801

مشیر وزیراعلیٰ پنجاب ملک سلیم اقبال کے سردار غلام عباس بارے میں بیان نے مسلم لیگ کی صفوں میں ہلچل پیدا کردی،ضلع چکوال کا سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل

چکوال( نمائندہ بے نقاب) مشیر وزیراعلیٰ پنجاب ملک سلیم اقبال کے سردار غلام عباس بارے تازہ ترین بیان نے مسلم لیگ کی صفوں میں ایک دفعہ پھر ہلچل پیدا کردی ہے۔ ملک سلیم اقبال کا شمار اس وقت ضلع چکوال کے پرانے اور بزرگ سیاستدانوں میں ہوتا ہے اور تحصیل تلہ گنگ کے وہ بلا شرکت غیرے کامیاب سیاستدان رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ملک سلیم اقبال کا یہ بیان دراصل میں پیغام ایم این اے سردار ممتاز ٹمن اور ایم پی اے سردار ذوالفقار

دلہہ کیلئے ہے ،ملک سلیم اقبال نے پارٹی ہائی کمان کو تجویز پیش کی ہے کہ حلقہ این اے65میں سردار غلام عباس کو ٹکٹ دے دیا جائے تو ضلع چکوال کی تمام نشستوں پر کامیابی یقینی ہے۔ مسلم لیگ ن کے 9پارلیمنٹرینز اور سردار غلام عباس اس وقت مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم پر ہیں ، مسلم لیگ ن کے 9پارلیمنٹرینز کے اندر اختلافات اکتوبر 2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں سامنے آ گئے تھے اور انہی اختلافات کی وجہ سے سردار غلام عباس نے فائدہ اٹھاتے ہوئے 68یونین کونسلوں میں سے 22خود جیت لیں جبکہ باقی 18پر بھی اپوزیشن اور آزاد امیدوار کامیاب ہوئے اور مسلم لیگ کو پورے ضلع میں واضح شکست ہوئی ، البتہ سرکاری چھتری کے نیچے مسلم لیگ ن میں کچھ لوگ ملا کر اپنی سادہ اکثریت پیدا کر لی تھی مگر اچانک بلدیات انتخابات سے قبل سردار غلام عباس نے ڈرامائی انداز میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ، ادھر مسلم لیگ ن کے اختلافات مزید کھل کر سامنے آگئے اور میجر طاہر اقبال ، سردار ممتاز ٹمن اور سردار ذوالفقار دولہہ نے ایکا کر کے پارٹی کے نامزد چیئرمین طارق ڈھلی کے خلاف بغاوت کر دی مگر شکست کھائی ، سردا رغلام عباس کی اہمیت واضح ہو کر سامنے آئی ،اس کے بعداً پی پی 23کا ضمنی الیکشن آ گیا یہاں پر بھی سردار غلام عباس نے مسلم لیگ ق کی وکٹیں اُڑا کر ملک شہر یار اعوان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ، پھر پی پی 20کے الیکشن میں تو 30ہزار کے فتح کے مارجن میں سردار غلام عباس کا کردار کلیدی تھا ، جنرل عبدالقیوم بلدیاتی کھیل کے بعد دفاعی پوزیشن پر رہے ، پی پی 20اور پی پی 23کے ضمنی الیکشن میں بھی انہوں نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ، مہوش سلطانہ ، ملک تنویر اسلم ، چوہدری سلطان حیدر ، ملک سلیم اقبال نے پارٹی کی ہائی کمان کے ساتھ بھر پور وفاداری نبھائی اور مسلم لیگ ن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ، اب آنے والے عام انتخابات میں تینوں باغی اراکین نے پھر ایکا کر لیا ہے تینوں میں سے کسی ایک کو بھی پارٹی نے ٹکٹ نہ دیا تو یہ تینوں آزاد پینل بنا کر الیکشن لڑینگے ، حلقہ این اے 64کا ٹکٹ بھی مسلم لیگ ن کی قیادت کیلئے کڑا امتحان ہے سیاسی مبصرین نے دو ٹوک الفاظ میں دعویٰ کر دیا ہے کہ ’’جٹ اور تیلی‘‘ علیحدہ علیحدہ ہی آنے والے الیکشن کیلئے میدان میں اتریں گے لہٰذا مسلم لیگ ن کی موجودہ جو پوزیشن اس وقت دس عمائدین پر مشتمل ہے اس میں واضح طور پر بڑی دراڑ آئے گی اور بے شک ضلع چکوال کا سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں