282

نرالی قوم۔ نرالے لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر مہتاب احمد تابی

معزز قارئیں :یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے بابا۔ کونسی تبدیلی؟ کیسی تبدیلی ؟ کہاں کی تبدیلی؟ کہاں سے لاؤ گے تبدیلی بابا؟ قائداعظم کو اپنا حقیقی لیڈر مانتی ہے یہ قوم بابا۔ جو کام سیدھے سے طریقے سے نہ ہو صرف قائد کی ایک جھلک سے ہو جاتا ہے بابا۔ اور پھر ہم۔۔۔۔ ہم تو وہ قوم ہیں کہ ہر جائز و ناجائز کیلئے جب تک قائد محترم کی جھلک نہ دکھا لیں ہمیں دلی سکون نہیں ملتا بابا۔ ہمارے ہاں قائد سے زیادہ قائد کی تصویر اہم ہے بابا۔

لائن میں لگوں؟؟؟ میں کیوں لگوں؟؟ کوئی دوست ڈھونڈو بابا۔ کوئی سفارش کرا دو۔ یہ جو اتنی لمبی لائن میں لگے ہوئے ہیں یہ تو سارے بیوقوف ہیں۔ یہ سفارش بھی نہیں کرا سکتے پاگل؟؟یہ ہماری نفسیات ہے بابا۔ جہاں بھی کوئی کام پڑے پہلے وہاں اپنے استقبال کیلئے کوئی بندہ ڈھونڈیں گے۔ اگر نہ ملے تو میرا قائد زندہ باد۔
صاحب یہ دستخط کرانے تھے۔ دفتر کا وقت ختم ہوچکا ہے۔صاحب مہربانی فرما کر کر دیں بہت دور سے آیا ہوں۔ کل پھر آنا پڑے گا۔ بتایا ناں کہ وقت ختم ہو گیا ہے۔ صاحب یہ قائد کی تصویر کا واسطہ ہے دستخط کر دیں۔ جی جی جی جی ادھر لائیں ۔ لائیں جناب کچھ اور بھی دستخط کرانا ہے تو میں حاضر۔قائد تجھے سلام۔
تبدیلی دیکھنی ہو تو ہماری سڑکوں پہ دیکھ لو بابا۔ قانون؟ کونسا قانون؟ کہاں کا قانون بابا۔ جدھر سے دل کرے یو ٹرن لے لو۔ جہاں دل کرے گاڑی پارک کر دو بابا۔ جتنے مرضی لوگوں کو کچل کے بھاگ جاؤ بابا۔ لائسنس ؟ وہ کیا ہوتا ہے؟ یہاں پہ ہمارے آدھے سے زیادہ لوگوں کے پاس لائسنس ہی نہیں ہیں بابا۔ اگر ہیں بھی تو وہ جعلی طریقے سے بنے ہوئے ہیں۔ شرط لگا لو بابا۔ لے جاؤ ان سارے لائسنس ہولڈر ڈرائیورز کو ۔ لے لو ان کا ٹیسٹ بابا۔ آدھے بھی پاس نہیں ہوں گے۔ کیونکہ انہیں پتا ہے بابا جہاں پہ پھنسیں گے قائد تجھے سلام۔
گاڑیاں بھی ہیں۔ چلتی بھی ہیں۔ سی این جی سلنڈر بھی نصب ہے لیکن۔۔۔۔لیکن آئے روز سی این جی سلنڈرز کی مہربانیوں سے کوئی نہ کوئی حادثہ رونما ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ غیر معیاری سلنڈر ہیں بابا۔ لیکن فکر کی کوئی بات نہیں بابا جی جہاں پھنسے قائد تجھے سلام۔
گاؤں میں چلے جاؤ بابا۔میڈیکل سٹور کی آڑ میں کنسلٹنٹ صاحب بیٹھے ہوں گے ہومیوپیتھک کی ڈگری لے کر۔ سرجری کر رہے ہوں گے۔ٹانکے لگا رہے ہونگے۔کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے بابا۔ اگر کوئی آ جائے چیک کرنے تو پہلے ہی اس کے آنے کی خبر مل جاتی ہے اور پھر کیا۔۔۔ پھر دم دبا کے بھاگ جاؤ بابا۔ تالے لگا جاؤ۔ اگر پھر بھی کوئی پکڑا گیا تو قائد تجھے سلام۔
قانون تو ہے بابا۔ لیکن پیروی کرنے والاکوئی نہیں۔ جتھے دل کرے بیکری کھول لیں۔ ہائی جین سرٹیفیکیٹ کیا ہوتا؟ بابا جی سے بولو ہائی جین سرٹیفیکیٹ بنوا دیں۔ چاہے جو بنوانے جا رہا ہو اس نے منہ بھی نہ دھویا ہو ا ہو۔ لیکن کیا کرنا ہائی جین کو۔ ہائی جین سرٹیفیکیٹ جانے اور بابا جی جانیں۔
اور ہاں یہ گلی کا ٹینڈر مل گیاہے۔ گلی بنانی ہے بابا جی۔ لیبر سے کہہ دیں زیادہ مال نہیں ڈالنا۔ ریت تھوڑی زیادہ ڈالیں گے۔ ایک نمبر نہیں، دو نمبر نہیں دس نمبر مٹیریل کا پتا کریں۔ کیا کریں بابا جی۔ اپنے لیئے بھی بچانا ہے۔ ٹینڈر دینے والوں کو بھی کچھ نہ کچھ کمیشن دینا ہے۔ اورہاں میں تو بھول ہی گیا تھا بابا جی۔ گلی پاس کرانے کیلئے بھی تو کچھ نہ کچھ دینا ہے ناں۔ چاہے ایک مہینے بعد گلی پھر خراب ہوجائے ہمیں کیا؟
شاعر نے کیا خوب فرمایا
اصول بیچ کر مسند خریدنے والو
نگاہِ اہلِ وفا میں بہت حقیر ہو تم
باباجی ابھی بھی آپ تبدیلی کا واویلا کرتے ہو۔ کیسی تبدیلی؟ تبدیلی کیلئے ہر فرد کو تبدیل ہونا پڑتا ہے۔ یہاں اگلے سوسال بھی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ ہمیں باباجی کا چسکا پڑ چکا ہے۔ جب تک ہمیں یہ لت پڑی ہوئی ہے کسی بھی تبدیلی کا سوچنا محض خواب ہوگا۔اور ہاں ہم ان قوموں میں سے نہیں ہیں بابا جو اتنی آسانی سے یہ چسکا چھوڑ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں