146

انتخابی معرکہ اور ضلع چکوال میں نئی صف بندیاں…….چودھری عبدالجبار

سیاسی حالات واقعات بڑی تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہے ہیں انتخابی سیاست کی شطرنج سجائی جا چکی ہے۔ تاج سلطنت کون پہننے میں کامیاب ہوگا اور اقتدار کی کنجی کسے سونپی جائے گی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔تاہم سیاسی جماعتیں حالات کیمطابق نئی انتخابی صف بندی میں مصروف ہیں۔ملک میں انتخابات مقرر وقت پر ہوں گے بھی یا نہیں ، سیاسی حلقوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو عام انتخابات دوہزار اٹھارہ کی تاریخ مقرر کرنے کے لئے سمری ارسال کردی ہے جس میں چوبیس سے ستائیس جولائی کی تاریخیں تجویز کی گئی ہیں الیکشن کمیشن نے سمری میں الیکشن کے انعقاد کے لیے پچیس سے ستائیس جولائی تک کی تین تاریخیں تجویز کی صدر مملکت ان تاریخوں میں سے ایک دن الیکشن کرانے کا تعین کرینگے،جس کے بعد یکم جون کو الیکشن کمیشن الیکشن شیڈول جاری کرے گا الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرنے کے لیے صدر سے منظوری لینے کا پابند ہے ستائیس جولائی کو جمعہ ہونے سبب الیکشن ڈے ہونے کے امکانات کم ہیں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء کیلئے انتخابی نشانات کی فہرست تیار کرلی ہے، عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کیلئے 330 انتخابی نشانات کی فہرست جاری کی ہے۔ تاریخ میں پہلی بارانگریزی کے چھ حروف تہجی بھی انتخابی نشانات میں شامل کیے گئے مسلم لیگ ن پانچ سال حکومت کرنے کے بعد اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ایک جانب اندرونی اور بیرونی خلفشار نے پارٹی کو کمزور کر رکھا ہے تو دوسری جانب مقدمات میں گھری مسلم لیگ ن کی قیادت کو کرپشن کیسسز نے پریشان کر رکھا ہے۔ایسے میں مسلم لیگ ن کے ممبران قومی وصوبائی اسمبلی پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ان حالات میں میاں برادران کونئے نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دوسری جانب تحریک انصاف میں دوسری جماعتوں سے آنے والے اراکین کی شمولیت کے بعد تحریک انصاف کے پرانے اور دیرینہ کارکن شدید پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں۔عمران خان نے اپنے منشور سے ہٹ کر دوسری جماعتوں کے ان افراد کو شامل کررہے ہیں جو صرف اقتدار کا مفاد عزیز رکھتے ہیں تحریک انصاف میں جو لوگ بھی آ رہے ہیں وہ صرف اس شرط پر آرہے ہیں کہ ا نہیں پارٹی ٹکٹ دیا جائیگا اب تک 100 سے زائد سیاسی جماعتوں کے ایم این اے اور ایم پی اے نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔ سب سے ز یادہ مسلم لیگ (ن) متاثر ہوئی ہے مسلم لیگ ن کے60 سے زائد،،پیپلز پارٹی کے 25 سے زائد اور مسلم لیگ ق کے 15 رہنماء تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔موجودہ صورتحال سے پی ٹی آئی کے پرانے اور دیرینہ کارکن سخت تذبذب کا شکار ہیں۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران اگر تحریک انصاف کے پرانے اور دیرینہ کارکنوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسری جماعتوں سے آنے والے اراکین کو ٹکٹ دئیے تو پارٹی میں دھڑے بندیاں ہو سکتی ہیں۔ تحریک انصاف کے پرانے اور دیرینہ کارکن پارٹی بھی چھوڑ سکتے ہیں۔نظریاتی کارکنوں کو نظرانداز کرکے مفاد پرستوں کو ترجیح دینے پر پارٹی کے دیرینہ کارکنوں اور رہنماؤں کی بغاوت کیا رنگ دکھاتی ہیں اس کا فیصلہ وقت نے کرنا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ جو لوگ پندرہ سالہ سال سے پارٹی کے ساتھ چل رہے تھے وہ اب بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ پی ٹی آئی میں منزل انہیں مل رہی ہے جو شریک سفر ہی نہ تھے سیاسی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اولین اور دیرینہ کارکنوں کو نظر انداز کرنے کی غلطی کو

دہرانے کی بالکل بھی گنجائش نہیں۔ آئندہ الیکشن کے حوالے سے ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران اگر تحریک انصاف کے پرانے اور دیرینہ کارکنوں کو چیئرمین تحریک انصاف نے نظر انداز کرتے ہوئے دوسری جماعتوں سے آنے والے اراکین کو ٹکٹیں دیں تو اس صورت میں پارٹی میں دھڑے بندیاں ہو سکتی ہیں اور تحریک انصاف کے پرانے اور دیرینہ کارکن دلبرداشتہ ہو کر پارٹی بھی چھوڑ سکتے ہیں۔دوسری جانب تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق)کے درمیان انتخابی اتحاد کی خبریں بھی زیرگردش ہیں ‘دونوں جماعتو ں کی قیادت پنجاب میں آئندہ الیکشن کے موقع پر انتخابی اتحاد کیلئے رابطے میں ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اور ق لیگ کے رہنماں کے درمیان یہ طے پاگیا ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں پنجاب کی حد تک ایک دوسرے سے سیاسی تعاون کریں گے اور اس سلسلے میں انتخابی اتحاد بنانے جانے کا بھی امکان ہے جس کے لئے دونوں سیاسی جماعتوں میں براہ راست رابطے موجود ہیں دونوں جماعتیں انتخابات میں ایک دوسرے کے امیدواروں کو سپورٹ بھی کریں گی۔اگریہ اتحاد پایا تکمیل کو پہنچتا ہے تو تحریک انصاف اور ق لیگ کے درمیان ممکنہ انتخابی اتحادحلقہ این اے 65سمیت تلہ گنگ کے دوصوبائی حلقوں پر (ن) لیگ کے لئے پریشانی کاباعث بن سکتاہے۔مسلم لیگ(ن) کو چھوڑنے کے بعد ضلع بھر کی نظریں سردار غلام عباس کے فیصلے پر ہیںآئے روز متضاد خبریں اس حوالے سے سامنے آرہی ہیں ۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار غلام عباس نے پی ٹی آئی سے حلقہ این اے 64اور پی پی 23کے ٹکٹ کی ڈیمانڈ کی ہے جس پر پی ٹی آئی نے صرف حلقہ این اے 64پر سردار غلام عباس کو ٹکٹ دینے کا سگنل دیا ہے اس کے علاوہ پی ٹی آئی سردار غلام عباس کو کوئی بھی نشست دینے کے لئے تیار نہیں جس پر معاملات تعطل کا شکار ہیں کچھ سیاسی حلقے اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ سردار غلام عباس کسی بھی لمحے پی ٹی آئی جوائن کرسکتے ہیں اور مسلم لیگ (ق) کی مقامی قیادت کی خواہش بھی یہی نظر آتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی جوائن کرنے کی صورت میں سردار غلام عباس حلقہ این اے 64پر مسلم لیگ(ق) حلقہ این اے 65پر جبکہ پی پی23پر پی ٹی آئی اور پی پی 24پر مسلم لیگ (ق) کا پی ٹی آئی سے اتحاد کرکے الیکشن لڑنے کا امکان ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے موجودہ پارلیمنٹرین نے بھی لاہور میں پارٹی ٹکٹ کے لئے درخواستیں جمع کرادی ہیں۔اور یہ اطلاعات ہیں کہ سردار ذولفقار دلہہ نے تین نشستوں پر درخواست جمع کرائی ہے ۔پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے محروم متاثرین بھی جلد سامنے آئیں گے ۔ان کے مستقبل کا فیصلہ بھی بڑا اہم ہوگا،پی پی پی میں جان ڈالنے کے لئے بلاوال بھٹوکے دورہ چکوال کی خبریں بھی آرہی ہیں ۔سردار فیض ٹمن بھی پوری تیاری کے ساتھ میدان میں کود پڑے ہیں اور تلہ گنگ میں الیکشن آفس کاقائم کردیا ہے ۔ہم خیال گروپ نے آمدہ الیکشن میں اپنے امیدوار اتارنے کا اصولی فیصلہ کر لیاہے اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں ملک اسد ڈھیر مونڈ،ملک جہانگیر،ملک زاہد مبارز،ملک مظفر خان،ملک افضل ٹمن،سردار امجد الیاس،سردار تیمور،ملک سعید،ملک اللہ یار لاوہ،خان نثار ڈھوک پٹھان،اور حافظ شیر خان دھولر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ میدان خالی نہیں چھوڑیں گے اور برداری ازم کومضبوط کریں گے ہمارے قافلے میں لوگ جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔تحریک لبیک اور ایم ایم اے بھی اندور ن خانہ متحرک ہیں تاہم صورتحال بڑی دلچسپ ہے اورسردار غلام عباس کے فیصلے کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں