238

(ن) لیگ کے دو دھڑوں کی سرد جنگ کاخاتمہ ،مسلم لیگ(ق) اور پی ٹی آئی کا ممکنہ اتحاد؟۔۔۔۔تحریر چودھری عبدالجبار

سابق ضلع ناظم چکوال سردار غلام عباس نے بلکسر میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے ممبئی حملوں کے متعلق متنازعہ بیان کو جواز بنا کر مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہہ دیا ہے۔سردار غلام عباس کے اس اعلان سے ضلع چکوال میں آمدہ قومی الیکشن میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے موجودہ پارلیمنٹرین کے اپنے اپنے حلقوں کے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کے خدشات بھی ختم ہوچکے ہیں اور

اب ضلع چکوال میں مسلم لیگ (ن)کے تمام پارلیمنٹرین کے لئے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ تقریباکنفرم ہیں ۔1985ء کے غیر جماعتی انتخابات سے اپنی سیاسی اننگز کا آغاز کرنے والے سردار غلام عباس،سابق صوبائی وزیر اور جنرل مشرف کے دورِ اقتدار میں دو بار چکوال کے ضلعی ناظم بھی رہ چْکے ہیں۔ضلع چکوال کی سیاست میں ان کا اچھا خاصا اثرو رسوخ ہے۔بلکسر میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران سردار غلام عباس کا کہنا تھا کہ “ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میرا ضمیر مسلم لیگ نون کے ساتھ چلنے کو گوارا نہیں کرسکتا اور میں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ اپنے ساتھیوں کی مشاورت سے کیا ہے۔سردار غلام عباس کا کہنا تھا کہ چکوال شہیدوں اور غازیوں کا ضلع ہے اور مادرِ وطن کے دفاع میں یہاں کے ہزاروں شہیدوں نے اپنا خون دیا ہے لیکن نواز شریف کا بیان ان شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری ہے۔مقامی سیاسی حلقوں میں یہ سوال بڑا اہم ہے کہ سردار غلام عباس نے نون لیگ کو واقعی نواز شریف کے حالیہ بیان کے باعث خیرباد کہا یا اس فیصلے کے پسِ پردہ محرکات کچھ اور ہیں؟تاہم سیاسی حلقے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سردار غلام عباس کے نون لیگ کو خیرباد کہنے کی وجہ ڈان لیکس کو دیا گیا میاں نواز شریف کا انٹرویو نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ پارلیمنٹرین سے کشیدہ تعلقات اور آمدہ قومی الیکشن میں ضلع چکوال کے قومی اور صوبائی حلقوں پر مسلم لیگ(ن)کے ٹکٹ کا حصول تھا ۔جو ناممکن ہونے کی بناء پرسردار غلام عباس کی مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی کی وجہ بنا۔مسلم لیگ (ن) میں سردار غلام عباس کی شمولیت کو موجودہ پارلیمنٹرین نے شروع دن سے ہی قبول نہیں کیا تھا ۔ایک ہی جماعت میں رہتے ہوئے دونوں طرف سے مخالفت میں بیان بازی کاسلسلہ بھی گاہے بگاہے جاری رہا اور دونوں دھڑوں نے مسلم لیگ(ن) کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے کی رائے سے شدید اختلاف بھی کیا۔تاہم 2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کے دونوں دھڑوں میں اس وقت شدید اختلافات سامنے آئے جب سردار غلام عباس نے میجر طاہر کے بھائی ملک نعیم اصغر کے مقابلے میں چئیر مین ضلع کونسل کے لئے اپنے گروپ کے اْمیدوار ملک طارق اسلم ڈھلی کوملک سلیم اقبال کی مشاورت سے ناصرف میدان میں اْتارا بلکہ(ن) کا ٹکٹ لے کرملک طارق اسلم ڈھلی کو جتوانے میں بھی کامیاب رہے۔ 2018ء کے الیکشن کے لئے چکوال کے حلقہ این اے 64پر میجر طاہر اقبال اور سردار غلام عباس کے درمیان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے لئے دونوں دھڑوں کے بیچ سرد جنگ جاری تھی تاہم موجودہ ایم این اے میجر طاہراقبال کے مقابلے میں سردار غلام عباس کو ٹکٹ ملنا تقریباً ناممکن نظر آنے پرسردار غلام عباس نے (ن) لیگ سے راہیں جدا کرلیں باخبر ذرائع اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ پنجاب ہاؤس میں سردار غلام عباس کی عدم شرکت اورپھر 7 مئی کو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی چکوال آمد کے موقعے پر غلام عباس کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال میں ہونے والی تقریب میں شرکت نہ کرنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اْن کے لیگی قیادت کے ساتھ تعلقات پہلے سے ہی کشیدہ ہوچکے تھے اور سردار غلام عباس گروپ (ن) لیگ سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ میاں نواز شریف کے حالیہ بیان سے قبل کرچکا تھا تاہم پارٹی چھوڑنے کا کوئی معقول بہانہ سامنے نہیں تھا ۔میاں نواز شریف کے بیان کو جہاں ملک بھر میں میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں نے شدت کے ساتھ تنقید کے نشانے پر رکھا وہاں سردار غلام عباس کو پارٹی چھوڑنے کا بہانہ بھی میسر آگیا اور انہوں نے ہنگامی پریس کانفرنس میں (ن) لیگ سے علیحدگی کا اعلان کردیا ۔آمدہ الیکشن میں اب سردار غلام عباس کے فیصلے کے بعد ضلع چکوال کی سیاست میں اہم تبدیلیاں رونما ں ہونگی ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سردار غلام عباس گروپ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑتا ہے یا پی ٹی آئی کو جوائن کرتا ہے۔آزاد حیثیت میں رہنے کے چانس کم ہیں جبکہ زیادہ امکان پی ٹی آئی کو جوائن کرنے کے ہیں اگر مسلم لیگ (ق) ،اورتحریک انصاف میں سردار غلام عباس ملکر الیکشن لڑتے ہیں تو(ن) لیگ کو بِلاشْبہ ایک خطر ناک حریف کا سامنا ہوگا۔غالب امکان یہی نظر آتا ہے کہ پی ٹی آئی سے مسلم لیگ (ق) کا اتحاد تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔جس کے بعد این اے 65پر چودھری پرویز الٰہی ، حافظ عماریاسریاچودھری مونس الٰہی الیکشن لڑیں گے اور حلقہ این اے64چکوال کی نشست پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر سردار غلام عباس الیکشن لڑیں گے اگر ایسی صورتحال بنتی ہے توا (ن) لیگ کے لیے ضلع چکوال میں جیتنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔اگرضلع چکوال کی تمام قومی اور صوبائی نشستوں پر مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی نے متفقہ امیدوار میدان میں اتارے تو مسلم لیگ ن کے لیے اپنی سیٹیں بچانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔لیکن کیا ایسا ممکن ہوگا ؟۔اس بات کا فیصلہ آنے والے وقت میں سامنے آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں