179

ق لیگ کےفصلی بٹیرے ۔۔۔۔۔۔ تحریر ، قیصر سعید لاوہ

الیکشن 2018 ء کی آمد آمد ہے ۔سیاستدان فصلی بٹیروں کی طرح نئے نعروں اور نئے وعدوں کے ساتھ لاوہ اور تلہ گنگ میں بھی عوام کو علاقہ کی ترقی ،خوشحا لی اوردیگر نئے زاو یو ں سے لوٹنے کے لیے حلقے میں آنا جانا شروع ہوگیا۔عوام کوسبز باغ دکھانے کے لیے آہستہ آہستہ اپنی بلندو بانگ عمارتوں سے نکل کر بڑی بڑی گاڑیوں میں غریبوں کی جھونپڑیوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ق جوکہ حلقہ این اے65میں ایک لاکھ ووٹ جھولی میں ڈال کر 5 سال عوام سے اتنا قریب رہی کہ انہوں کوئی جنازہ فاتحہ خوانی ،ولیمہ قریبی دوستوں کا میں بھر پور شرکت کی۔ اسی وجہ سے ضمنی الیکشن میں کئی بٹیرے ان کے آشیانے کو خیر آباد کہ چکے ہیں۔ رہی سہی کسر آمدہ الیکشن میں پوری ہوجائے گی۔

چوہدری پرویز الہی نے 2013 ء کے الیکشن میں اس حلقے میں پہلا اورشاید آخری جلسہ کیا تھاپانچ گذ رگئے ابھی تک انہوں نے حلقہ کو دیکھا تک نہیں ۔دو نمائندے تلہ گنگ میں بیٹھ کر فاتحہ جنازے کی سیاست کررہے ہیں۔اسی وجہ لاوہ میونسپل کمیٹی میں بھی انہیں منہ کی کھانا پڑی 16 ماہ میں ایک ٹکے کاکام بھی نہ کرواسکے بلکہ کروڑوں کے فنڈ پڑے مسلم لیگ ق کی ڈوبتی ناؤپر ماتم کناں ہیں۔11 ممبران میں سے 9 مسلم لیگ ن سرسبز ٹہنیوں میں جابیٹھے۔دو ممبران اب میونسپل کمیٹی چلا رہے ہیں۔ آمریت کی گود سے بننے والی سیاسی جماعتوں نے عوام کاکم اور اپنا فائدہ زیادہ کیا ہے۔تلہ گنگ کے نام نہاد سیاسی لیڈروں کا بھی یہی حال ہے۔ سب سے زیادہ ان کا اپنا فائدہ ہوا ہے۔ یہ کبھی خود الیکشن کے میدان میں نہیں آئیں گے۔ ہر سیاستدان کا اپنا اندازہوتاہے ۔ جنرل مشرف کی چھتری تلے اقتدار کے مزے لینے والی پاکستان مسلم لیگ ق کے بچے کچھے تلہ گنگ کے کچھ نا بالغ سیاستدان بھی اب کافی متحرک ہو گئے ہیں۔اب ان کے کئی بڑے برج ن لیگ اور پی ٹی آئی کی جھولی میں گرنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آ ئی کی چھتری تلے پناہ لینے والوں کو بھی الیکشن کا بخار ہوگیاہے ۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح نظریاتی ووٹر کے بجائے دھڑے بندی کی سیاست ہے جس کی اکثریت یا تو ن لیگ جوائن کرچکی ہے یاپی ٹی آئی میں جانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ اب الیکشن کی آمد آمد ہے توق لیگ کے ہمارے دوستوں نے بھی فاتحہ خانی جنازوں اورولیموں سے اپنی سیاسی کمپین کا آغاز کردیاہے ۔ جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی تو حلقے میں کہیں گنی ہی نہیں جاتی ۔ نہ ان کے پاس کوئی مضبوط امیدوار ہے۔ جماعت اسلامی بھی حلقے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہے۔ مگر ان کاووٹ بنک ایک حد تک مخصوص ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں