64

خود احتسابی………….تحریر- امیر احسان اللہ چینجی

خود احتسابی کے عمل کا مجموعی طور پر ہمارے مسلم معاشرے میں ناپید ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اسی حوالے سے ایک فکر انگیز واقعہ آپ کی نذر کرتا ہوں۔ خوشاب کے ایک نواحی گاؤں میں ایک دوست کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے لئے جانے کا اتفاق ہوا۔ مرحومہ کا بڑا بیٹا ملازمت کے سلسلے میں کنیڈا رہائش پذیر تھا۔ ماں اپنے لخت جگر کے احساس جدائی اور

امید دید کے ساتھ سانسوں کا رشتہ بحال رکھنے میں ناکام ہوئی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تھی۔ نہ جانے کتنےہی ارماں اور خواب سجا رکھے ہونگے لیکن پیٹ کی مجبوریاں بیٹے کی زنجیر بنی ہوئی تھیں۔ وفات کے چند ہی لمحوں بعد چھوٹے بیٹے نے دیار غیر میں مقیم اپنے بھائی کو قیامت خیز اطلاع دی تو جیسے اس کی کل کائنات اجڑ گئی۔ ماں کے آخری دیدار کی تمنا کے ساتھ اس نے کسی بھی فلائٹ جو اسے جلد از جلد پاکستان پہنچا سکے بھاگ دوڑ شروع کردی۔ وہ اپنا ماجرا کچھ یوں بیان کرتا ہے۔”میں بوجھل قدموں کے ساتھ بکنگ آفس پہنچا سامنے ڈیسک پہ ایک کنیڈین لڑکی بیٹھی تھی۔اس نے اچھے انداز میں میرا استقبال کیا اور پوچھا کہ سر میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں۔ میں نے کراہتے ہوئے انداز میں کہا کہ مجھے پاکستان جانے والے کسی بھی فلائٹ کا ٹکٹ درکار ہے تاکہ میں اپنی ماں کی آخری رسومات میں شرکت کر سکوں۔ لڑکی نے میری پریشانی اور دکھ کے پیش نظر کمپیوٹر پر انگلیاں چلانا شروع کردیں اور بالآخر مجھے مخاطب کر کے کہا کہ سوری سر ایک گھنٹہ بعد جانے والی فلائٹ میں کوئی سیٹ نہیں ہے۔ میں گہرے صدمے سے دوچار تھا اور اس سے التجا کی کہ اگلی فلائٹ چیک کریں یا اسی فلائٹ میں کچھ ڈالر ایکسٹرا لے کر مجھے بھیج دیں۔ میرے اس لے دے کی التجا پر اس نے کہا کہ کیا آپ مسلمان ہیں۔ جواب میں بڑے فخر سے اثبات میں سر ہلایا تو اس لڑکی نے کہا سوری سر ایکسٹرا لین دین مسلمانوں میں چلتا ہوگا ہمارے ہاں نہیں تاہم میں آپ کی ہر ممکن مدد کروں گی تاکہ آپ کی فوری روانگی کو ممکن بنا سکوں۔ لڑکی کے یہ کلمات مجھے میرے مسلمان ہونے پر اہانت آمیز محسوس ہوئے اور میں اپنا دکھ بھول کر سر نیچے کر کے سوچنے پہ مجبور ہوگیا کہ پاکستان میں تو لے دے کر سارے کام آسان ہو جاتے ہیں۔ اور بچپن سے پاکستان کے ہر سرکاری و نجی اداروں میں یہ کام ببانگ دہل کیا جاتا ہے۔ اور ایک غیر مسلم لڑکی نے مسلمانوں کے بارے میں ایسے الفاظ کہہ دئیے جن کا جواب میرے پاس بالکل نہیں تھا۔ شرم کے مارے میں اس سے نظریں چرانے پر مجبور ہوگیا۔ اپنے آپ کو احتساب کی چکی میں پستا محسوس کررہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ مسلمانوں نے کیوں ساری دنیا میں اپنا تشخص مجروع کیا۔ لیکن چونکہ پاکستانی معاشرے میں یہی رواج ہے اور مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہماری تربیت میں لے دے کے رواج سر عام ہیں۔ اس کے الفاظ میرے اور مسلمانوں کے منہہ پر کسی زور دار تھپڑ سے کم نہ تھے“
بظاہر ایسے واقعات ہر روز اور ہر جگہ رونما ہوتے ہیں اور ان کو زیر قلم لانا خود احتسابی کے اصول کو اجاگر کرنا مقصود ہے تاکہ ایسی کسی کاوش سے کسی ایک بندے کی اصلاح بھی ہوجائے تو میں سمجھتا ہوں یہ تحریر اپنے مقصد کو پہنچ جائے گی۔ پاکستان میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوتا ہے اور کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوتا لیکن ساری دنیا کرکٹ کے لئے پاکستان سے منہہ موڑ لیتی ہے۔ اور بدقسمتی سے آج تک ماسوائے ایک دو ملکوں کے دنیا ہم پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔امریکہ میں ایک سترہ سالہ نوجوان ایک سکول پر حملہ آور ہوتا ہے اور سبیکا شیخ سمیت کئی معصوم جانوں کا قتل کر دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا اس واقعہ کے بعد دنیا یا پاکستان بھی امریکہ سے منہہ موڑ لے گا۔ دہشت گردی تو وہاں بھی ہوتی ہے تو کیا وہاں تعلیم کے حصول کے لئے دنیا اپنے بچے وہاں بھیجنا چھوڑ دے گی۔ ہمارے وزیراعظم جب امریکہ جاتے ہیں تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم کے کپڑے ایئر پورٹ پر اتار کے ان کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔ پاکستان کے وجود کے ستر سال بعد ہم نے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر وہاں وزیر اعظم پاکستان کا یہ حال ہے تو ایک عام پاکستانی کو کس قدر تکلیف دہ اور حقارت سے دیکھا جاتا ہوگا۔ کرنل جوزف ایک نوجوان کو گاڑی میں کچل کر آگے بڑھ جاتا ہے اور معاہدہ کے تحت اسے امریکہ بھیج دیا جاتا ہے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی پچھلے سولہ سال سے جس عذاب مسلسل میں مبتلا ہے ہمارے بذدل حکمرانوں کے منہہ سے مذمت کا ایک لفظ تک نہیں نکلتا۔ ہم اپنے پاکستانیوں کو ناکردہ جرائم کی سزا بھگتنے امریکہ کے حوالے کردیتے ہیں لیکن کسی امریکی شہری کو اپنے ملک کے قوانین کے مطابق پاکستان میں سزا دینے سے قاصر ہیں۔ کاش ہمارے وزیراعظم کو جب کپڑے اتارنے کا کہا گیا تو وہ ڈٹ جاتے اور دورہ مسترد کرکے واپسی کی راہ لیتےتو اغیار کو احساس ہوتا کہ یہ وزیراعظم فرد واحد نہیں بلکہ بائیس کروڑ عوام کا نمائندہ ہے اور یہ تذلیل فرد واحد کی نہیں بلکہ بائیس کروڑ عوام کی ہے۔ غیرت اور عزت کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھے ہمارے کٹھ پتلی وزیراعظم یا حوس اقتدار کے پجاری خود بھی اور پوری قوم کو ذلت کی اور کتنی گہرائیوں میں دھکیلیں گے۔ ہمارے منتخب وزیراعظم سے جب ان کی ناجائز اکھٹی کردہ دولت کا حساب مانگا جاتا ہے تو وہ مقدس ایوان میں جھوٹ بولتے ہیں۔ کہاں ہیں وہ ذرائع جس کا اعتراف ایوان میں کیا گیا۔ اور عوام سے خطاب میں کہتے ہیں۔ ”مجھے کیوں نکالا“
اقتدار کی بھوک میں وطن عزیز کی حرمت پر زبان درازیاں شروع کردیتے ہیں۔ آج ان احتساب عدالتوں کی ضرورت ہی پیش نہ آتی اگر کلمے کی بنیاد پر حاصل کردہ ملک میں خود احتسابی کا اصول وضع ہوتا۔ عوام جب ایسے چور اور لٹیروں کے لئے اقتدار کے راستے خود ہموار کرتی رہے گی تو یہی حالات ہونگے کہ آج ہر پاکستانی کم و بیش ایک لاکھ تیس ہزار کا مقروض ہوچکا ہے۔ اس مقروض قوم کا پیسہ سرکاری پروٹوکول پر خرچ ہوتا ہے توکبھی جاتی امراء کو جانے والی روڈ پر اربوں روپے سرکاری خزانے سے لگا دئیے جاتے ہیں۔ کبھی صاف پانی پروجیکٹ پر اربوں روپے لگا کر بھی پانی کی بوند تک میسر نہیں ہوتی۔ کاش خود احتسابی کا عمل نچلی سطح سے شروع ہوتا تو اقتدار پر براجمان لوگوں کی ہمت نہ ہوتی کہ وہ امانت میں خیانت کرتے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو
03445624732

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں