933

مسلم لیگ ن کے ممتاز ٹمن اور شہریار اعوان کی سیاسی خانہ جنگی ناقابل شکست قلعہ زمین بوس ہونے کا خدشہ ، اندرونی اختلافات کے باعث شیر کو مضبوط اور توانا کرنے کی بجائے شیر کی سلامتی خطرے میں ڈالی دی

تلہ گنگ (نمائندہ بے نقاب) انتخابات2018 این اے 65 ، پی پی24 میں مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کی آپس میں پھوٹ ماضی کے اختلافات اور دھڑا بندیاں جوں کی توں برقرار ہیں ، رکن قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی اپنے پورے عرصہ اقتدار میں ایک ہی جماعت میں رہتے ہوئے سیاسی حریف بنے رہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاسی شطرنج پر اپنے اپنے مہرے ،

گھوڑے لڑاتے رہے اور شیر کے نشان پر کامیابی حاصل کرنے والے شیر کو مضبوط اور توانا کرنے کی بجائے سیاسی بساط پر شیر کی سلامتی خطرہ میں دال بیٹھے آندریں حالات الیکشن2018میں مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کے مہرے اور گھوڑوں نے اپنی اپنی صف بندیا ں کر کے ن لیگ کی کامیابی کے حالات ناسازگار دیکھ کر پارٹی بقا کی بجائے اپنے زاتی مفادات کے پیش نظر ادھر اٌدھر ہاتھ پاوں مارنے لگ گئے ہیں واضح رہے کہ الیکشن2013میں بھی اس حلقہ سے ایم این اے اور ایم پی اے کے ووٹوں کا تناسب اکثر پولنگ اسٹیشن پر مختلف تھا اور یہی صورتحال بلدیاتی الیکشن میں کھل کر سامنے اگئے کہ جب ایک گروپ شیر کے نشان پر اور دوسرا گروپ بالٹی کے نشان پر آمنے سامنے مدمقابل ہو گئے اور اسی کا تسلسل ضلع چیرمینی کے انتخاب میں سامنے آیا ، ایم پی اے ملک ظہور انور کی وفات کے بعد ضمنی الیکشن میں ملک شہریار کو ممبر قومی اسمبلی کے مہروں اور گھوڑوں نے ہرا کر ضلع چیرمینی کا بدلہ لینے کی ناکام کوشش کی اور واضح طور پر ایم این اے کے معتمد خاص قسم کے لوگ ملک شہریار کے خلاف باقاعدہ کمپین کا حصہ بنے رہے جسکی بنا پر پیدا ہونے والی سیاسی نفرت اور اختلافات جوں کے توں برقرار ہیں اور آمدہ الیکشن میں اسی شاخسانہ کا نتیجہ این اے 65 اور پی پی 24 میں ن لیگ ناقابل شکست سیاسی قلعہ ڈھڑم سے گرنے کا خطرہ نوشتہ دیوار نظر آرہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں