286

عام انتخابات کا مقررہ وقت کے اندر منعقدہونے پر خدشات سامنے آنے لگے، ٹکٹوں کے حصول کیلئے جدوجہد شروع،دلچسپ صورتحال

چکوال (نمائندہ بے نقاب)عام انتخابات کے حوالے سے قانونی موشگافیوں شروع ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں عام انتخابات کا مقررہ وقت کے اندر منعقدہونے پر خدشات سامنے آ رہے ہیں پانچ جون کو موجودہ حکومت کی مدت پوری ہو گی اور اگلے روز نگران سیٹ اپ اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گا جس کے بعد60دن کے اندر عام الیکشن کا انعقاد آئینی ضرورت ہے جبکہ دوسری طرف حلقہ بندیوں کا حتمی نوٹیفکیشن پانچ مئی کو ہونا ہے اور قانون کے

مطابق حتمی نوٹیفکیشن کے بعد 120دن کے بعد عام انتخابات ہونے ہیں اس حوالے سے آئین میں تضاد سامنے آیا ہے جس کی نشاندہی اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کی ہے ضلع چکوال میں دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں ابتدائی طور پر ٹکٹوں کے حصول کیلئے جدوجہد شروع ہو چکی ہے ، مسلم لیگ ن کا ٹکٹ تو سردا رغلام عباس اور میجر طاہر اقبال کے درمیان ہے جو حلقہ این اے 64میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے خواہشمند ہیں اس بارے میں دونوں طرف سے دعویٰ کیے جا رہے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ٹکٹ دونوں کی جیب میں ہے ۔ضلع چکوال کی سیاست میں بظاہراً تو سناٹا دکھائی دیتا ہے مگر ا س کی تہہ میں کئی طوفان مچل رہے ہیں ، ضلع چکوال کی سیاست کا مرکزی نکتہ سردار غلام عباس ہیں اور اس وقت ضلع چکوال کی سیاست سردار غلام عباس کے گرد گھوم رہی ہے سردار غلام عباس آنے والے انتخابات کے حوالے سے نہ صرف مسلم لیگ ن کے فیورٹ دکھائی دیتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کا نہ صرف حلقہ این اے 64بلکہ حلقہ این اے 65میں بھی اثر رسوخ ہے واقفان حال بتاتے ہیں کہ شہباز شریف نے اپنی حالیہ ملاقات میں سردا رغلام عباس کو 64یا 65جس میں ان کی خواہش ہے الیکشن لڑنے کا گرین سگنل دے دیا ہے ، دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف صبح شام دعائیں مانگ رہی ہیں کہ اللہ کرے سردار غلام عباس کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہ ملے تا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں تا کہ پی ٹی آئی کی کامیابی کا راستہ ہموار ہو سکے ، سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ اس وقت سردا رغلام عباس کی سیاسی بقاء ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی پی ٹی آئی میں جانے کی خبریں بھی بھر پور سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر موجود ہیں معلوم ہوا ہے کہ سردار غلام عباس کے قریبی رشتہ داروں اور ساتھیوں نے سردار غلام عباس کے ساتھ لکیر کھینچتے ہوئے انہیں مشورہ دیا ہے کہ خدا کیلئے اب کسی اور پارٹی میں نہ جائیں اپنا مرنا جینا مسلم لیگ ن کے ساتھ وابستہ کرلیں اب لیڈر بننے کی ضرورت ہے معتبر حلقوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سردار غلام عباس نے شہباز شریف کو بتا دیا ہے کہ آپ ٹکٹ دیں یا نہ دیں میں نے مسلم لیگ میں ہی رہنا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں