596

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان،پارٹی کیلئے قربانیاں دینے والے نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز

چکوال(نمائندہ بے نقاب) پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجہ میں پی ٹی آئی ضلع چکوال کی ہر سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی کیلئے قربانیاں دینے والے نظریاتی کارکنوں کے علاوہ پارٹی کیساتھ مسلسل کئی سالوں سے وابستگی کے باوجود انہیں نظر

اندازکیا گیا ہے۔ ضلع چکوال کی چھ نشستوں میں سے پانچ ٹکٹ ایسے امیدواروں کو دیے گئے ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کیلئے درخواست ہی جمع نہیں کروائی تھی صرف راجہ یاسرسرفراز کو ایڈجسٹ کیا گیا ہے جنہوں نے حلقہ این اے64کیلئے درخواست دی تھی۔ پی ٹی آئی ضلع چکوال کے عہدیداروں اور کارکنوں نے چیئرمین عمران خان سے موجودہ ٹکٹوں کی تقسیم پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے ۔حلقہ این اے 64پر سردار غلام عباس پی پی 21پر راجہ یاسر سرفراز اور پی پی 22پر میجر جنرل ریٹائرڈ مسرور احمد امیدوار ہونگے۔حلقہ این اے 65پر مسلم لیگ ق کے پرویز الٰہی پاکستان تحریک انصاف کے بھی مشترکہ امیدوار ہونگے۔پی پی 23پر سردار آفتاب اکبر جبکہ پی پی 24پر مسلم لیگ ق کے حافظ عمار یاسر کو ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔جنرل مسرور احمد سردار غلام عباس کو پی ٹی آئی میں لانے والوں میں شامل ہیں۔انہوں نے سات اپریل کو عمران خان سے سردار غلام عباس کی پی ٹی آئی میں شمولیت بارے این او سی حاصل کر لیا تھا۔جنرل مسرور احمد نے دوسرے لفظوں میں پی ٹی آئی کو موجودہ مضبوط سیاسی پوزیشن پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔لہٰذا پاکستان تحریک انصاف نے انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں راجہ منور احمد،راجہ طارق افضل کالس،پیر وقار حسین کرولی اور ملک اختر شہباز پر فوقیت دی ہے۔آخری مرحلے میں چیئرمین ڈلوال راجہ ذوالفقار اسلم نے بھی پی پی 22پر ٹکٹ کے لیے درخواست دیدی تھی اور ایک موقع پر محسوس ہوتا تھا کہ راجہ ذوالفقار اسلم ہی امیدوار ہونگے۔مگر آخری مرحلے میں صورتحال بدل گئی ۔حلقہ این اے 65پر چوہدری پرویز الٰہی کو 20روز قبل ہی پی ٹی آئی نے گرین سگنل دیدیا تھا۔کیونکہ پورے پنجاب میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کے درمیان 19سیٹوں پر ایڈ جسٹمنٹ کی گئی ہیں۔پی پی 23پر سردار آفتاب اکبر کا ٹکٹ سردار غلام عباس کی شمولیت کے ساتھ ہی مشروط تھا۔اس حلقہ میں پیر نثار قاسم،فوزیہ بہرام،ملک کاشف حبیب اور ملک اختر شہباز نے بھی ٹکٹوں کی درخواست دے رکھی تھی۔پی پی 24پر مسلم لیگ ق کے حافظ عمار یاسر کو ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔اور وہ مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی کے مشترکہ امیدوار ہونگے۔کرنل سلطان سرخرو اعوان کو پی پی 24سے فارغ کر دیا گیا ہے۔جبکہ حلقہ این اے 65میں سردار منصور حیات ٹمن کا ٹکٹ یقینی تھا۔مگر وہ بھی کلین بولڈ ہو گئے۔ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر راجہ یاسر سرفراز ہی ایک نظریاتی کارکن میدان میں اتارے گئے ہیں جبکہ باقی تمام پانچ نشستوں پر باہر سے امیدواروں کو ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔لہٰذا پی ٹی آئی ضلع چکوال میں ان ٹکٹوں کی تقسیم پر شدید رد عمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں