55

تلہ گنگ والو ! مان لو تمھیں کچھ نہیں ملنا……………………..تحریر :امجد طفیل بھٹی

تلہ گنگ کے لوگوں کو نہ جانے کون سی مقناطیسی قوت مسلسل ن لیگ کی طرف کھینچتی ہے کہ ہر بار اْنہیں مفت میں ہی سیٹیں جتوائے جارہے ہیں۔ ایم این اے سے ایم پی اے تک ، اور جنرل الیکشن سے لے کر ضمنی الیکشن تک ہر بار ن لیگ کو یہاں سے فتح دلوا کر تلہ گنگ اور اسکے گرد و نواح کے عوام نے اپنی وفا کا بھرپور مظاہرہ کیا مگر حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں کی بے وفائی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ یہاں یہ محاورہ کہ ‘‘ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے ‘‘ سچ لگنے لگتا ہے۔ تلہ گنگ کے بے چارے بھولے بھالے عوام لالی پاپ کو بھی آئس کریم سمجھ کر کھاتے ہیں اس سے انکی سادگی تو ظاہر ہوتی ہی ہے تو دوسری طرف حکمرانوں اور سیاستدانوں کی مکاری بھی ظاہر ہوتی ہے جو کہ یقیناً اپنی نجی محفلوں میں اور ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر اس بات کو لے کر خوب قہقہے لگاتے ہونگے کہ تلہ گنگ کے لوگوں کو صرف وعدوں پہ کیسے ٹرخایا جا سکتا ہے۔ہاں وعدوں کے حْجم میں واضح فرق موجود ہے ، جیسے کہ جنرل الیکشن میں تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دینا ، بلکسر میانوالی موٹروے کی تعمیر، تلہ گنگ کے ہونہار اور ذہین طلباء4 کے لیے میڈیکل کالج کی تعمیر ، اور انڈسٹری لگا کر بے روزگاری کا خاتمہ جیسے بڑے بڑے وعدے شامل ہیں جبکہ ضمنی الیکشن میں چھوٹے حجم کے وعدے جیسے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک پکی سڑک کی تعمیر ، دوردراز گاؤں تک بجلی کی فراہمی ، گلیوں کی تعمیر اور پرائمری ، مڈل یا ہائی سکولوں کی تعمیر شامل ہیں۔

جہاں تک تلہ گنگ کو ضلع بنانے کا تعلق ہے تو یہاں کے عوام اور مقامی سیاستدانوں کے لیے اب یہ چھیڑ بن چکا ہے کیونکہ ہر بولنے والا شخص ایک ہی سوال کرتا نظر آتا ہے ‘‘ ضلع دا کی بنڑیاں ‘‘ یعنی تلہ گنگ کو ضلع بنانے کا کیا بنا ؟ لیکن مقامی سیاستدانوں کی شرافت اور خاموش طبیعت شاید اس بڑے مطالبے کے آگے سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پچھلے دس سالوں سے تلہ گنگ کے عوام نے سینکڑوں تصویریں دیکھی ہونگی جن میں تلہ گنگ کے سیاستدان ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ملاقات کرتے نظر آتے رہے ہیں۔ کبھی مشیرِ وزیراعلیٰ نوازشریف کے ساتھ تو کبھی شہباز شریف کے ساتھ ، کبھی نئے ایم پی اے صاحب حمزہ شہباز کے ساتھ تو کبھی مریم نواز کے ساتھ فوٹو سیشن کراتے نظر آئے ۔ اب ملاقات کے اندر کیا باتیں ہوئیں یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن باہر آنے کے بعد مقامی سیاستدان مطمعن ہو کر جھوٹ بولتے نظر آئے کہ ہمارے تمام مطالبات بشمول سب سے بڑا مطالبہ یعنی تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دینے کے مان لیے گئے ہیں اور اعلیٰ قیادت نے اس ضمن میں ورکنگ کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ اب بے چارے تلہ گنگ کے سادے عوام اور سیاستدانوں کو کون سمجھائے کہ پاکستان کے سیاسی نظام حکومت میں اگر کوئی کام نہ کرنا ہوتو کمیٹی اور اگر کوئی کام بالکل نہ کرنا ہوتو کمیشن بنا دیا جاتا ہے۔

اس لیے اب کی بار عوام اور مقامی سیاستدانوں کی طرف سے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے کہ آیا جھوٹے وعدوں اور لاروں کے سہارے زندگی گزارنی ہے یا پھر حقیقی معنوں میں تلہ گنگ کے عوام کا بھلا سوچنا ہے۔ ایک بات یہاں کے عوام کو ذہن میں رکھنی ہوگی کہ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تلہ گنگ ضلع بنے یا پھر نہیں مگر مقامی سیاستدانوں کی سیاست ضرور دفن ہو جائے گی اور شاید ان سیاستدانوں کو اپنی پارٹی بدلنا پڑ جائے۔ ویسے پارٹی بدلنا ان لوگوں کے لیے مشکل نہیں ہے کیونکہ یہ کونسا نظریاتی سیاستدان ہیں۔ یہ لوگ بھی تو موسمی پرندوں کی طرح اپنا ٹھکانہ بدلنے کے عادی ہیں مثلا یہاں کے ایم این اے سردار ممتاز ٹمن پہلے ساری زندگی پیپلز پارٹی میں رہے ، پھر پہلے ضمنی الیکشن اور بعد میں 2013 کے جنرل الیکشن میں مسلم لیگ کی ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے۔ ممتاز ٹمن المعروف بابا ممتاز آج تک حلقے کے عوام کو نہ تو کسی ٹی وی شو میں نظر آئے اور نہ ہی کسی پارٹی میٹنگ میں انکی جھلک دیکھنے کو ملی ، اور تو اور قومی اسمبلی میں بھی انکی موجودگی ماسوائے وہاں پڑے حاضری رجسٹر کے علاوہ شاید ثابت نہ ہوسکے۔ میاں نواز شریف کو ذاتی طور پر ممتاز ٹمن بہت اچھے لگتے ہیں اور اسکی سب سے بڑی وجہ انکی خاموشی اور سادہ طبیعت ہے۔ قوی امکان ہے کہ انہوں نے اپنی حکومت سے اپنے حلقے کے لیے خود کچھ نہ مانگا ہوگا۔

یہاں کے مشیرِ وزیراعلیٰ ملک سلیم اقبال اس سے پہلے ق لیگ کو بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں ، وہ دور حلقے کے عوام کیسے بھول سکتے ہیں جب ملک صاحب کا تلہ گنگ کا ڈیرہ سیاسی سرگرمیوں اور ق لیگ کا گڑھ ہوتا تھا اور جب کوئی بھی چیلہ چمچہ اپنے من کی مراد باآسانی پا سکتا تھا۔ جبکہ یہاں کے موجودہ ایم پی اے ملک شہریار اعوان یعنی کی ملک سلیم صاحب کے نواسے جو کہ اپنے چچا محترم ظہور انور اعوان ( سابقہ ایم پی اے ق لیگ ) کی وفات کے بعد ایم پی اے بنے ہیں ، ابھی سیاست میں نئے نئے ہیں اْنہیں ابھی تک اپنی اعلیٰ قیادت کی ‘‘ سیاست ‘‘ کی شاید اتنی زیادہ سمجھ بْوجھ بھی نہیں ہے کیونکہ اگر سمجھ بوجھ ہوتی تو شاید ن لیگ کی طرف کبھی نہ جھکتے اور اگر ن لیگ میں جانا ضروری بھی تھا تو تلہ گنگ کے عوام کے دیرینہ مطالبہ یعنی ضلع تلہ گنگ کو ہی پایہ تکمیل تک پہنچا دیتے ، مگر شاید پہلی دفعہ ایم پی اے کے ٹکٹ کے چکر میں وہ کوئی بھی مطالبہ نہ کر سکے۔ اور اب کی بار بھی ٹکٹ کی دوڑ میں مشکل ہے کہ وہ اسی طرح کا کوئی مطالبہ اپنی قیادت سے کر سکیں۔ تلہ گنگ کے عوام کے لیے ضلع کا بن جانا تو کسی نعمت سے کم نہیں ہے کیونکہ ایک چھوٹے سے سرکاری کام کے لیے تحصیل تلہ گنگ کے نواحی علاقوں کے لوگ ستر ، اسی کلومیٹر کا سفر کر کے جب ضلع چکوال شہر پہنچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ سرکاری افسر تو شہر سے باہر ہے جبکہ کلرک صاحب مصروف ہیں۔ نتیجتاً خواری ہی تلہ گنگ کے عوام کا مقدر بنتی ہے۔اس بڑے مطالبے کی اہمیت اپنی جگہ مگر بلکسر میانوالی روڈ کی حالت اپنی جگہ ، جس پر بھیانک روڈ حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں کے حادثات کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں تو پتہ چلے گا کہ یہ تعداد سینکڑوں میں ہے۔

یہاں کے سیاستدانوں سے یہ گزارش ہے کہ خدارا اس خونی شاہراہ کو موٹروے نہ بنوائیں کم از کم دو رویہ ہی بنوا دیں تاکہ یہاں کے عوام کو روز روز اذیت ناک حادثات تو دیکھنے کو نہ ملیں ، اوپر سے سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ تلہ گنگ شہر میں ماسوائے سٹی ہسپتال کے کوئی ایسا بڑا ہسپتال نہیں ہے جو کہ اتنی بڑی آبادی کے مریضوں کا بوجھ برداشت کر سکے۔ یہ الگ بحث ہے کہ سٹی ہسپتال میں طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کی کیا صورتحال ہے۔خیر یہ سارے مطالبات تلہ گنگ کے عوام کے دل کی آواز اور زندگی کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں مگر سْننے والا بھی تو کوئی ہو۔ تلہ گنگ کی تاریخ میں اگر سب سے زیادہ کام ہوئے ہیں تو وہ صرف اور صرف ق لیگ یعنی چوہدری پرویز الہٰی کے دورِ حکومت میں ہوئے ہیں جنہوں نے ہمیشہ تلہ گنگ کو اپنا گھر سمجھا اور یہاں کے عوام سے بے پناہ عزت سمیٹی۔ آج بھی چوہدری صاحب کے دست راست حافظ عمار یاسر صاحب بغیر کسی سیاسی سیٹ کے عوام میں بے پناہ مقبول ہیں اور اسکی وجہ صرف اور صرف تلہ گنگ کے عوام کے مسائل کو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھنا ہے۔ آج جب بھی کبھی تلہ گنگ میں کوئی حادثہ یا واقعہ پیش آتا ہے تو حافظ عمار یاسر اور انکے خالہ زاد بھائی حاجی عمر حبیب کا نام ہی امدادی کاروائیوں میں سْننے کو ملتا ہے جوکہ اپنے رضاکاروں کے ساتھ اپنی جیب سے عوام الناس کی خدمت کررہے ہیں۔ اس حلقے میں حافظ عمار یاسر کے قد کا سیاستدان اور سوشل ورکر شاید عوام کو دوبارہ نصیب نہ ہو۔ اور آئندہ آنے والے الیکشن میں اگر ن لیگ کو کوئی مشکل پیش آ سکتی ہے تو وہ حافظ صاحب کی صورت میں ہی آ سکتی ہے۔ وگرنہ تلہ گنگ کے عوام کو پرانے اور آزمائے ہوئے سیاستدانوں سے کچھ ملنے کی قطعی کوئی توقع نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں