340

محکمہ ایکسائز چکوال میں سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ افراد نے بھی سرکاری اختیارات کے تحت معاملات چلانا شروع،عوام دفتر کے دھکے کھانے پر مجبور

چکوال( نمائندہ بے نقاب) محکمہ ایکسائز چکوال میں سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ دو پرائیویٹ افراد نے بھی سرکاری اختیارات کے تحت معاملات چلانا شروع کردیے ،ایکسائز آفس میں کچھ عرصہ قبل محکمہ انٹی کرپشن نے چھاپہ مار کر کلرک خلیل کو گرفتار کیا تھا

جس کے بعد اس کو محکمہ ایکسائز کی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا ،اسی طرح دوسرا ملازم فاروقی نامی شخص ہے جو کہ محکمہ ایکسائز چکوال کا نہ تو کنٹریکٹ پر ملازم ہے اور نہ ہی مستقل ، اس کے باوجود ان دونوں افراد نے ایکسائز آفس چکوال کے تمام معاملات سنبھال رکھے ہیں،معلوم ہوا کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آ فس جہاں کوئی بھی جائز کام بھی بغیر ایجنٹ کے ممکن نہیں میں ان دو اشخاص کو اس لیے رکھا گیا ہے کہ اگر محکمہ اینٹی کرپشن چھاپہ مارے تو سرکاری اہلکاروں کو بچا کر ان پرائیویٹ افراد کو آگے کر دیا جائے،تمام معماملات کمپیوٹرائزڈ ہو جانے کے باوجود چکوال ایکسائز آفس میں سارا کام مینوئل طریقے سے چلایا جا رہا ہے،عام افراد اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور گاڑی اپنے نام کروانے کے لیے دفتر کے باہر دھکے کھا رہے ہیں جبکہ یہ دو افراد خلیل اور فاروقی مناسب خدمت کے عوض ہر کام منٹوں میں کروا کے لے آتے ہیں، ان دو پرائیویٹ افراد کی سرکاری دفتر میں موجودگی پر ای ٹی او چوہدری امجد علی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ خلیل نامی شخص کا دفتر ایکسائز میں داخلہ بند ہے اگر اسکے باوجود وہ دفتر میں بیٹھ کر کام کررہا ہے تو اس پر ایکشن لیا جائیگا اور فاروقی نامی شخص چائے پانی اور کھانا دینے کے لئے دفتر میں رکھا گیا ہے اس کے خلاف شکایت ملی تو دفتر سے فارغ کر دوں گا،دفتر کے باہر موجود سائلین احسن،تنویر،فرقان علی،فاروق احمد،ساجد حسین،احمد نواز،قادر حسن،طیب علی،شاکر حسین،مسعود احمد، شایان حیدر،سید طفیل شاہ،محمود حسین،نزیر احمد،چوہدری گل حسن،زمرد ھسین اعوان اور ملک خالد تنویر نے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز پنجاب، ڈائریکٹر ایکسائز راولپنڈی ڈویثرن ، ڈپٹی کمشنر چکوال ، ڈائریکٹر انٹی کرپشن راولپنڈی فوری نوتس لینے کی اپیل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں