226

موضع دودیال مسائل کی اماج گاہ بن گیا ،تلہ گنگ بھر کا گندہ پانی (سیوریج) سسٹم کا رخ دودیال کی جانب موڑنے سے اہل علاقہ کو بیماریوں میں دھکیل دیا گیا ،

تلہ گنگ (نمائندہ بے نقاب) تلہ گنگ کا نواحی ماڈل گاؤں دودیال دو سیاسی جماعتوں ن لیگ اور ق لیگ کی چپقلش کی وجہ سے مسائل میں گھر گیا۔ دودیال کو 2005ء میں حکومت پنجاب نے ماڈل ولیج قرار دیکر چھ کروڑ روپے جاری کئے۔اس گرانٹ سے گرلز مڈل سکول کو ہائی کا درجہ ملا۔اسکول کی شاندار بلڈنگ

تو تیار ہو گئی لیکن بجلی کا میٹر نہ لگ سکا۔ مجبوراً انتظامیہ کوچار سو گز دور جنازہ گاہ سے بجلی تارلگانی پڑی۔ اسکول میں سائنس ٹیچرز کی خالی اسامیوں کے باعث طالبات کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں بعض دفعہ پرائیویٹ ٹیچرز کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جنہیں مخیئر شخصیت ملک محمد افضل اپنی ذاتی جیب سے تنخواہ ادا کر تے رہے۔ اسی طرح رورل ہیلتھ سنٹر میں اسٹاف تو موجود ہے ۔اتنی بڑی آبادی والے اس گاوں میں سرکاری طور پر ڈلیوری کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ ہیلتھ سنٹر میں فرنیچر یا مریضوں کے بیڈ تو دور کی بات بیٹھنے کیلئے کرسی بھی نہیں ہے۔رورل ہیلتھ سنٹر کا بجلی بل محکمہ نے کئی سال ادا نہیں کیا۔کبھی ڈسپنسر تو کبھی گاؤں کے لوگ خود جمع کراتے ہیں۔ویٹرنری سنٹر کی صورحال بھی خراب ہے جہاں بجلی میٹر،موٹر پائپوں سمیت چوری ہو گئے۔ ایک سال سے زائد عرصہ ہو گیا کسی نے پلٹ کر نہیں پوچھا۔سابق نائب وزیر اعظم چودھری پرویز الہیٰ نے دودیال میں سوئی گیس فراہمی کیلئے تین کروڑ روپے جاری کئے تھے۔پانچ سال سے زائد عرصہ گزر گیا ابھی تک پچیس فیصد کام باقی ہے۔ سیوریج سسٹم دیکھا جائے تو تلہ گنگ بھر کا گندہ پانی (سیوریج) سسٹم کا رخ دودیال کی جانب موڑنے سے جگہ جگہ کھڑا گندا پانی علاقہ میں جہاں بیماریاں بانٹ رہا ہے وہیں کنوئیں اور بورنگ میں آلود پانی نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں