117

پارلیمنٹریز کے آپس کے منافقانہ رویے اور عوام پر اثرات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر ،محسن قیوم شیخ

محترم قارئین آج کی ہیڈ لائن دیکھ کر آپ نے اندازہ تو کر لیا ہو گا کہ آج ضلع چکوال کے سیاستدانوں کا معمولی سا پوسٹمارٹم کرنے جا رہا ہوں ضلع چکوال کی سیاست میں میرے

خیال میں کوئی ایک سیاستدان بھی ایسا نہیں جو عوامی ترجمان کہلائے ٹمن کی سیاست اور عوامی شعور کیلے اتنا ہی کہوں گا کہ ایئر مارشل نورخان جب 1985میں تلہ گنگ سے الیکشن میں اترے جو تلہ گنگ کی سیاست میں ایک سنگ میل کی حیثت رکھتا تھا ایئرمارشل نورخان واقعی ایک باصلاحیت انسان تھے اور بطور سیاست دان تمام خوبیوں کے مالک تھے جو آج ہمیں سیاست میں نظر نہیں آتی اس وقت تلہ گنگ کی عوام نے ان کو مایوس کیا اور وہ شکست کھا کر دوبارہ سیاست میں نہ آئے پھر ان کے مقابلے میں آنے والے سرداروں نے جیت کے جھنڈے کھاڑے کیونکہ وہ ایئر مارشل نور خان نہ تھے ان کو عوام کی نمائندگی کا حق ادا کرنا نہیں آتا تھا وہ حلقہ میں تعلیم کو عام ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ وہ خود ان پڑھ اور انہوں نے جو فیصلے کرنا تھے وہ ایک ان پڑھ ہی کر سکتا تھا افسوس کہ اس منافقانہ رویے میں جہاں تک سیاستدان ملوث ہیں وہی عوام بھی زمہ دار ہے اجکل سب جانتے ہیں کون کتنے پانی میں ہے تلہ گنگ کی سیاست میں ملک سلیم اقبال سردار ممتاز خان ٹمن اور سردار زولفقار دلہہ کے اختلافات کس کو پتہ نہیں ایک دوسرے کیخلاف میڈیا میں پہاڑ توڑ دینے والے آج ایک ساتھ بیٹھے ہوں تو رونا آتا ہے اور ہسنا بھی کہ کس طرح عوا م کو بے وفوف بنا رہے ہیں دوسری طرف ملک سلیم اقبال اور مسلم لیگ ق کے رہنما حافظ عمار یاسر کا اختلاف ہے جو آئے روز ایک نیا سرپرائز لاتا ہے تلہ گنگ کو فتح کرنے کے چکروں میں تلہ گنگ کا کوئی ولی وارث نہیں ہے تلہ گنگ شہر کو آج تک کوئی ایسا لیڈر نہیں مل سکا جو ان کو محرمیوں کو دور کر سکے چھوٹا سا تلہ گنگ شہر جس کے روڈز آج بھی کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ہیں اور اتنے مسائل کہ بتاتے ہوئے ایک عدد کتاب لکھی جا سکتی ہے پچھلے دنوں اپنے کالم میں ایم این اے عفت لیاقت کے حوالے سے سردار غلام عباس کا وزیر اعلی پنجاب سے جو ذکر خیر ہوا اس کے بعد جیسے ایک طوفان سا آگیا ہو لیکن پوری بات اتنی سی ہے کہ سردار غلام عباس خان سب جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کون کتنا مخلص ہے لیکن اپ کو منافقانہ رویے بتاتا ہوں کہ ایک دوسرے کو جو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے اور ان کی لڑائیاں پورا ضلع جانتا ہے جیسے کہ میجر طاہر اقبال ، چوہدری ایاز امیر اور سردار غلام عباس میں اختلافات اور پیٹھ پیچھے کیا کچھ عوام سب جانتی ہے یہ کیا خاک عوام کے مسائل حل کریں گے یہ تو اپنے مسائل حل نہیں ہونے دیتے لکھنے کا تو بہت دل تھا مگر دھنڈورا کس کے اگے پیٹے ائندہ الیکشن قریب ہے اور پھر بغل گیر ہونے کو تیار یہ سیاسی بلکل فٹ ہے اور گولہ باری کیلے تیار ہیں آنے والے عام انتخابات 25جولائی تک منعقد ہونے کے امکانات روشن ہوگئے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو مقررہ مدت کے اندر تحلیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے اور موجودہ اسمبلیاں پانچ جون کو اپنی مدت پوری کریں گی۔ قانون کے مطابق 60دن کے اندر الیکشن کرایا جانا آئینی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے عام انتخابات 20جولائی سے2اگست تک کرائے جانے کا امکان ہے۔ نگران حکومتوں کے قیام کے حوالے سے 15مئی تک تمام اہم فیصلے کر لیے جائیں گے ، معلوم ہوا ہے کہ نگران حکومتیں چھ جون کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے جوڑ توڑ اور ٹکٹوں کے حصول کی جنگ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ کیلئے راجہ یاسر سرفراز نے حلقہ این اے64 سے اپنے آپ کو علیحدہ کر رکھا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ حلقہ این اے 64میں مسلم لیگ ن کے متاثرین میں سردار غلام عباس یا میجر طاہر اقبال جو بھی ٹکٹ سے فارغ ہو اس کو پی ٹی آئی میں شامل کر کے الیکشن لڑایا جائے۔ پی پی21پر شیخ وقار علی نے بھی ٹکٹ کے حصول کی درخواست دے دی ہے۔ چوہدری تیمور علی ایڈووکیٹ، علی ناصر بھٹی بھی اس حلقے کے امیدوار ہیں۔ پی پی22پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ کیلئے راجہ طارق افضل کالس ، ملک اختر شہباز امیدوار ہیں۔ پی پی23کیلئے مسلم لیگ ن کے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ اورسردار افتاب اکبر خواہشمند ہیں پی پی24پر ملک شہریار اعوان،ملک اسد ڈھیرمونڈ،ملک ظفر اعوان پچنند ٹکٹ کی دوڑ میں ہے ی۔ جبکہ حلقہ این اے65میں سردار ممتاز ٹمن اور ملک سلیم اقبال ملک فلک شیر اعوان کیلے کوشاں ہیں جبکہ سردار ممتاز خان فیورٹ قرار دیئے جا رہے ہیں ۔ پی پی21پر چوہدری سلطان حیدر علی اور پی پی22پر ملک تنویر اسلم سیتھی مسلم لیگ ن کی طرف سے حتمی ہیں۔ضلع چکوال کا سیاسی موسم گرم ہونا شروع ہوگیا ہے، تمام نظریں حلقہ این اے64پر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر لگی ہیں کہ سردار غلام عباس اور میجر طاہر اقبال دونوں میں سے کون سرخرو ہوتا ہے۔جبکہ سردار غلام عباس کے قریبی زرائع نے بتایا کہ سردار غلام عباس نے ن لیگ میں رہنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور ٹکٹ ملے یا نہ ملے وہ این اے 64 سے الیکشن لڑے گے جس کے بعد منظرنامہ دلچسپ ہو گیا ہے ۔ نئی حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہوتے ہی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے ٹکٹوں کے حصول کیلئے اپنی جدوجہد اور سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ حلقہ این اے64پر مسلم لیگ ن کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ جبکہ باقی پانچ حلقوں میں مسلم لیگ ن کے پاس مضبوط امیدوار ہیں، البتہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی طرف سے لندن روانگی سے قبل یہ اعلان کے پارٹی کو دھوکہ دینے والوں کو ٹکٹ نہیں دیں گے۔ اگر اس پر عمل درآمد کیا گیا تو پھر ضلع کونسل چکوال کے الیکشن میں ضلع چکوال کے تین پارلیمنٹرینز میجر طاہر اقبال، سردار ممتا ز ٹمن اور سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کے ٹکٹ خطرے میں ہونے کا امکان ہے۔ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کوسردار غلام عباس کی جانب سے خطرہ ہے ۔ سردار ممتاز ٹمن حلقہ پی پی23کے ضمنی الیکشن میں ملک شہریار اعوان کی حمایت کر کے کفارہ ادا کر چکے ہیں۔ بہرحال آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔ سکرپٹ لکھا جا چکا ہے بہرحال مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو اس طرح کھل کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی جس طرح انہوں نے پی پی23اورپی پی20کے ضمنی الیکشن جیتے ہیں بلکہ اب جس دیے میں تیل ہوگا وہ جلتا رہ جائے گا والی بات سامنے آنے والی ہے۔ البتہ ہر پارلمنٹریز اپنے آپ کو فرنٹ سیٹ پرلانے کا خواہشمند ہے اور اس کیلے وہ کسی کی بھی قربانی دینے کیلے تیار ہیں اب دیکھے سب ایک دوسرے کا ساتھ کیا کرتے ہیں یا وہی حال ہو گا جو ضلع کونسل کے الیکشن کے موقع پر ہو ا تھا دعا کی درخواست کے ساتھ اللہ حافظ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں