485

الیکشن 2018 کی آمد، مسلم لیگ(ن)کا مضبوط قلعہ چکوال بھی لرزنے لگا،حکومتی اراکین کی جانب سے کروڑوں روپے کے دعوے مگر کئی گاؤں میں ایک اینٹ تک نہ لگ سکی

لاوہ(حفیظ اﷲ ملک) الیکشن 2018 کی آمد، مسلم لیگ(ن)کا مضبوط قلعہ چکوال بھی لرزنے لگا،2013 کے قومی الیکشن میں کئے گئے تمام وعدے ہوا ، مسلم لیگ(ن) وفاق اور صوبے میں ہونے کے باجود کچھ ڈیلیور نہ کر سکی،بعد ازاں ضلع میں دونوں ضمنی الیکشن میں بھی بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد مسلم لیگ(ن) عوام کے اعتماد پر پوری نہ اتر سکی،حکومتی اراکین کی جانب سے کروڑوں روپے کے دعوے مگر کئی گاؤں میں ایک اینٹ تک نہ لگ سکی،تحصیل ہیڈ کوارٹر لاوہ کی گلیاں کھنڈرات نجانے کروڑوں روپے کدھر گئے،مسلم لیگ(ق) اور

پاکستان تحریک انصاف کا اتحاد مسلم لیگ(ن) کیلئے درد سر بن گیا۔زمینی حقائق کے مطابق اگر NA-65 اور پی پی 24 /23 میں مسلم لیگ(ق) اور NA-64 اور پی پی 21 /22 پی ٹی آئی کو دئے جائیں تو ضلع چکوال میں کامیابی مسلم لیگ(ن) کیلئے مشکل ہو جائے گی۔ ضلع چکوال کی اہم سیاسی شخصیت سردار غلام عباس سے مسلم لیگ(ن) کی زیاتی اور پھر سردار غلام عباس کا (ن) کو خیر آباد کہہ دینا مسلم لیگ(ن) کیلئے مزید سخت حالات پیدا کرے گا۔تفصیلات کے مطابق قومی الیکشن 2018 کی آمد آمد ہے اور شاید چند روز میں شیڈول بھی آیا چاہتا ہے ان حالات میں خبریں سروے کے مطابق مسلم لیگ(ن) کو انتہائی سخت حالات کا سامنا ہے اگرچہ یہی صورتحال 2013 میں بھی مسلم لیگ(ن) کو پیش آئی تھی لیکن یہاں نواز شریف نے 2013 میں تلہ گنگ آکر ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کیااور وعدہ کیا کہ شہیدوں کی یہ سرزمین اگر ہمیں اس دفعہ کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے تو میں وعدہ کرتاہوں کہ حکومت سنبھالنے کے بعد تلہ گنگ ضلع،یونیورسٹی، سی پیک کو تلہ گنگ سے گزار کر میانوالی تک پہنچایا جاے گا اور موجودہ خونی تلہ گنگ میانوالی روڈ کو بالکسر سے ڈیرہ غازی خان تک مذکورہ روڈ کو ون وے کیا جائے گا لیکن جواب میں دو قومی اور چار صوبائی سیٹیں مسلم لیگ(ن) کی جھولی میں ڈالیں لیکن صد افسوس کہ اتنا کچھ کرنے کے باوجود کوئی بھی وعدہ پورا نہ ہوسکااور بعد ازاں دو ضمنی الیکشن جن میں ملک ظہور انور اعوان اور چوہدری لیاقت علی کے انتقال کے بعد ان کی نشستوں پر عوام نے دوبارہ مسلم لیگ(ن) پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن دوبارہ رپورٹ زیرو ہوئی۔کروڑوں روپے کے ترقیاتی پیکجز کے دعوے لاوہ شہر کی حالت نہ سدھارسکے۔گلیاں کھنڈرات اور پینے کو پانی تک نہیں دیگر بنیادی سہولیات بھی ناپید ہیں کئی گاؤں تو ایسے ہیں جہاں پر ایک روپیہ تک خرچ نہ ہوا۔اب اگر نواز شریف تلہ گنگ آتے ہیں تو پھر عوام سے کیا وعدہ کریں گے یا پھر عوام انہیں کس انداز سے یادکرے گی۔اب مسلم لیگ(ق) اور پی ٹی آئی متحد ہوکر NA65 سے چوہدری پرویز الٰہی اور پی پی 24 پر لاوہ سے (ق) کا پینل اور NA64 سے سردار غلام عباس اور پی پی 21/22 سے پی ٹی آئی کا پینل تشکیل پاتا ہے تو مسلم لیگ(ن) ضلع چکوال میں شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں