216

ملک میں مثبت تبدیلی کے لیے اسلام پسند اور دیانت دار افراد کا چناؤ ہی اس قوم کے پاس آخری آپشن ہے ۔ایم ایم اے قوم کو حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑے گی ۔ قاری محمد ابراہیم

تلہ گنگ(نمائندہ بے نقاب) ملک میں مثبت تبدیلی کے لیے اسلام پسند اور دیانت دار افراد کا چناؤ ہی اس قوم کے پاس آخری آپشن ہے ۔ایم ایم اے قوم کو حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑے گی 13مئی کوتاریخ ساز مینار پاکستان میں جلسہ عام امید انقلاب ہے ۔ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبائی رہنماء قاری محمد ابراہیم آف بہبودی نے جے یو آئی(ف) کی ضلعی مجلس عمومی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرجے یو آئی کے ضلعی امیر قاری زبیراحمد ،مولانا عطاء الرحمن قاسمی ،چوہدری عبدالجبار،ڈاکٹر محبوب حسین جراح ،حافظ محمد ادریس محمد انعام اللہ،مولانا علی خان

،مولانا عبداللہ،سید عمران بخاری،قاری عثمان معاویہ ،حافظ سعید خان ،مولانا پائندہ خان سمیت اراکین مجلس عمومی کی بڑی تعداد موجود تھی،قاری محمد ابراہیم آف بہبودی نے کہا کہ شریعت کا نفاذ ہی پرامن اور متوازن معاشرے کے قیام کا ذریعہ ہے۔کیونکہ اسلام ایک مذہب اور چند عبادت کے مجموعے پر منحصر نہیں بلکہ اسلام ایک فلاحی ریاست کا دوسرا نام ہے انہوں نے کہا کہ ظلم کے نظام کو بدلنے اور تبدیلی کی جدوجہد میں جمعیت علماء اسلام اپنا کرد ار احسن اندازمیں ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے 13مئی کے جلسہ میں بھر پور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ایم ایم اے قوم کو حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑے گی 13مئی کوتاریخ ساز مینار پاکستان میں جلسہ عام امید انقلاب ہے ۔اس تاریخ ساز جلسہ عام میں لاکھوں کی تعداد میں اسلام پسند عوام اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کریں گے 13مئی کوتاریخ ساز مینار پاکستان میں جلسہ انشاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہوکر پاکستان بھر میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کاپیغام قوم کے دل کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے انتخابات میں دین سے محبت رکھنے والے طبقے کا ووٹ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کو مزید تباہی سے بچانے اور امریکی ایجنٹوں کا راستہ روکنے کے لیے اسلام پسند عوام کو آئندہ الیکشن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔مزید انہوں نے کہا کہ جب تک معاشرے میں موجود نیک اور صالح افراد سیاست میں حصہ نہیں لیں گے تب تک بھتہ خور اور بد عنوان عناصر وطن عزیز پر قابض رہیں گے ہماری سیاست کا مقصد اقتدار نہیں ،نفاذ شریعت ہے ۔انہوں نے علمائے کرام سے اپیل کی کہ عوام کی امیدیں علمائے کرام اور باعمل نیک صالح لوگوں سے ہیں اس لیے اسلامی نظام کے قیام کیلئے عوام کی رہنمائی کریں اور آئندہ الیکشن میں نیک صالح لوگوں کا ساتھ دیں تاکہ ظلم وجبر اور لاقانونیت وبدامنی اور لوٹ مار کا خاتمہ کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں