63

تلہ گنگ کی سیاسی ڈائری……………تحریر،امیر احسان اللہ چینجی

ملکی سطح پر تیزی سے سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور حکومت مخالف قوتوں کو پذیرائی ملنا اس بات کی علامت ہے کہ بے شمار لوگ اپنی اپنی مجبوریوں یا دباؤ کے تحت حکومتی چھتری تلے جمع تھے۔ جنوبی پنجاب سے اٹھنے والی آوازوں کی گونج پورے ملک میں سنائی دینے لگی ہے۔

چکوال اور تلہ گنگ میں بھی وقت اور حالات دیکھ کر سیاسی اکابرین کسی بھی ایسی جماعت میں جانے کے لئے پر تولتے نظر آرہے ہیں جو کم از کم ان کی جیت اور اگلی حکومت میں شامل ہونے کی کسوٹی پر پورا اترے۔ اس حوالے سے سردار غلام عباس کی شخصیت پر نگاہیں مرکوز ہیں۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا میں ان کے حوالے سے دلچسپ بحث جاری ہے۔ 8 مئی شہباز شریف کی آمد کے موقع پر ان کی عدم شرکت نے کئی سوال اٹھا دئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ مسلم لیگ ن میں نووارد ہیں لیکن ان کے ووٹ بینک کا اعتراف انکے مخالفین بھی کرتے ہیں۔ میجر گروپ کو ان کا پارٹی کے اندر ہی مخالف ہے اور میجر گروپ اور ان کے نظریاتی کارکن سردار غلام عباس کی اگلی نشست پر بیٹھنے پر معترض ہیں۔ اس حوالے سے پہلے بھی تلخ جملوں کا تبادلہ رہا۔ عوامی حلقے اس ساری صورتحال پر تبصرہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ مسلم لیگ ن میجر یا سردار جس کو بھی ٹکٹ دے گی دوسرا مخالفت میں پی ٹی آئی یا آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے گا۔ شہباز شریف کی آمد پر سردار کی عدم شرکت سے عندیہ ملتا ہے کہ میجر گروپ ٹکٹ کے حصول میں کامیاب ہوجائے گا۔ سردار غلام عباس کے پاس مخالفت میں پی ٹی آئی کے محاذ پر آنا ان کی یقینی جیت پر مہر ثبت ہے تاہم ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ سردار غلام عباس اس سے قبل پی ٹی آئی کے گھوڑے کی سواری کر چکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق سردار غلام عباس کا مسلم لیگ ن میں جانے کا فیصلہ عجلت تھی اور بالخصوص ایسے وقت جب میاں برادران پر پانامہ لیکس اور ڈان لیکس کے بادل منڈ لارہے تھے۔ دوسری طرف تلہ گنگ کے قومی حلقے میں بھی صورتحال انتہائی دلچسپ ہوتی جارہی ہے۔ سردار منصور حیات ٹمن بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے حصول کے لئے سر توڑ کوشش کررہے ہیں جبکہ اگر ق لیگ اور پی ٹی آئی کی ممکنہ سیٹ ایڈجسمنٹ کے نتیجے میں پرویز الہی حلقہ 65 کے مضبوط امیدوار ہونگے۔ ایسی صورتحال میں دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا سردارمنصور حیات ٹمن پارٹی قیادت کے فیصلے کو سر آنکھوں پر لیں گے یا آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ چند روز قبل بھی سردار منصور حیات ٹمن کے استعفی کی خبریں مل رہی تھیں اعلی سطح پر پارٹی قیادت سردار صاحب سے مطمئن بھی نظرنہیں آتی۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن واضح طور پر سردار منصورحیات ٹمن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں اور کم از کم اب تک دونوں کے درمیان کافی فاصلہ نظر آتا ہے۔ منصورحیات کے گرد جن لوگوں کا گھیرا ہے وہ کھلے عام دھونس اور دھمکی جیسے رویوں سے سردار منصور حیات کی مقبولیت کا گراف مزید گرانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس حوالے سے ان کی حال ہی میں پریس کانفرنس جس میں انہوں نے منفی تاثر کو زائل کرنے کی کوشش تو ضرور کی تاہم مزید سخت محنت درکار ہوگی یا کم از کم ارد گرد لوگوں کو بالخصوص اس نازک وقت میں درس اخلاق بھی دینا ہوگا۔مسلم لیگ ن نے سردار غلام عباس کو اسی حلقے میں ن کے ٹکٹ کی آفر کی لیکن اطلاعات ہیں کہ مذکورہ حلقے سے سردار غلام عباس کا الیکشن لڑنے میں دلچسپی نہیں تاہم سردار ممتاز ٹمن کے متعلق تاثر ہے کہ وہ الیکشن میں اپنی وکٹ بچا نہیں پائیں گے۔ فی الحال ن کے ٹکٹ پر سردار ممتاز کا نام ہی سنائی دے رہا ہے۔ شہر یار اعوان کے حوالے سے خبریں گردش میں کہ ان کی ملا قات اسد عمر سے ہوچکی ہے اور ہوسکتا ہے وہ پی ٹی آئی کے قافلے میں شامل ہوجائیں۔ تا…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں