514

حلقہ این اے 61 سے 65 ہونا کئی سیاست دانوں کی سیاست لے ڈوبا،آمدہ الیکشن میں سیاستدانوں کو نئے حلقوں میں مشکلات کا سامنا ۔

تلہ گنگ (نمائندہ بے نقاب)تفصیلات کے مطابق الیکشن کمشن آف پاکستا ن کی طرف سے حلقہ بندیوں میں کی گئی تبدیلیاں جہاں پورے ملک کے سیاست دانوں کی سیا سی زندگی پر اثر انداز ہوئی ہیں وہیں حلقہ این اے 61 سے این اے 65ہونا اور صوبائی حلقوں میں تبدیلی کے بعد بہت سے سیاست دان مضبوط ہوئے ہیں وہی کئی بااثر

سیاسی شخصیات کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن گیا ہے ان صوبائی اور قومی حلقوں کی تبدیلی کی وجہ سے جو سیاست دان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان میں مسلم لیگ ن کے ایم پی اے اور صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم سیتھی اور مسلم لیگ ن ہی کہ ایم پی اے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ شامل ہیں ،ملک تنویر اسلم سیتھی نئی حلقہ بندیوں کے بعد حلقہ این 65کے صوبائی حلقہ پی پی 23 میں شامل ہوگئے ہیں جس میں بلکسر،میونسپل کمیٹی کلرکہار ،بوچھال کلاں،تلہ گنگ شہر اور اس کے ساتھ محلقہ آبادیا ں شامل ہیں،عوامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے پی پی 23 میں بہت بڑی تعداد ان علاقوں کی ہے جہاں ملک تنویر اسلم کا ووٹ بنک بلکل زیرو ہے جس کی وجہ سے آنے والے الیکشن میں ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے،جبکہ یہی حال سرادار زولفقار علی خان دلہہ کا ہے ان کو جس علاقے میں شامل کیا گیا ہے وہاں سردار ذولفقار علی خان کا ووٹ بنک نہ ہونے کہ برابر ہے،جہاں ان نئی حلقہ بندیوں نے بہت سے سیاست دانوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے وہی بہت سے سیاست دان ایسے ہیں جن کے لئے بہتری اور آگے بڑھنے کے دروازے کھلے ہیں جن میں حافظ عمار یاسر ،منصورحیات ٹمن،فلک شیر اعوان،سردار فیض ٹمن ،شہیر یار اعوان ،تقی شاہ اورلاوہ شہر سے آنے والے امید وار شامل ہیں ،عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والا وقت بتائے کا کہ کون سا سیاست دان درست وقت پر درست فصیلہ کر کے اس موقع سے بھر پور فا ئدہ اٹھاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں