97

جمہوریت کا تسلسل …………..تحریر،ملک آصف اعوان چوکھنڈی …

میری طرف سے پاکستانی عوام کو ایک اور جمہوری عمل کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد. پاکستان میں برسوں بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک اور جمہوری حکومت نے اپنی مدت پوری کر لی ہے. اس سارے عمل کی تکمیل کے دوران بہت سے مسائل اور خدشات نے اس عمل کو متاثر ضرور کیا لیکن شکر الحمد للّه جمہوریت ڈی ریل نہیں ہوئی اور یوں ایک اور اننگز کامیابی سے مکمل ہوئی.

پاکستان جیسے ملک میں جمہوریت سے واقفیت صرف کتابی صورت میں دستیاب ہے یا دوسری اقوام کی مثالوں کی صورت میں. ایسے میں اس کے ثمرات اور کامیابی کو سمجھنا ذرا مشکل ہے کیونکہ کروڑوں لوگوں کے لئیے کامیاب transition of power پہلا تجربہ ہے لہٰذا اس کے مختلف factors اور segments سے اختلاف بلکل بجا اور قدرتی ہے. مثال کے طور پر حال ہی میں آپکو یاد ہوگا کہ ترکی میں طیب اردگان کے خلاف ایک military Qou کی ناکام کوشش ہوئی. اس کوشش کو ناکام بنانے میں ترک عوام نے اہم کردار ادا کیا اور ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر مارشل لا کا راستہ روکا. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا .؟؟ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہاں کی عوام کو جمہوریت کے فوائد اور ثمرات کا بخوبی اندازہ ہے لہٰذا وہ کسی بھی مہم جوئی کے خلاف تیار رہتے ہیں. لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں جمہوریت نے تیسرا سے چوتھا سال مکمل نہ کیا ھو اور ملک کی 70 سالہ تاریخ میں کم و بیش 40 سال مارشل لا رہا ھو وہاں کی عوام کے لئیے یہ سب کچھ اچنبھے کی بات ہے اور اس پر مزید حیرت یہ کہ جہاں کے سیاسی کلچر میں موجود کچھ سیاسی جماعتیں ہر وقت مارشل لا کو خوش آمدید کہنے کے لئیے تیار رہتی ھوں وہاں پر جمہوریت کو شجر ممنوعہ سمجھنا ایک فطری امر ہے.
دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کا احوال اٹھا کے دیکھ لیں جمہوریت ہی کامیاب ترین طرز حکومت ہے باقی کی اقسام میں اندرونی خلفشار ، بد امنی اور بعض اوقات خانہ جنگی جیسے مسائل رہتے ہیں.
جس طرح پاکستان میں پے درپے حکومتیں کامیابی سے اپنا عرصہ پورا کر رہی ہیں وہ دن دور نہیں کہ ہم بھی انہی ثمرات سے بجا طور پر مستفید ہونگے. جمہوریت کا تسلسل ھی اداروں کی ترقی اور مضبوطی کی ضمانت ہے اور مضبوط ادارے ملک کی بقا کی ضمانت ہیں. جیسے گزشتہ 10 سالوں میں ادارے اس حد تک آزاد ہیں کہ وہ ملک کے مزبوط ترین عھدے کے حامل شخص کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر سکتے ہیں. ایسا اس سے پہلے ممکن نہیں تھا اور اداروں کا کام صرف حکومتی دوام ہوا کرتا تھا.
حکومت کی تکمیل کے بعد اب کارکردگی کی بنیاد پر اگلی حکومت آے گی. ہر بندا جو سوشل میڈیا ، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے حالات حاضرہ سے آگاہ رہتا ہے وہ بہتر طور پر فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہے کہ زمام حکومت کس سیاسی پارٹی کو دینا چاہیے اور کون اس کے اہل ہے.
میں کسی پارٹی کی ترویج یا سیاسی منشور نہیں بیان کرنا چاہتا صرف ایک بات پر زور دینا چاہتا ھوں کہ جمہوریت کے اس تسلسل کو اب برقرار رہنا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت ہرگز نہیں ہونی چاہیے . جب ہم نے اپنے آئین کے زریعے اس بات کا فیصلہ کر لیا ہے کہ ہمارے لئیے جمہوریت ہی موزوں طرز حکومت ہے تو اب اسکا تسلسل بھی ضروری ہے تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں موجود نقائص دور ھوں اور ہم بھی باقی اقوام کی طرح اس کے ثمرات سے بہرہ مند ھو سکیں.
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جمہوری کلچر میں موجود ساری سیاسی پارٹیاں ہمارا سرمایہ ہیں اور پارٹیوں کو اپنی صفوں میں موجود کرپٹ اور غیر موزوں لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے.
خدشات سننے میں آ رہے ہیں کہ شائد الیکشن ٹائم پر نہ ھوں. اگر ایسا ہوا تو خدا نا خواستہ یہ ملک کے لئیے بہت مہلک ہوگا اور اس کے اثرات بہت ٹائم تک رہیں گے. جس قسم کے چلینجز ہمیں اس وقت درپیش ہیں ان سے نبزد آزما ہونے کے لئیے ایک عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت ضروری ہے . تاکہ عوامی مسائل اور عالمی حالات کے پیش نظر مزبوط پالیسی مرتب کی جا سکے.
آخر میں میں اپنے قارئین سے التماس کرتا ھوں کہ آئیں اس دفعہ کا الیکشن عام کلچر سے ہٹ کر لیں اور ووٹ صرف برادری ، دھڑے بندی اور پارٹی کی بنیاد پر نہیں بلکہ امیدواروں کی موزونیت اور شخصیت کے اعتبار سے پول کریں. آئیں سارے مل کر ملک پاکستان کو اہل قیادت دیں تاکہ اس دگر گوں صورتحال کا خاتمہ ھو اور اہل لوگ مضبوط معاشی ، معاشرتی ، توانائی اور عالمی منظر نامے کے مطابق خارجہ پالیسی مرتب کریں.
اللّه آپکا حامی و ناصر ھو …

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں