212

مرادِ نبی،دامادِ علی ،امامِ عدل وحریت ،خلیفہء ثانی حضرت عمر فاروق صکے مختصر حالاتِ زندگی


مرادِ نبی،دامادِ علی ،امامِ عدل وحریت ،خلیفہء ثانی
حضرت عمر فاروق صکے مختصر حالاتِ زندگی
تحریر : ملک پرویز اقبال ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

؁ حضرت عمر فاروقؓ نے کل 63سا ل عمرپائی،جن میں سے10سال6ماہ خلیفہ رہے اوریکم محر م الحرام 24 ھ ؁کو شہادت پائی۔آپ سابقینِ
اولین میں سے ہیں، 40مرداور11عورتوں کے بعد مسلمان ہوئے ،آپ صکے اسلام قبول کرنے سے اسلام کو بہت تقویت ملی۔
آپ صنے اپنے دورِ خلافت میں 22ہزار مربع میل تک کے علاقہ پر اسلامی حکومت قائم کی۔اور 3600علاقے فتح کئے،جن
میں سے چند کے نام یہ ہیں۔ دمشق ،قادسیہ،جزیزہ،خوزستان ، عجم، آرمینہ، مدائن، عراق،شام،بیت المقدس ، ایران، نہاوند،
مصر،اسکندریہ ، آذربائیجان، کرمان،خراسان، مکران (جس میں بلوچستان کا کچھ حصہ بھی آجاتا ہے) آپصکے دورِ خلافت میں فتح
ہوئے۔
کارنامے: بیروزگارعیسائیوں اور یہودیوں کے سیلری مقرر کی ،نو مولود کے لئے ریاست کی جانب سے وظیفے کی ادائیگی،گم شدہ بچوں
کی پرورش کے لئے روزینے مقرر کئے ، محکمہء پولیس ،محکمہء جیل ، بیت المال کا قیام ،محاصل کے حصول ،آمدات کے حساب کتاب ، آب
پاشی کا نظام ،یتیم خانے، سماجی بہبود کے مراکزکا قیام ،مہمان خانے تعمیر کروائے ،عربی حروف سے مزین سکوں کا اجراء، نمازِ تراویح کی با
جماعت مسجدِ نبوی میں تجدید،نیز پوری اسلامی ریاست میں آزاد عدالتی نظا م اور اسلامی ہجری کیلینڈر کی تشکیل جیسے انقلابی اور رجحان ساز
اقدامات دورِ فاروقی کے وہ سنہرے کارنامے ہیں جن سے نہ صر ف تاریخِ اسلام جگمگا رہی ہے ، بلکہ ان اقدامات سے اقوامِ عالم با لخصوص
مغرب نے بھی بھر پور استفادہ کیا ہے۔غرض یہ کہ آپصکا دورِ خلافت عوامی فلاح و بہبود ،اختراع و ایجاد ،عدل و انصاف اور اسلامی
تعلیمات کی عملی تفسیر سے عبارت ہے۔
خراجِ تحسین:علامہ شبلی نعمانی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’الفاروق‘‘میںآپ ص کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’تمام
دنیا کی تا ریخ میں کوئی ایسا حکمران دکھا سکتے ہو …؟ جس کی معاشرت ہو کہ قمیض پر دس دس پیوند لگے ہوں،کاندھے پر مَشک رکھ کر غریب
عورتوں کے ہاں پانی بھرنے آتا ہو، فرشِ خاک پر پڑا رہتا ہو،بازاروں میں پھرتا ہو،جہاں جاتا ہو جریدہ و تنہا جاتا ہو ، اونٹوں کے بدن پر
اپنے ہاتھ سے تیل ملتا ہو،در ودربار،نقیب و چاؤش،حشم وخدم کے نام سے آشنا نہ ہو اور پھر رعب و ادب یہ ہو کہ عرب و عجم اس کے نام سے
لرزتے ہوں اور جس طرف رخ کرتا ہو زمین دھل جاتی ہو،سکندر و تیمور، تیس تیس ہزار فوج رکاب میں لیکر نکلتے تھے،جب ان کا رعب قائم
ہوتا تھا ،عمر فاروق صکے سفرِ شام میں سواری کے ایک اونٹ کے سوا کچھ نہ تھا،چاروں طرف (شور و)غل پڑاہوا تھا کہ’’مرکزِ عالم‘‘ جنبش میں آگیا ہے۔
موافقاتِ عمر:آپ صکے اسلام قبول کرنے کے بعدحضور اہر معاملے میںآپص سے رائے لینا بہت ضروری خیال فرماتے
تھے کیونکہ کئی مواقع پر آپ صکی رائے کو اللہ تعالی کی طرف سے تائید حاصل ہوتی تھی ،قرآن مجید میں کم و بیش17اور بعض روایات کے
مطابق 27مقام ایسے ہیں جہاں قرآن آپص کی رائے کے مطابق نازل ہوا۔نیز آذان کا طریقہ بھی آپ صکی تجویز کے مطابق رائج
ہوا۔
حضرت علیصکا ارشاد ہے کہ’’خَیْرُ النِّاسِ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِااَبُوبَکْرِِثُمَّ عُمَر ث‘‘(رسول اللہ اکے
بعدلوگوں میں سب سے بہترابوبکرص پھر عمرصہیں)(تہذیب الکمال ص۶۵،ج۴۱)(مسند احمد ج۱ ،حدیث نمبر ۲۳۹، فی مسند علی ابن
ابی طالبص)۔
آپ صکی مُہرپر نقش تھا،کَفٰی بِالْمَوْتِ وَاعِظاًےَا عُمَر(موت سے بڑا کوئی یاددھانی کروانے والا نہیں)(تہذیب)۔
آپص کی نصیحتیں : حضرت احنف بن قیسص فرماتے ہیں کہ حضرت عمرص نے مجھ سے فرمایا :اے احنف !جو آدمی زیادہ ہنستا ہے
اس کا رعب ختم ہو جاتا ہے ۔جو مذاق زیادہ کرتا ہے لوگ اسے ہلکا اور بے حیثیت سمجھتے ہیں۔جو باتیں زیادہ کرتا ہے اس کی غلطیاں زیادہ
ہو جاتی ہیں ۔جس کی غلطیاں زیادہ ہو جاتی ہیں اس کی حیا ء کم ہو جاتی ہے اور جس کی حیاء کم ہوجاتی ہے اس کی پر ہیز گاری کم ہو جاتی ہے اور
جس کی پر ہیزگاری کم ہو جاتی ہے اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے۔ (طبرانی)

زشام ما بروںآور سحر ر ا بہ قرآں باز خواں اہل نظر را
تو می دانی کہ سوزِقرئات تو دگرگوں کرد تقدیرعمرصرا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں