179

’’نیا اتحاد‘‘ ملک سلیم اقبال بضد صورتحال دلچسپ……تحریر شیخ محسن قیوم

محترم قارئین ملکی سیاسی صورتحال نے گرمیوں کے موسم کو مزید گرما دیا ہے الیکشن ہے کہ روز نت نئی خبروں نے بھی چکرا کر رکھ دیا ہے سب سے پہلے بات حلقہ این سے 65جہاں پر امیدواروں کی لمبی لائن لگی ہوئی ہے حکمران جماعت سے سردار ممتاز خان ،سردار غلام عباس ،ملک اسد ڈھیر مونڈ ،ملک فلک شیر

اعوان ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ اپوزیشن میں چوہدری پرویز الہی ،سردار منصور حیات ٹمن ،چوہدری راسخ الہی سمیت دیگر شامل ہیں جبکہ صوبائی میں ملک شہریار اعوان ،سردار زولفقار دلہہ ،حافظ عمار یاسر ،ملک سلیم اقبال ،سردارغلام عباس ،سید تقی شاہ ،فوزیہ بہرام ،پیر نثار جوجی کے نام سامنے ا رہے ہیں ان میں کنفرم ٹکٹ والے وہی ہیں جو پہلے حلقوں سے منتخب ہو چکے ہیں میرا مطلب ہے کہ تلہ گنگ سے سردار ممتاز خان ٹمن ،ملک شہریار اعوان ،سردار زولفقار دلہہ ،جبکہ چکوال سے میجر طاہر اقبال ،ملک تنویر اسلم سیتھی ،چوہدری حیدر سلطان کے نام شامل ہیں کسی نئے کو ٹکٹ دے کر ن لیگ کو بند گلی میں دھکیل سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ممبران اسمبلی کروڑوں روپے کے فنڈز اپنے حلقوں میں لگا چکا ہے جس کی وجہ سے ان کی پوزیشن مضبوط ہے لیکن اب جو اصل مسلۂ ہے وہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو ہر مشکل سے نکالنے والے سردار غلام عباس کو کہاں اور کب ایڈجسٹ کیا جائے گا فل الحا ل تو ایسی کوئی جگہ نظر نہیں آ رہی میں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ سردار غلام عباس خان شاہد اپنے سامان اٹھا کر کسی جانب رخ کر لیں گے لیکن اج آنے والی خبر جس میں چوہدری ایاز امیر کو پی ٹی ائی نے این اے 65میں گرین سنگل دے دیا ہے اور سابق ناظم کیلے راستہ بند کر دیا ہے لیکن سردار غلام عباس کے پاس اچھا اپشن ابھی بھی موجود ہے کہ وہ ملک سلیم اقبال کی کہی ہوئی بات مان لیں اور سابقہ الیکشن کی طرح دونوں حلقوں میں اپنے امیدوار آزاد حیثت میں کھڑے کریں اگرچہ ان کو ن لیگ کسی بھی سیٹ پر ایڈجسٹ کر بھی لیں تو تلہ گنگ میں سردار ممتاز خان اور سردار دلہہ ان کے مدمقابل کھڑے ہونگے جبکہ چکوال میں میجر طاہر اور ایاز امیر ۔ جبکہ نیا اتحاد میں آپ کے تمام دوست ایڈجسٹ ہو سکتے ہیں ادھر اس بار تلہ گنگ کی سیاست میں ن لیگ کیلے بہت ٹف ٹائم آنے والا ہے سنے میں آ رہا ہے کہ مسلم لیگ ق کے پینل پر چوہدری پرویز الہی ،حافظ عمار یاسر اور راسخ الہی میدان میں اتر رہے ہیں جبکہ ق میں سید تقی شاہ ،ملک قدیر الطاف ،ملک اسد کوٹگلہ اورقومی میں سردار فیص کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس وقت سیاسی منظر نامے میں ن لیگ سے زیادہ ق لیگ کے امیدوار زیادہ مطمین نظر ا رہے ہیں جبکہ حافظ عمار یاسر کو خود الیکشن لڑنے سے صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے جبکہ چوہدری پرویز الہی کی ایک ماہ میں تیسرا چکر بھی مخالفین کو پریشان کر رہا ہے جبکہ اسی تناظر میں ملک سلیم اقبال بضد ہے کہ سردار غلام عباس کو تلہ گنگ سے الیکشن لڑایا جائے اور دونوں صوبائی سیٹوں پر ہم براجمان ہوں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ملک شہریار اعوان پارٹی کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر اپنے سیاسی استاد کو ملک سلیم اقبال اس الیکشن میں سردار ممتاز خان اور سردار دلہہ کو اوٹ کرنے کے چکروں میں ہیں اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں یہ وقت بتائے گا اگر اختلافات بڑھ گے تو دما دم مست قلندر ہو گا جو پہلے ہوتا آیا ہے اب تک کی تازہ صورتحال کے مطابق ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر عام انتخابات کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کی تیاری شروع ہوچکی ہے ، مقابلہ بہرحال مسلم لیگ ن ،ق لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں، پی ٹی آئی کا پارلیمانی بورڈ 2اپریل کو اپنی جماعت کے ٹکٹوں کا فیصلہ کرنے کیلئے جا رہا ہے۔ حلقہ این اے64پر ایاز امیر اور حلقہ این اے 65پر سردار فیض ٹمن کو ٹکٹ ملنے کیاامکانات ہیں۔ پی پی21پر چوہدری تیمور علی خان ایڈووکیٹ، راجہ علی ناصر بھٹی اور شیخ وقار علی میں سے ٹکٹ کا تاج کسی ایک کے سر سجے گا۔ پی پی22پر راجہ طارق افضل کالس ، پیر وقار حسین کرولی،ملک اختر شہباز اور راجہ منور احمد کے درمیان مقابلہ ہے ان میں سے کسی ایک کو ٹکٹ ملنے کا امکان ہے۔ پی پی23پر پیر نثار قاسم اور فوزیہ بہرام کے درمیان مقابلہ ہے۔ پی پی24پر کرنل سلطان سرخرو کو ٹکٹ ملنے کا 100فیصد امکان ہے۔جبکہ ق لیگ بھی ضلعی سطح پر اپنے امیدوار کھڑے کریں گے تلہ گنگ میں چوہدری پرویز الہی این اے پی پی 23 حافظ عمار یاسر ،اور پی پی 24پر چوہدری راسخ الہی اور ملک قدیر الطاف کا نام سامنے آرہا ہے دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے ابھی تک ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ شروع نہیں ہوا بہرحال صرف2حلقوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ طے کیا جانا ہے۔ حلقہ این اے64میں سردار غلام عباس اور میجر طاہرا قبال کے درمیان ٹائی ہے۔ پی پی23میں سردار ذوالفقار علی خان دلہہ اور ملک سلیم اقبال کے درمیان مقابلہ ہے ۔ حلقہ این اے65میں سردار ممتاز ٹمن کا ٹکٹ فی الحال یقینی ہے، پی پی24پر شہریار اعوان فائنل ہیں پی پی22پر ملک تنویر اسلم سیتھی یقینی ہیں مگر ایم پی اے مہوش سلطانہ کی بھی اس حلقے سے الیکشن لڑنے کی خواہش موجو دہے۔ پی پی21پر چوہدری سلطان حیدر علی کا کلہ بدستور مضبوط ہے۔ بہرحال اپریل کے مہینے میں دیگر جماعتوں کے بھی امیدوار سامنے آنے کا امکان ہے۔میری پھوپھو کے انتقال پر جن احباب نے افسوس کیا اور ہمارے دکھ میں شریک ہوئے ان کا بہت بہت شکریہ اسی کسیاتھ آپ کی دعاوں کا طلبگار محسن قیوم ابن شیخ قیوم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں