132

قاتل روڈ……….تحریر: امیر احسان اللہ چینجی03445624732

چند روز قبل تلہ گنگ فرینڈز سوسائٹی کے زیر اہتمام محمد حسین صاحب کی کاوشوں سے الاعوان انٹر نیشنل ہوٹل پر بلکسر تا میانوالی ون وے روڈ کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لئے اجلاس بلایا گیا جس میں اکثریت صحافیوں نے شرکت کی ۔جناب محبوب جراح۔ محمد نوید دڑوٹ۔چوہدری نذر۔لیاقت اعوان۔شاہ نواز جھابڑی۔محمد عمران سرور اور ملک اعجاز نے شرکت کی۔مجھے بھی دعوت دی گئی اور بے پناہ مصروفیات کے باوجود اپنی شرکت کو یقینی بنایا۔ قارئین صحافی اکثر اوقات تلہ گنگ کے مسائل کو اجاگر کرنے اور انتظامیہ سمیت سیاسی اکابرین کی توجہ حل طلب معاملات کی طرف مبذول کرانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ بلکسر تا میانوالی روڈ پر پے در پے سانحات نے ایک خوف کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ ہر نئے

دن افسوس ناک واقعات رونما ہوتے ہیں اور اب تک بے شمار قیمتی جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔ بین الصوبائی اس مرکزی شاہراہ پر تیز رفتار گاڑیاں علاقہ مکینوں کو کچل کر قیامت بپا کرتی ہیں۔ماؤں کے جگر گوشے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں اور ان کے پیارے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ان کو لحد میں اتار دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ کب کا جاری ہے اور حادثات جب سے میڈیا پر آئے تو اپنے طور پر ڈی پی او چکوال نے پرچی سسٹم متعارف کرایا لیکن وہ بھی عدالت کے فیصلے کے بعد ختم ہوگیا۔ پرچی سسٹم کے تحت بلکسر سے ترحدہ تک بڑی کوچز اور ٹریلرز کو درمیانی داصلہ دو گھنٹوں میں طے کرنے کا پابند کیا گیا تھا جو عموما تیز رفتار کوچز ایک گھنٹے یا اس سے بھی کم میں طے کرتی تھیں۔ تاہم حادثات کا سلسلہ برقرار رہااور انسانی جانوں کا ضیاع معمول بن گیا۔ اب جبکہ عوامی حلقوں کی طرف سے سخت ردعمل آنا شروع ہواتو تلہ گنگ فرینڈز سوسائٹی نے باقاعدہ ایک مہم کے ساتھ ون وے کا مطالبہ رکھ دیا۔ اس حوالے سے پہلے اجلاس میں راقم نے موجودہ حکومت کی تلہ گنگ کے حوالے سے پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ تلہ گنگ حسب وعدہ نہ ضلع بنا۔ نہ انڈسٹریل زون بنا۔ نہ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سی پیک کو تلہ گنگ سے میلوں دور لے جایا گیا۔صحت کے حوالے سے تلہ گنگ کے ہسپتال جدید مشینری سے محروم ہیں اور سب سے بڑھ کر بین الصوبائی شاہراہ پر آئے روز حادثات کے باوجود اسے ون وے نہیں کیا گیا۔ لیاقت اعوان نے بھی کہا کہ اب باتوں کے بجائے عمل کا وقت ہے اور ذمہ داران کو جھنجوڑنے کا وقت ہے۔ اس حوالے سے ایک ورکنگ کمیٹی تشکیل دی گئی جو آئندہ کا لائحہ عمل وضع کرے گی۔ قارئین اس حوالے سے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی وابستگیوں سے آزاد ہو کر کم از کم ون وے کے مطالبے پر تلہ گنگ کی عوام یکجا ہوکر مؤثر انداز میں اپنا مقدمہ پیش کریں اور ضلع جیسے جھوٹے وعدوں کے برعکس عملی اقدامات کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصرہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں