350

کہنا ضروری ہے


تحریر :سعد عبداللہ اعوان دندہ شاہ بلاول ((03125718780
کافی سال سے ایک اشتہارکافی مقبول ہے جس میں سب کچھ بیچنے کا مشورہ بڑے جوش و خروش سے دیا جاتا ہے اس اشتہار کا اثر عوام نے لیا یا نہیں لیکن ہمارے ارباب اختیار نے کئی سالوں سے اس بیچ دے کو اپنے گھر کی باندی بنایا ہوا ہے جہاں جس کا بس چلتا ہے بیچتا ہے
بات ہو پی آئی اے کی یا سٹیل مل کی معاملہ ہو سکولوں کی نجکاری کا یا واپڈا جیسے ادارے کو تباہ کرنے کا ارادہ ہو ہمارے شریف نہایت شرافت سے بیچ دے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں لیکن اس پالیسی کو پاس کسی پارلیمنٹ کسی اسمبلی کسی عدالت کسی اسٹیبلشمنٹ نے نہی بلکہ اس ملک کی ۲۲ کروڑ عوام نے کیا ہے جی ہاں سب سے پہلے ہم نے بیچی اپنی عزت نفس اور خود کو ارباب اختیار کے دائرہ کار میں لا کر اور اس پالیسی کی پہلی شق بنائی پھر ہم نے اس پالیسی کی مضبوطی کیلیے دن رات محنت کی اور اپنے ضمیر بیچ کر اس پالیسی کو انتہائی مضبوط حصار فراہم کیا
یوں آہستہ آہستہ یہ انتہائی اہم قانون مکمل پاس ہوا اور انتہائی ایمانداری اور شرافت سے اس قانون پر خود بھی عمل پیراء ہیں بلکہ اپنے آقاؤں کو بھی اس قانون کی تکمیل کیلیے آشیرواد دیتے نظر آتے ہیں ۔
معززقارئین! تلخ باتیں کرنے کا اپنا ہی ایک سکون ہے جہاں تلخ باتوں پر لوگ ناراض ہوتے وہیں اپنا ضمیر شاباش کی تھپکی دے کر بتاتا کہ واقعی سچائی بڑی کام کی چیز ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔۔۔۔تو بات ہو رہی تھی ایسی پالیسی اور ایسے قانون کے جس کے تحت سب کچھ بیچنے کے درپے ہیں ۔۔۔۔۔۔میرے پاکستان کے لوگو آپ اکثر میڈیا پر یورپی ممالک دیکھ کر انگشت بداں ہوتے ہونگے وہاں کی ہر چیز میں آپ کو خوبصورتی نظر آتی ہوگی اور آپ ٹھنڈی آہیں بھرتے ہونگے ۔۔۔۔۔کیا آپ جانتے ہیں ایسے بیشتر ممالک میں آپ کے پیسے ہی کی وجہ سے اتنی چمک دمک ہوتی ہے جی ہاں آپ کیلیے یہ بات حیرانگی کی ہی ہوگی لیکن چلیے میں آپ کو بتاتا ہوں ایک رپورٹ کے مطابق پسماندہ اور غریب ممالک سے اوسطا تقریبا ایک ہزار ارب ڈالر سالانہ ترقی یافتہ ممالک میں منتقل ہوتا ہے
اور ان پسماندہ ممالک میں آپ کا بھی شمار ہوتا ہے جس میں سب کچھ بیچ دے کی پالیسی پر ثابت قدمی سے ڈٹے رہنے پر آپ کو میڈیا پہ ترقی یافتہ ممالک دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرنے کا موقع تو ملتا ہے اور یقیناًآپ کیلیے تو بجلی کی لوڈشیڈنگ میں یہ ٹھنڈی آہیں کسی نعمت سے کم نہی ہونگیں ۔۔۔۔ہمارے جیسے ممالک سے پیسہ سیاست دان اور بیورو کریٹ چوری کر کے سوئس بینک اور دوسرے ممالک کے بینکس بھرتے جن سے ان ممالک کی معیشت مضبوط ہوتی وہاں خوشحالی آتی ۔۔ہمارے حکمران جہاں پیسہ باہر بھیجتے وہیں انکی ناقص پالیسیوں سے ہمارے بڑے کاروباری حضرات بھی اڑان بھر کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں ۔۔۔پیچھے رہ جاتے ہم جیسے غریب لوگ جو بیچ دے کو مزید تقویت دینے کیلیے الیکشن میں ووٹ دے کر اس پالیسی پر اپنے دستخط بھی کرتے نظر آتے کہ آج سے ہم تجدید عہد کر رہے ہیں کہ اس پالیسی کیلیے ہمارا ووٹ ،ہمارا ضمیر سب کچھ حاضر ہے بس یہ قانون بچنا چاہیے چاہے ہماری نسلوں کو صاف پانی ملے نہ ملے ،اچھی صحت ملے نہ ملے ،بہترتعلیم ملے نہ ملے ،روزگار ہو یا غربت سے خودکشی کرنی پڑے سب منظور ہے ۔آخر کیوں ہم یہ سب کرتے ہیں آخر کب تک ایسا کرتے رہینگے ہوش کے ناخن کیوں نہی لیتے ؟؟؟؟؟؟ہمیں سوچنا بھی ہوگا سمجھنا بھی ہوگا عمل بھی کرنا ہوگا ۔اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں