112

ماہ رمضان .. اور ہمارے رویے …….تحریر:- ملک آصف اعوان چوکھنڈی

خداۓ بزرگ و برتر کا بہت بڑا احسان ہے ہم پر کہ جس نے ہمیں رمضان جیسا مقدس مہینہ عطا کیا. پچھلی امتوں کو جہاں لمبی لمبی عمریں عطا کیں اور عبادات کے لیے زیادہ مواقع اور ٹائم دیا وہیں ہمیں رمضان اور لیلتہ القدر جیسی نعمتیں دیں تاکہ ہم انکے زریعے دوسری امتوں کے برابر عبادات اور نیکیاں حاصل کر سکیں اور یوں عدل و انصاف کی اعلی ترین مثال قائم کر دی..

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مسلمانوں کا جوش و خروش اور مذہبی عقیدت دیدنی ہوتی ہے اور ایک ایوریج مسلمان بھی نماز پنجگانہ کے ساتھ ساتھ دوسری عبادات کی بجا آوری میں مستعد ھو جاتا ہے . ماہ صیام خلوص ، عقیدت ، ایثار ، ایمان ، تجدید ، محاسبہ اور تبدیلی کا مہینہ ہے اور گیارہ مہینوں کا بھٹکا ہوا مسلمان رب ذوالجلال کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی بخشش کی امید لیے حاضر ھو جاتا ہے..
عبادات کے ساتھ ساتھ رمضان کا ایک اور پہلو بہت اہم ہے اور جس پر ہمارا دھیان بہت کم جاتا ہے.. وہ ہے معاملات اور رویے. دنیا بھر میں مختلف مذاہب اور انکے پیرو کاروں کو دیکھ لیجیے. انکے مذہبی تہواروں پر انکے رویے اور معاملات دیکھئے تو آپکو واضح فرق محسوس ہوگا .
رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہمارے تاجر حضرات کی طرف سے مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور اشیا کی مصنوئی قلت بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے . ایک سفید پوش آدمی عام دنوں میں بلعموم اور رمضان میں بلخصوص جس طرح گزر بسر کرتا ہے وہ بہت تکلیف دہ اور قابل توجو امر ہے . ایک بات جو میرے مشاہدے میں آئی ہے کہ ہمارے کچھ من چلے دوست سحری اور افطاری میں انواع و اقسام کے پکوان اور پھل فروٹ استعمال کرتے ہیں اور پھر انکی سوشل میڈیا پر تصویری تشہیر کے زریعے اپنے دوسرے دوستوں کو بتاتے ہیں ایسے میں ایک غریب سفید پوش آدمی جس طرح اپنے بچوں کے سامنے شرمندگی اور دکھ محسوس کرتا ہے یقین مانیں درد دل رکھنے والوں اور اس درد کی کیفیت کو سمجھنے والوں کے لیے بہت کرب اور انتہائی تکلیف دہ مقام ہے.
آپ عیسائیوں ، ہندوؤں ، یہودیوں اور دیگر مذاہب کے مذہبی تہواروں کو دیکھیں. ان کے تاجر اور دکاندار اشیا ضروریہ پر ڈسکاؤنٹ آفر کرتے ہیں اور تہوار اور موسم کی مناسبت سے رعایت اور چھوٹ دے کر اپنے مذہبی بھائیوں کی خوشیوں کو دوبالا کرتے ہیں. لیکن ہمارے ہاں تمام تر دینی تعلیم کے باوجود ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کے لیے ماہ رمضان جیسے مقدس مہینے کا انتخاب کیا جاتا ہے جو لمحہ فکریہ ہے. اور اس پر عجیب بات یہ کہ شہر کا سب سے بڑا ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور اتنا ہی بڑا مذہبی اور تبلیغی پیشوا بھی ہوتا ہے اور بہت سی مساجد میں موصوف کے نام سے سحری و افطاری دی جاتی ہے اور انکا آخری عشرہ عموماً مسجد نبوی کی پر نور فضاؤں میں گزرتا ہے.
ذرا دل سے سوچیں کہ جب ایک غریب آدمی کا معصوم بیٹا گلی محلے اور مسجد میں اپنے ہم عمر دوستوں سے اپنے دستر خوان کے قصے سنتا ہے اور پھر باپ کی قوت خرید سے بے خبر انہی اشیا کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو وہ باپ اس لمحے بلا شبہ خود کو اس مقام پر محسوس کرتا کہ زمین راہ دے تاکہ وہ اس میں گڑ جاۓ . اور اگلی افطار پر خالی دستر خوان اور شرمندہ شرمندہ باپ پیسے والوں ، ناجائز منافع خوروں ، ذخیرہ اندوزوں اور مہنگائی کے ذمہ داروں کے لیے ایک طمانچہ ہے اور ایک بد دعا ہے کہ اے وقت کے قارونوں اور فرعونوں اللّه پاک تمہیں تمہاری دولت اور امارت سمیت غرق کرے جس نے ایک غریب باپ کو اپنے ہی اہل و عیال کی نظروں میں شرمندہ اور بے توقیر کر دیا.
اس سارے گناہ میں حکومت اور حکومتی ادارے برابر کے شریک ہیں جو اس مافیا کے ھاتھوں یرغمال بنے ہوے ہیں اور قوانین کے باوجود مہنگائی اور گراں فروشی کے جن کو قابو کرنے میں ناکام ہیں اور اس فعل میں بلا شبہ انکی بد نیتی اور لالچ کا عمل دخل بھی شامل ہے.
میں اپنے دوستوں اور قارئین سے التماس کرتا ھوں کہ خدارا اپنے رشتے داروں ، قرابت داروں ، محلے داروں اور قرب و جوار میں موجود ایسے محروم طبقات کا خیال رکھا کریں اور ایسے غیر محسوس اور ڈھکے چھپے طریقے سے تاکہ انکی عزت نفس بھی مجروح نہ ھو. تاجر بھائیوں اور آڑھتیوں سے دست بدستہ التماس ہے کہ خدا کا نام لیں گیارہ مہینے تھوڑا کماتے ہیں..؟؟ صرف ایک مہینہ اللّه پاک کی خاطر غریبوں پر نرمی برتیں اور اللّه پاک کے اس وعدے پر اعتبار رکھیں کہ میری راہ میں خرچ کیا گیا ایک روپیہ دس گنا تک اور رمضان میں یقیناً اس سے بھی زیادہ اجر اور انعام دیا جاۓ گا ..

اللّه پاک آپکا حامی و ناصر ھو ..

asifmehmood.malik@yahoo.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں