115

مرکزی جامع مسجد عیدگاہ تلہ گنگ میں اجتماعی اعتکاف……..تحریر، چودھری عبدالجبار

رحمت کائنات رسول کریمﷺ کے ایک فرمان کے مطابق ’’رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا اور آخری جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے‘‘دوسرا عشرہ اختتام پذیر ہونے کو ہے اور اس ماہ مقدس کے تیسرے عشرے کا آغاز ہونے والا ہے ۔جس میں روزہ داراللہ رب العالمین کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطراعتکاف کیلئے بیٹھ جائیں گے

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اعتکاف کرنے والے کے حق میں یہ فرمایا کہ وہ گناہوں سے بچا رہتا ہے اور نیکیاں اس کے لیے جاری کی جاتی ہیں ایسی نیکیاں جیسی کہ عام طور پر نیکیاں کرنے والے ہر قسم کی نیکیاں کرتے ہیں۔‘‘ (رواہ ابن ماجہ)۔اعتکاف کا لفظی مطلب ہے روکنا اور منع کرنا۔ چونکہ انسان اعتکاف میں اپنے آپ کو چند مخصوص باتوں سے روکتا ہے اس لیے اسے اعتکاف کہتے ہیں۔اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتا ہے۔ یعنی بیسویں روزے کی شام کو غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند نظر آنے پر ختم ہو جاتا ہے۔مرد کے اعتکاف کا طریقہ یہ ہے کہ بیسویں روزے کی شام کو مغرب سے پہلے مسجد میں داخل ہو اور پھر عید کا چاند نظر آنے پر مسجد سے باہر نکلے۔ اس دوران کھانا، پینا، سونا جاگنا، پڑھنا لکھنا سب کچھ مسجد کے اندر رہ کر کرے گا۔ البتہ ضروری حاجت کے لیے مسجد سے باہر نکل سکتا ہے۔ اگر بغیر عذر کے ایک لمحہ کے لیے بھی باہر نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ عورت کے اعتکاف کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کے کسی کمرہ میں یا کسی کمرہ کے ایک مخصوص کونے میں ٹھہر جائے وہیں کھائے پئے۔ وہیں سوئے۔ صرف ضروری حاجت کے لیے اپنی جگہ سے باہر جا سکتی ہے۔ جب ہم حضور اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اعتکاف کے بڑے فضائل معلوم ہوتے ہیں جس سے ذہن میں اعتکاف کی اہمیت پیدا ہوتی ہے۔ایک موقع پر ارشاد نبوی ﷺہوا فرمایا جو شخص ایک دن بھی اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے اعتکاف کرتا ہے۔ تو اللہ اس شخص کے اور دوزخ کے درمیان تین ایسی خندقوں کے برابر دیوار قائم فرما دیتے ہیں جن خندقوں کا فاصلہ زمین و آسمان کے فاصلہ سے بھی زیادہ ہے۔ بیہقی کی ایک روایت میں بڑی اہم حدیث میں ذکرہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرے تو اسے دو حج اور دو عمروں کے برابر ثواب ملے گا۔ بہت سے ایسے کام بھی ہیں جنہیں انسان مسجد سے باہر کرتا ہے تو اسے ثواب ملتا ہے لیکن اعتکاف کی حالت میں وہ کام نہیں کر سکتا مثلاً نہ کسی کی عیادت کے لیے جا سکتا ہے‘ نہ کسی جنازے کے ساتھ جا سکتا ہے نہ کسی کی خیر خواہی وغیرہ کے لیے جا سکتا ہے۔ تو اس کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ترجمہ: ’’اعتکاف کرنے والا گناہوں سے تو محفوظ رہتا ہی ہے اور اس کے لیے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں جتنی کرنے والے کے لیے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے انقلابی اثرات سے بہر مندہونے کے لئے مرکزی جامع مسجد عیدگاہ تلہ گنگ میں ہرسال اجتماعی اعتکاف کا خصوصی انتظام کیا جاتاہے ۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماء اور مرکزی جامع مسجد عیدگاہ کے خطیب مولانا عبیدالرحمن انور صاحب کے زیرسرپرستی اورنائب خطیب قاری زبیر احمد صاحب کے زیرنگرانی رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے انقلابی اثرات سے بہر مندہونے کے لئے عامہ الناس کے لئے مرکزی جامع مسجد عیدگاہ تلہ گنگ کےُ پرانوارروحانی ماحول میں اجتماعی اعتکاف کی بستی آباد ہوتی ہے ۔اہل اعتکاف کے لیے مختلف نشتوں کا اہتمام کیا جا تاہے جس میں عقائد و اعمال کی اصلاح کی جاتی ہے۔ہر روز رات کے درمیانے حصے میں ذکر و دعا ہوتی ہے جس میں ملک و ملت کے لیے خیر خواہی کی دعائیں کی جاتی ہیں۔ کچھ ایسی نشتوں کا بھی اہتمام کیا جا تاہے جس میں اہل اعتکاف کو شرعی احکام سکھائے جاتے ہیں اور معتکفین کو ابتدائی مسائل سے اگاہ کیا جاتا ہے۔کچھ نشتوں میں اہل اعتکاف کو دعائیں یاد کرائی جاتی ہیں۔ اسی طرح یہ اجتماعی اعتکاف اپنے اندر کئی فوائد کو جمع کیے ہوئے ہے جس سے مذہنی اور روحانی تربیت ہو تی ہے۔ یہاں اعتکاف کرنیوالے150سے 200 معتکفین کے لئے سحری اور افطاری کا اجتماعی خصوصی انتظام ہوتا ہے ۔جبکہ عبادت کے لئے بہترین خوش نما روحانی ماحول میں علاقہ بھر سے آئے ہوئے سنجیدہ معتکفین کی صحبت میں علاقہ کے جید علمائے کرام مولانا اخلاق احمدصاحب (ظہورالاسلام)،مولانا مدثر احمد ،مولانا خالد فاروق جرار صاحب،قاری فضل محمود کاشف ،قاری محمد قاسم صاحب ٹہی ،مولانا مقصود احمدصاحب ،مولانا عبدالرحمن نظام صاحب،مولانا رب نوازصاحب (جامعہ بیت السلام سگھر)مولانا فیض الرحمن صاحب ،مفتی تنویراحمدصاحب ڈھرنال،اور مولانا عبیدالرحمن انور کے صاحب ایمان افروزبیانات ،فقہی نشستیں ، تعلیم وتعلم اورفکری موضوعات پر رہنمائی اور درس قرآن مجید کی خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔اجتماعی اعتکاف کی منتظم جماعت للہ کے ان مہمانوں کی خدمت اپنے لئے سعادت سمجھتی ہے ۔رمضان کے آخری عشرہ میں مرکزی جامع مسجدعیدگاہ میں نمازتروایح میں ختم قرآن مجیدکی روح پرور تقریب سعید کی فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کے لئے ہزاروں افراد مولانا عبیدالرحمن انور صاحب کی رقت آمیزدعا میں شریک ہوتے ہیں ۔اور اللہ رب العالمین کے حضور اپنے گناہوں پر معافی کے طلب گار ہوتے ہیں ۔ امسال بھی دس رمضان المبارک سے نمازوں کے اوقات میں معتکفین کی رجسٹریشن کا سلسلہ جاری ہے ۔ اجتماعی اعتکاف کے خواہشمند حضرات شناختی کارڈ کی کاپی کے ہمراہ رجسٹریشن کے لئے قاری زبیر احمدصاحب (03015779068)اور ملک خالدمسعودصاحب ایڈووکیٹ(03335143551 )سے رابطہ کریں ۔‘اللہ رب العزت ہمیں رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی تمام نیکیاں سمیٹنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں