225

انصاف کہاں ہے؟؟؟ JIT رپورٹ اور سانحہ ماڈل ٹاؤن


انصاف کہاں ہے؟؟؟ JIT رپورٹ اور سانحہ ماڈل ٹاؤن
تحریر: ملک سعد عبداﷲ، مکتوب دندہ شاہ بلاول موبائل نمبر: 0312-5718780
محترم قارئین میں کوئی باقاعدہ کالم نگا ر نہیں مگر ملکی حالات اور غریبوں کی انصاف سے دوری نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا ۔ 17 جون 2014 کا دن تھا جب پنجاب پولیس نے PAT کے لوگوں پر فائر برسا دئے جو کہ ایک احتجاج میں مصروف تھے اس واقعہ کے نتیجے میں تقریباً 14 افرادجاں بحق ہوئے اور منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ایک طویل دھرنا دیا تاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو سزا ملے کیونکہ قادری صاحب براہ راست حکونت پرالزام لگا رہے تھے توFIRکے اندراج میں بڑی پچیدگیاں پیش آرہی تھیں خیر آخر کار FIRبھی درج کر لی گئی اور ایک GITبھی بنا لی گئیاور 21مئی 2015 کوJITکی رپورٹ منظر عام پر آئی جس کے مطابق کوئی حکومتی عہدیدار اس واقعہ میں ملوث نہیں پایا گیا۔
کہنے کو تو یہ ایک واقعہ ہے جس میں لوگ مر گئے زخنی ہو گئے رپورٹ بھی بن گئی اور قصور بھی کوئی نہیں مگر ہمارا بحثیت قوم اور پاکستانی ہونے کے ناطے فرض ہے کہ حکونت سے پوچھیں کہ آپ لوگ تو اس واقعہ سے بری الزمہ ہیں لیکن کیا آپ بتائیں گے کہ ان معصو م لوگوں کا کیا قصور تھا جن پر گولیاں برسائیں گیءں کیا وہ لوگ انسان نہیں تھے ؟ احتجاج کا حق تو سب کو حاصل ہے مگر پھر کیوں ان لوگوں کو ان کا حق استعمال کرنے سے روکا گیا؟
چلیں یہ سب ہوگیا لیکن اس واقعہ کا اصل مجرم کون ہے کہاں سے ان بدنصیب خاندانوں کو انصاف حاصل ہوگاآآخر وجہ کیا ہے کہ پاکستان میں انصاف کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ کی ہائی کورٹ کی اتنی بڑی عمارتیں تو بنا دی گئی ہیں لیکن ان کے اندر غریبوں کو انصاف کب فراہم ہوگا؟ حقدار تک حق اور مجرم کو سزا کب ملے گی؟ہمارا عدالتی نظام کیوں اتنا سست ہو چکا ہے کہ ایک بار گئے تو پھر عرصہ بیت جاتا ہے غریب بیچارے کو عدالتوں کا چکر کاٹتے کاٹتے آخر کیوں قران و سنت کے مطابق فیصلے نہیں کیے جا سکتے جبکہ ی ایک اسلامی ریاست ہے۔
اگر معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ انصاف کا نم تو غریب عوام کے لیے صرف کتابوں میں رہ گیا ہیامیر لوگ تو پیسہ دے کر سب کچھ حاصل کرتے ہیں مگر غریب کے پاس تو کوئی چارہ بھی نہیں کہ وہ کچھ کرسکے۔کیا انصاف تب ہی مل سکتا ہے جب دھرنا دیا جائے اور ایک غریب آدمی تو یہ بھی نہیں کرسکتا۔اسلانی معاشرے کی بنیاد ہی عدل و انصاف ہیاور یہاں انصاف نظر ہی نہیں آرہا تو کیا یہ ایک اسلامی معا شرہ بن سکتا ہے؟اور جب انصاف مہں ملے گا تو بجائے اسلانی معاشرے کہ کئی برائیاں جنم لیں گی ملک میں لاء اینڈ آرڈر کے نظام کی دھچکیاں بکیھر دی جائیں گی۔
جناب خادم اعلی صاحب غریب عوام آپ کی نگاہ کرم کی منتظر ہے کہ کب آپ ان لوگوں تک انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے؟ ایک ماڈل ٹاوٗن کے اصل مجرم کیفر کرادار تک پہنچیں گے؟ لوگوں کے مسائل تب ہی حل ہو سکتے ہیں جب انہیں انصاف میسر ہوگا اور جب تمام مسائل حل ہوں ھے تو یقیناًپنجاب کی عوام پاکستان کی عوام آپ کے مشن “روشن پاکستان”کی تعمیر میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی اور پاکستان حقیقی معنوں میں قائداظم کا پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان بن جائے گا انشااللہ۔ شکریہ پاکستان زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں