1,224

نظریاتی کارکن فارغ،پی پی24سے کرنل(ر) سلطان سرخرو پارٹی سے ناراض نظر آنے لگے ، سردار غلام عباس خان ایک ایم این اے اور ایک ایم پی کے ٹکٹ کے عوض ایک بار پھر پاکستان تحریک ا نصاف میں شامل

چکوال( نمائندہ بے نقاب ) تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے، نظریاتی کارکن فارغ، سابق ضلع ناظم چکوال سردار غلام عباس خان ایک ایم این اے اور ایک ایم پی کے ٹکٹ کے عوض ایک بار پھر پاکستان تحریک ا نصاف میں شامل ہوگئے،

سردار غلام عباس خان نے گزشتہ روز بنی گالہ میں سابق تحصیل ناظم چکوال سردار آفتاب اکبر خان کے ہمراہ مرکزی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اس موقع پر جہانگیر ترین، چوہدری نذر گوندل،فواد چوہدری، راجہ عامر کیانی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ سردار غلام عباس خان 2011میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے اور بعدازاں عمران خان سے سیاسی اختلافات کے باعث پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہو گئے تھے۔ ضلع چکوال کے دو ضمنی الیکشن پی پی 20اور پی پی 23میں ن لیگ کا کامیاب کرایا اور پی ٹی آئی کی شکست میں اہم کردار ادا کیا تھا ، سردار غلام عباس خان تمام بڑی سیاسی جاعتوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی دور میں ایم پی اے اور صوبائی وزیر، ق لیگ کے دور میں دو دفعہ ضلع ناظم رہ چکے ہیں، ن لیگ کونواز شریف کے حالیہ بیان پر چھوڑ دیا تھا اب این اے 64چکوال سے امیدوار بنے ہیں اور عام انتخابات 2013میں اسی حلقہ سے ایک لاکھ ایک ہزار ووٹ حاصل کیے تھے، ، ان کے پی ٹی آئی میں آنے کے بعد پی پی21سے امیدوار برائے صوبائی اسمبلی چوہدری علی ناصر بھٹی، چوہدری تیمور علی خان ایڈووکیٹ، شیخ وقار علی پی پی 22سے سابق امیدوار پی ٹی آئی راجہ طارق افضل خان کالس، پیر وقار حسین کرولی، راجہ منور احمدپی پی23سے ملک اختر شہباز، پیر نثار قاسم کرسال، فوزیہ بہرام، ملک کاشف حبیب کلرکہار، پی پی24سے کرنل(ر) سلطان سرخرو پارٹی سے ناراض نظر آنے لگے ہیں کیونکہ ان تما م حلقوں میں سردار غلام عباس خان نے اپنے امیدواروں کا پینل سامنے لانے کے لئے پی ٹی آئی قیادت سے ٹکٹ مانگ لیے ہیں جبکہ سردار عباس کی شمولیت سے قبل ان تمام کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی میں سردار عباس کی کوئی جگہ نہیں اور سردار عباس کی شمولیت کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی،اب سردار غلام عباس نہ صرف پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں بلکہ حلقہ این اے 64سے پی ٹی کے امیدوار بھی ہیں جبکہ ایک ایم پی اے کا ٹکٹ بھی اپنے کسی من پسند امیدوار کو دلوائیں گے،دوسری طرف پی ٹی آئی کا عام ووٹرز اعلیٰ قیادت کے اس فیصلے سے سخت مایوسی کا شکار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں