403

چکوال و تلہ گنگ کی سیاسی ڈائری……امیر احسان اللہ چینجی 03445624732

سردار غلام عباس نے بالآخر حب الوطنی کے جذبے کے تحت پریس کانفرنس میں باقاعدہ مسلم لیگ ن کو خیر باد کہہ دیا۔ یوں پچھلے دو تین ہفتوں سے خبروں کے محور بنے سردار غلام عباس کی سیاسی صورتحال واضح ہوئی تاہم اس فیصلے کے بعد چکوال میں مسلم لیگ ن کی ہوا نکل گئی۔ مجموعی طور

ملکی سطح پر تیزی سے سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور حکومت مخالف قوتوں کو پذیرائی ملنا اس بات کی علامت ہے کہ بے شمار لوگ اپنی اپنی مجبوریوں یا دباؤ کے تحت حکومتی چھتری تلے جمع تھے۔ جنوبی پنجاب سے اٹھنے والی آوازوں کی گونج پورے ملک میں سنائی دینے لگی ہے اور طول و عرض سے ایم این ایز و ایم پی ایز کپتان کے سامنے دست بستہ ہیں۔ پنجاب سے اکثریت جن کا تعلق ن لیگ سے تھا چھوڑ کر سونامی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایسی صورتحال دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ سونامی مسلم لیگ ن سے ٹکرا چکا ہے اور ان بتوں کو پاش پاش کردیا ہے جو کل تک میاں کا راگ الاپ رہے تھے۔اس پر مستزاد یہ کہ FATF کی طرف سےملی مہلت 21 مئی سے دو ہفتے قبل میاں نواز شریف نے ایک ایسا بیان داغ دیا جو ملک سے غداری کے ضمرے میں لایا جا چکا ہے۔ FATF فنائنشل ایکشن ٹاسک فورس ایک عالمی تنظیم ہے جس نے پاکستان سے منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات کے حوالے سے پاکستان کو 21 مئی تک مہلت دے رکھی تھی اور یوں پاکستان بلیک لسٹ میں آنے سےبچ سکتا تھا لیکن میاں نواز شریف کے حالیہ انٹر ویو نے پاکستان مخالف قوتوں کو پاکستان کا مؤقف کمزور کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ اس بیانئے کے بعد مسلم لیگ ن کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے اور میاں نواز شریف اور پارٹی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آیا ہے۔ چکوال اور تلہ گنگ میں بھی وقت اور حالات دیکھ کر سیاسی اکابرین کسی بھی ایسی جماعت میں جانے کے لئے پر تولتے نظر آرہے ہیں جو کم از کم ان کی جیت اور اگلی حکومت میں شامل ہونے کی کسوٹی پر پورا اترے۔ اس حوالے سے سردار غلام عباس کی شخصیت پر نگاہیں مرکوز ہیں۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا میں ان کے حوالے سے دلچسپ بحث جاری ہے کہ وہ کس محاذ سے میدان میں آئیں گے تاہم پی ٹی آئی سے مسلسل رابطے جاری ہیں۔بلاشبہ وہ اپنا ذاتی ووٹ بینک رکھتے ہیں۔تاہم سردار غلام عباس کے پارٹی چھوڑنے کے بعد ضلعی چیئر مین طارق اسلم ڈھلی کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ میجر گروپ۔سردار ممتاز اور ذوالفقار دلہہ چیئرمین طارق اسلم کے خلاف عدم اعتماد لا سکتے ہیں۔ یوں بظاہر یہی نظر آرہا ہے کہ طارق اسلم ڈھلی کسی بھی وقت ن کو خیر باد کہہ سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر طارق اسلم ۔ ملک سلیم اقبال۔شہر یار اعوان اور سردار غلام عباس ایک ہی کیمپ میں دکھائی دے رہے ہیں۔شہر یار کے حوالے سے بھی خبریں گردش میں ہیں کہ وہ عنقریب ن لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں ہونگے۔ ملک سلیم اقبال خاموشی سے ساری صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور 31 مئی کے بعد کسی لائحہ عمل کا اعلان کھل کر کریں گے۔ دوسری طرف تلہ گنگ کے قومی حلقے میں بھی صورتحال انتہائی دلچسپ ہوتی جارہی ہے۔ سردار منصور حیات ٹمن بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے حصول کے لئے سر توڑ کوشش کررہے ہیں جبکہ اگر ق لیگ اور پی ٹی آئی کی ممکنہ سیٹ ایڈجسمنٹ کے نتیجے میں پرویز الہی حلقہ 65 کے مضبوط امیدوار ہونگے۔ ایسی صورتحال میں دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا سردارمنصور حیات ٹمن پارٹی قیادت کے فیصلے کو سر آنکھوں پر لیں گے یا آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ چند روز قبل بھی سردار منصور حیات ٹمن کے استعفی کی خبریں مل رہی تھیں اعلی سطح پر پارٹی قیادت سردار صاحب سے مطمئن بھی نظرنہیں آتی۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن واضح طور پر سردار منصورحیات ٹمن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں اور کم از کم اب تک دونوں کے درمیان کافی فاصلہ نظر آتا ہے۔ منصورحیات کے گرد جن لوگوں کا گھیرا ہے وہ کھلے عام دھونس اور دھمکی جیسے رویوں سے سردار منصور حیات کی مقبولیت کا گراف مزید گرانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس حوالے سے ان کی حال ہی میں پریس کانفرنس جس میں انہوں نے منفی تاثر کو زائل کرنے کی کوشش تو ضرور کی تاہم مزید سخت محنت درکار ہوگی یا کم از کم ارد گرد لوگوں کو بالخصوص اس نازک وقت میں درس اخلاق بھی دینا ہوگا۔ سردار ممتاز ٹمن کے متعلق تاثر ہے کہ وہ الیکشن میں اپنی وکٹ بچا نہیں پائیں گے۔ فی الحال ن کے ٹکٹ پر سردار ممتاز کا نام ہی سنائی دے رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حافظ عمار یاسر نے الیکشن میں حصہ لینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے اور ایک عرصے سے عوامی مطالبہ تھا کہ وہ الیکشن میں آئیں۔ فیض ٹمن بھی دوستوں سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں اور وہ بھی عملی سیاست میں حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ فیصلہ کیا ہوگا ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اس سارے سیاسی عمل میں پیپلز پارٹی کا کہیں نام و نشاں نظر نہیں آرہا لیکن بہر حال پیپلز پارٹی بھی ان حلقوں میں قسمت آزمائی ضرور کرے گی۔ واضح رہے کہ اس دفع الیکشن میں ضلع تلہ گنگ ۔ ون وے۔ یونیورسٹی ۔ انڈسٹری اور اسٹیڈیم الیکشن مہم کے خاص اجزاء ہونگے۔ اور ن مخالف قوتوں کے پاس ان اجزاء کے ساتھ مہم چلانا اور لوگوں کو قائل کرنا آسان ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں