293

تبدیلی کے گیارہ نکات……..سعد عبداللہ اعوان (دندہ شاہ بلاول03125718780)

قیام پاکستان میں وائسرائے ہند نے جہاں حدبندی میں ناانصافی سے کام لیا وہیں وسائل کی تقسیم میں بھی پاکستان کو جائز حصہ نہی دیا گیا۔وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے پاکستان کی معیشت کو شروع دن سے ہی دباؤ میں رکھا ایوب خان کے دور میں پاکستانی معیشت نے قدم مضبوط کیے اور ایشیاء میں تیزی سے ترقی کرنے لگا لیکن اس کے بعد آنے والے حکمرانوں کے ہاتھوں پاکستانی معیشت سنبھالی نہ جا سکی اور کرپشن نے کمزور معیشت پر کاری وار کیا قرضوں کی بھرمار نے پاکستان کو اتنا کمزور کردیا کہ آج آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے آرڈر سے ہم منہ نہی موڑ سکتے ہم ایک گلام قوم بن چکے ۔۔

تین دن پہلے مینار پاکستان پر تحریک انصاف نے جلسہ کیا جس پر میڈیا سے لے کر مخالفین تک کی نظریں جمی ہوئیں تھیں اور بلاشبہ یہ ایک بہت بڑا جلسہ تھا لیکن اس جلسہ کی اہم بات وہ گیارہ نکات ٹھہرے جو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے رکھے ۔۔تعلیم اور صحت سب سے پہلے رکھی گئیں اور بلاشبہ جس قوم میں تعلیم نہ ہو وہ ذہنی بیمار قوم ہوتی اور صحت کی مناسب سہولیات کا فقدان جسمانی بیماری کا باعث بنتا۔اگر حقیقت دیکھیں تو پاکستان میں آج تک کسی بھی جماعت نے ان دو مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہی دی تعلیم میں نصاب اٹھا کہ دیکھ لیں
کیا سرکاری اور نجی ادارے ایک جیسا تعلیمی نصاب پڑھا رہے؟ ہمارے اپنے علاقے میں پانچ سال پہلے کیا گیا وعدہ یونیورسٹی آج تک ایفا نہ ہوسکا اس علاقے کے مکینوں سے حکمرانوں کی وفا صرف ووٹ لینے تک ہوتی ہے
صحت کی طرف جائیں تو سندھ میں سولہ لاکھ عورتوں کیلیے ایک گائنی ڈاکٹر ہے کیا یہ ظلم کی انتہا نہی ہے ؟کیا کوئی پاکستانی جانتا ہے کہ ہمارے بچے مناسب نشوونما نہی پاتے اور ساری زندگی کمزور رہتے ہیں اور اسکی وجہ صحت کی سہولیات کی کمی اور خوراک کی کمی ہے
اس کے علاوہ اپنے علاقے کو ہی دیکھ لیجیے تلہ گنگ کیا پورے چکوال میں ایک بہترین گورنمنٹ ہسپتال دکھا دیں المیہ تو یہ ہے کہ یہاں روڈ پر سینکڑوں افراد لقمۂ اجل بن رہے لیکن ایمرجنسی میں راولپنڈی کے علاوہ آپشن نہی۔۔۔
تیسرا نقطہ ٹیکس ہے افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران سب سے کم ٹیکس ادا کرتے ہیں ہمارے ملک کے پہلے دس امیر ترین افراد میں سے بھی کوئی پورا ٹیکس ادا نہی کرتا جہانگیر ترین پاکستان کا سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن زرداری ۔شریف برادران،میاں منشاء اور دیگر افراد کے ادا کیے گئے ٹیکس دیکھیں جب حکمران ہی ٹیکس نہیں دینگے تو معیشت گرے گی قرضہ بڑھینگے
چوتھا نقطہ کرپشن ۔۔آج کا بچہ بچہ واقف ہے کرپشن سے۔۔۔ یہ کیسے کیونکر اور کب تک پاکستانی قوم کے خون پسینے سے حاصل ہونے والی رقم سوئس بینکوں میں جاتی رہے گی اسلیے اس کا کنٹرول بے حد ضروری ہے
پانچواں نقطہ معیشت ۔۔۔جب آپ قرضوں میں کمی لاےئنگے تو معاشی طور پر دن بدن مضبوط ہوتے جاےئنگے
پھر بے روزگاری ۔ سیاحت ۔زراعت۔بہترین اصلاحات۔انصاف۔عورتوں کئے حقوق
یہ گیارہ نکات اگر نافذ کردیے جائیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔۔۔۔
بلاشبہ یہ ایک عوام دوست نکات ہیں اور اگر کوئی بھی جماعت ان پر عمل کرنا چاہے تو کوئی مشکل بھی نہی ۔۔۔
لیکن ستر سال میں کبھی ان چیزوں کو ترجیح نہی دی گئی عوام میں تعلیم کم رکھ کے عوام کو جاہل رکھا گیا اور اپنے مقاصد کیلیے استعمال کیا گیا کیونکہ ایک تعلیم یافتہ معاشرے میں آپ ایک روپے کی کرپشن بھی سوچ سمجھ کر کرتے ۔۔
اگر حقیقت میں یہ نکات سیاسی منشور سے نکل کر حقیقت بن جائیں تو ملک کی تقدیر بدلنے سے کوئی نہی روک سکتا
یہ نکات ایک متوازن معاشرے کی پہچان ہیں اور ان نکات پر عمل ہی کسی ملک کے مستقبل کو واضح کرتا ہے
اور کیا تحریک انصاف ان نکات کے ساتھ انصاف کرتی ہے یا نہی اس کا فیصلہ وقت کرے گا
لیکن کے پی کے کی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے پاکستان کے پہلے دس گیار ہ اضلاع میں کے پی کے کے نو اضلاع شامل ہیں
پولیس اور بیوروکریسی کو چیف جسٹس نے بھی سراہا ہے جو کہ سب سے زیادہ کرپٹ ادارے تصور کیے جاتے ہیں اگر کے پی کے کی طرح ایسی اصلاحات پنجاب اور دیگر صوبوں میں نافذ کردی جائیں تو تبدیلی ممکن ہے کیونکہ ابھی تک دیگر کسی صوبے کا کوٗی ایک محکمہ بھی قابل تعریف نہی ہے
لیکن حکومت جسکی بھی ہو عوام ان گیارہ نکات پہ ڈٹ جائے تو اگلے دس سال میں پاکستان کی ترقی ممکن ہے اور یہ معاشرہ ایک بہترین معاشرہ بن سکتا لیکن اس کیلیے قوم کا ایماندار ہونا بھی ایک شرط ہے اگر ووٹ کو ایک امانت کے طور پر استعمال کیا جائے تو کیا کچھ ممکن نہی
اور ایک آزاد معاشرے کی پہچان ہی یہیں سے ہوجاتی ہے کہ وہاں ووٹ مرضی کا ہوتا یا چاچے مامے کے پیچھے ٹھپہ لگا کر امانت میں خیانت کی جاتی
الیکشن قریب ہیں موسمی پرندے منڈلائینگے لیکن اس بار آپ کا ووٹ ضمیر کی مرضی پہ ہو نا چاہے ضمیر شیر پہ کہے یا تیر پہ یا بلے پہ ۔۔
یہی اس ارض پاک سے وفا ہے یہی اس مٹی کا قرض ہے جو چکانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں