عزت ختم ہوگئی ہے ہم غریب ہیں ہم کس سے انصاف مانگیں اے ایس پی تلہ گنگ ،اے سی تلہ گنگ ،ڈی پی او چکوال ،آر پی اوراولپنڈی ،وزیر اعلی پنجاب ،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ،چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ مجھے انصاف دلائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں