217

سیاسی ڈائری تلہ گنگ ……….تحریر،امیر احسان اللہ 03445624732

گزشتہ ہفتہ سرداران ٹمن کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے کافی زیر بحث رہا۔سردار فیض ٹمن کا افطار ڈنر جہاں سیاسی۔ سماجی اور صحافتی شخصیات نے بھرپور شرکت کی اور آمدہ الیکشن کی مہم میں ایک روح پھینک دی۔ اچھے خاصے اکٹھ نے سردار فیض ٹمن کی تاحال مقبولیت کو مزید چار چاند لگا دیۓ۔ چکوال سے ممتاز صحافی ریاض انجم

اور چوہدری عمران قیصر کی بطور خاص شرکت نے اس افطار ڈنر کی گونج چکوال بھر تک پہنچا دی۔ تلہ گنگ سے چوہدری غلام ربانی۔ قاضی عبدالقادر۔ ملک عامر نواز۔ لیاقت اعوان اور دیگر نامور صحافی بھی اس محفل کی زینت بنے۔ ایک عرصے بعد فیض ٹمن کی انتخابی سیاست میں دبنگ انٹری سیاسی حوالوں سے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس افطار ڈنر کی گونج کا ہی اثر تھا کہ سردار منصورحیات نے تلہ گنگ گلیڈی ایٹر پر ایک افطار ڈنر کا اہتمام کیا۔ حیرت اس وقت ہوئی جب عین وقت پر یاسر پتوالی بھی وہاں پہنچ گئے کیونکہ دونوں راہنماؤں کے درمیان ایک سرد جنگ کافی عرصے سے چل رہی تھی۔ چکوال و تلہ گنگ سےتحریک انصاف کے دیگر نمائندگان بھی وہاں موجود تھے۔ ایک عجیب بات کہ وہاں کسی بھی صحافی کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ چند راہنماؤں کی طرف سے کچھ صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اور ان کا کہنا تھا کہ بغیر تصدیق کے من گھڑت خبروں کو چھاپا گیا جس سے سیاسی ساکھ کو دھچکا لگا۔ بات یہاں ختم نہ ہوئی اور ردعمل میں سوشل میڈیا پر ایک جنگ شروع ہوگئی۔ شائد بات اتنی آگے نہ جاتی صحافیوں اور تحریک انصاف کے کچھ ذمہ داران کے درمیان سوشل میڈیا پر اس کو خوب اچھالا گیا۔ کچھ الفاظ کا ذکر جو وہاں دونوں طرف سے استعمال کئے گئے دوبارہ ذکر کرنا مناسب نہیں تاہم اس سارے عمل میں ساکھ دونوں کی متاثر ہوئی۔ یہاں کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں کہ صحافی یا کالم نگار اگر سیاسی یا انتخابی فضا میں گردش کرتی کسی چیز کو زیر قلم لا ہی دیتے ہیں تو کیا سیاسی نمائندگان تلوارلے کرصحافیوں کے درپے ہو جائیں گے۔ صحافی پیش گوئیاں بھی کرتے ہیں۔ اور ہماری ملکی سیاست میں وہی پیش گوئیاں سچ بھی ثابت ہونے کی دلیلیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر میرے ذرائع نے سردار غلام عباس کے ن کو خیر باد کہنے کی اطلاع ان کی پریس کانفرنس سے تین ہفتے قبل ہی دے دی تھی جبکہ سردار غلام عباس دو دن پہلے تک بھی اپنےویڈیو پیغام میں ن کو خیر باد کہنے کی خبر کو جھوٹ پرمبنی قراردے رہے تھے۔ جبکہ سوشل اور پرنٹ میڈیا پر مسلسل خبریں آرہی تھیں۔ بالآخر وہی ہوا کہ سردار غلام عباس نے پریس کانفرنس میں ان تمام پیشن گوئیوں کی تصدیق کردی لیکن اس سے قبل کم از کم سردار غلام عباس کے کسی ساتھی یا خود انہوں نے کسی صحافی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا اور نہ ان کے درپے ہوئے۔ ٹکٹوں کی تقسیم یا سیٹ ایڈ جسمنٹ کے حوالے سے لگی خبروں پر تحریک انصاف کے راہنماسیخ پا ہوئے تو گزارش ہے کہ وہ اس کی تردید کروا دیتے نہ کہ اجتماعی طور پر تمام قیادت صحافیوں کی کردار کشی پر اتر آتی۔ اور وہ بھی ایسے وقت جب الیکشن صرف دو ماہ کی دوری پر ہیں۔ایک طرف تحریک انصاف اب اقتدار کی سیاست کی طرف پیش قدمی کررہی ہے تو دوسری طرف صحافیوں کے ساتھ محاذ آرائی سمجھ سے بالا ہے۔ وہی صحافی ان کے حق میں لکھیں تو آفریں ورنہ غیض و غضب کا نشانہ۔ میں کئی جگہ ذکر کر چکا ہوں کہ میاں محمد نواز شریف کو ان کے معتمد ساتھیوں نے انہیں بندگلی میں لاکھڑا کیا ہے۔ انہیں ہر وقت سب اچھا رپورٹ دینے والے دوستوں نے آج ان کو یہ کہنے پہ مجبورکر دیا کہ وہ پوچھتے پھر رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا یا اداروں سے متصادم ہیں۔ تاہم صحافی برادی کو بھی کسی کی عزت نفس مجروع کرنے کا حق نہیں۔ انہیں ایسے کشیدہ ماحول میں اپنی تمام تر خبریں معتبر ذرائع سے لگانی چاہیں تاکہ ماحول خراب نہ ہو۔ یاسر پتوالی کی تجویز کے مطابق ایک کمیٹی تشکیل دے کر اس سارے عمل کا جائزہ لینا چاہیۓ اور اس تنازعہ کا بہتر حل ڈھونڈنا چاہیۓ۔ ہمارے لیئے تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران قابل عزت ہیں اور تمام صحافی بھائیوں سے بھی اپیل ہے کہ اس معاملے کو طول نہ دیں اور کمیٹی جو سفارشات مرتب کرے ان کی پابندی کی جائے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں