326

ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر آنے والے عام انتخابات کیلئے صورتحال دلچسپ،ٹکٹ کا حقدار کون؟

چکوال(نمائندہ بے نقاب)ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر آنے والے عام انتخابات کیلئے صورتحال بڑی دلچسپ ہوگئی ہے۔ راجہ یاسر سرفرازعملی طو رپر حلقہ این اے64 سے الیکشن لڑنے کے حوالے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور اب انہوں نے حلقہ پی پی21پر ٹکٹ کیلئے درخواست جمعہ کرا دی ہے جبکہ اسی نشست پر پی ٹی آئی کا ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں میں چوہدری تیمور علی خان ایڈووکیٹ، علی ناصر بھٹی اور

شیخ وقار علی پہلے ہی لائن میں لگے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے پاس حلقہ این اے64میں ایاز امیر کے علاوہ حلقہ این اے64میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ لینے والا متاثر شارٹ لسٹ ہیں۔ سردار غلام عباس متاثر ہوئے تو پھر یقینی طور پر این اے64میں پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں بصورت دیگر ایاز امیر کو این اے64پر پی ٹی آئی کی طرف سے اتارے جانے کا امکان ہے۔ میجر طاہر اقبال کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہ ملا تو پھر ایاز امیر اور میجر طاہر اقبال کے درمیان پی ٹی آئی کے ٹکٹ کیلئے ٹائی ہے۔ اس حوالے سے صورتحال بڑی دلچسپ ہوچکی ہے۔ سردار غلام عباس گروپ اور میجر طاہر اقبال گروپ کے حامیوں کے دلوں کی دھڑکن ہر آنے والے دن کیساتھ تیز ہورہی ہے کہ پتا نہیں ٹکٹ کدھر جائے گا۔ بہرحال تمام تر صورتحال کے باوجود سردار غلام عباس اس حوالے سے فیورٹ ہیں کہ ان کے پاس اپنا ذاتی ووٹ بینک موجود ہے جبکہ دوسری طرف میجر طاہر اقبال اگر مسلم لیگ ن کے اندر موجود رہے تو بے شک انٹی سردار ووٹ ان کی جیب میں ہے بصورت دیگر صورتحال مختلف ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق سردار غلام عباس حلقہ این اے 64، پی پی21راجہ یاسر سرفراز اور پی پی22پر راجہ منور احمد پی ٹی آئی کی طرف سے یہ پینل لے کر میدان میں اترے تو پھر ان کی کامیابی کے امکانات بڑے روشن ہیں۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے اس پینل کا مقابلہ کرنے کیلئے میجر طاہر اقبال ، چوہدری سلطان حیدر علی اور ملک تنویر اسلم یقینی طور پر میدان میں اتریں گے۔ سردار غلام عباس کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ملا تو پھر میجر طاہر اقبال کی جگہ حلقہ این اے64پر سردار غلام عباس ہونگے اور سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ پینل ناقابل شکست ہے۔ بہرحال صورتحال بڑی دلچسپ ہے۔ پیپلز پارٹی کی کوئی دلچسپی ابھی تک آنے والے عام انتخابات میں ضلع چکوال کی حد تک دور دورتک دکھائی نہیں دیتی۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ بھی ضلع چکوال میں اندرونی اور مسلکی اختلافت کی زد میں ہے، متحدہ مجلس عمل بھی ابھی تک فنکشنل نہیں ہوئی ہے بہرحال ضلع چکوال میں مقابلہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں