139

کاغذات نامزدگی کا مرحلہ، سیاسی جماعتیں انتشارکا شکار………..تحریر، امیر عبداﷲ ملک

قارئین! جون کی سخت گرمی اور رمضان المبارک کی شدت کے باوجود امیدوار اپنے حامیوں سمیت کاغذات نامزدگی دھڑ ادھڑ جمع کروا رہے ہیں۔رمضان المبارک اور شدید گرمی کے باوجود یہ جوش و خروش یقیناًدل گردے کا کام ہے لیکن اس بار مسلم لیگ(ن) سخت صورتحال سے دوچار ہے جبکہ پی ٹی آئی کی کشتی بھی اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے اور بھی زیادہ گرداب میں ہے ان حالات میں صرف متحدہ مجلس عمل ہی واحد جماعت ہے جوکہ (ایزی فیل) انجوائے کر رہی ہے۔مسلم لیگ(ن) کی مقامی قیادت نے اس دفعہ فلک شیر اعوان کو ٹکٹ کا عندیہ دے رکھا تھا اس ضمن میں انہوں نے کافی ورک بھی کر رکھا تھا جبکہ سابق صوبائی وزیرملک سلیم اقبال کی حمایت بھی انہیں حاصل تھی لیکن اس وقت کی پوزیشن کے مطابق (ن) این اے 65 میں سردار ممتاز ٹمن اور PP24 پر ملک شہریار کو ہی ٹکٹ دینے جارہی ہے جبکہ قبل ازیں لسٹ میں سردار فیض ٹمن بھی شامل تھے جبکہ فیض ٹمن کو بھی سلیم اقبال کی حمایت حاصل تھی لیکن اصل وجہ سردار غلام عباس کے مسلم لیگ(ن) کو خیر باد کہنے پر پیدا ہوئی

چونکہ سردار عباس نے ضلع چکوال میں دو ضمنی الیکشن اور چیئرمین ضلع کونسل کا تحفہ مسلم لیگ(ن) کی جھولی میں ڈالا اور جواب میں سردار عباس کو رسوائی ملی یوں سردار عباس نے احتجاجاً مسلم لیگ(ن) کو چھوڑ کر پی ٹی آئی جوائن کرلی اور یوں مسلم لیگ(ن) خصوصاً چکوا ل کے دونوں سابقہ ایم پی ایز اور چیئرمین ضلع کونسل(حالیہ) ملک طارق اسلم ڈھلی سردار عباس کے ممنون ہیں لہٰذا مسلم لیگ(ن) میں ویسے بھی دراڑ پڑ چکی ہے ۔زمانے کی گردش آپس کا انتشار یہ تمام چیزیں مل کر مسلم لیگ(ن) کیلئے سخت ترین حالات پیدا کر رہی ہیں۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف چکوال کے حالات اس سے بھی سنگین ہیں کیونکہ مسلم لیگ(ق) اور پی ٹی آئی میں ایڈجسمنٹ کے بعد چوہدری پرویز الٰہی اور حافظ عمار یاسر جوکہ باالترتیب NA65 اور PP24 سے امیدوار ہیں پی ٹی آئی نے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ گزشتہ پانچ سالوں میں کرنل(ر) سلطان سرخرو اور منصور ٹمن نے پی ٹی آئی کو سخت حالات میں نہ صرف سہارا دیے رکھا گزشتہ ضمنی الیکشن میں قربانی بھی دی جبکہ موجودہ حالات میں ان دونوں شخصیات کو پی ٹی آئی نے یکسر نظر انداز کردیا ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکناں میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے عوامی حلقوں کے مطابق حافظ عمار یاسر کی تلہ گنگ کیلئے ترقیاتی حوالے سے قربانی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لہٰذا ان کی PP24 میں آمد کو تو اچھی نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے لیکن گجرات سے تعلق رکھنے والے چوہدری پرویز الٰہی کی تلہ گنگ سے الیکشن لڑنا سمجھ سے بالاتر ہے تلہ گنگ کو اربوں روپے کے فنڈز کے حوالے سے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دو دفعہ انہیں اسی اعتراف میں نوے ہزار سے زائد ووٹ دئے گئے تھے اور لاوہ تلہ گنگ کی چیئرمین شپ بھی اسی اعتراف کا نتیجہ ہے۔لہٰذا اس فیصلے پر عوام نظر ثانی چاہتے ہیں اور مقامی امیدوار کی توقع رکھتے ہیں چاہے NA پینسٹھ پر حافظ عمار یاسر اور پی پی چوبیس پر کرنل سلطان سرخرو کیوں نہ ہوں بحرحال پی ٹی آئی کے مقامی لیڈران کا احتجاج جاری ہے دیکھئے کیا صورتحال بنتی ہے۔
ان تمام ترحالات میں متحدہ مجلس عمل مکمل طورپر انجوائے کر رہی ہے گزشتہ روز ایم ایم اے کے امیدوار ڈاکٹر حافظ حمیداﷲ ملک نے اپنے ڈیرہ دربٹہ ہاؤس پر ایم ایم اے کی ضلعی قیادت مولانا محمد اشرف آصف، مولانا عطاالرحمن قاسمی، مولانا محمد رفیق، حافظ محمد اسامہ،مولانا عبدالستار،پروفیسر امیر ملک اور ڈاکٹر خالد ملک پریس سیکرٹری اور انچارج میڈیا سیل کاخصوصی اجلاس ہوا جس میں انتخابی عمل کا جائزہ لیا گیا اور بعد ازاں دربٹہ ہاؤس میں ہی ایک بھرپور پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں پریس کلب لاوہ کو خصوصی طورپر دعوت دی گئی ۔پریس کانفرنس میں ایم ایم اے کے pp24 سے امیدوارڈاکٹر حافظ حمیداﷲ ملک نے بتایاکہ ضلع چکوال کے تمام امیدواران سے زیادہ ایجوکیٹڈ ہوں او ر حافظ قرآن بھی ہوں ۔نوجوان ڈاکٹر حمیداﷲ صاحب نے صحافیوں کو بتایا کہ تلہ گنگ کو ضلع نہ بنوانا،یونیورسٹی کا قیام نہ ہونا،بالکسر سے ڈیرہ تک دورویہ سڑک کی تعمیر نہ ہونا،اور سی پیک کا چکوال سے نہ گزرناتمام کی تمام مسلم لیگ(ن) کی مقامی منتخب قیادت اور نمائندوں کی سخت نا اہلی کا نتیجہ ہے سابقہ الیکشن میں کامیاب نہ ہونے کے باوجود بھی تحصیل تلہ گنگ اوت لاوہ کے عوام کو الخدمت ہسپتال کا تحفہ دیا ہے انشا ء اللہ آمدہ الیکشن میں اگر وزیر اعظم ایم ایم اے کا نہ بھی ہوا تو ایم ایم اے کے بغیر بھی وزیر اعظم نہیں بن پائے گا ۔حکومت میں ایم ایم اے کا واضح حصہ ہوگا اور تلہ گنگ کو ضلع،یونیورسٹی کا قیام،سڑک کی ون وے تعمیر،تعلیم صحت اور روزگار کی فراہمی میرے منشور میں شامل ہیں ،لاوہ ہسپتال کو آر ایچ سی سے ہیڈ کوارٹر کا درجہ دلوانا میری اولین ترجیحات میں شاملہے جبکہ تلہ گنگ ضلع کیلئے مضبوط فزیبلٹی تیار کرکے اپنا حق چھین کر ضلع بنوائیں گے۔فزیبلٹی میں ڈھک پہاڑی سے قبل کی تھانہ چکڑالہ کی چار یونین کونسلز تحصیل لاوہ میں شامل کریں گے۔تلہ گنگ اور لاوہ کے عوام سے وعدہ کرتاہوں کہ آپ بھی تعاون کریں انشاء اﷲ کامیابی ہمارے ہی مقدر میں ہے۔بصورت دیگر اگر 14 کروڑ روپے کا الخدمت ہسپتال تلہ گنگ میں بنوا سکتا ہوں تو یہ منصوبے بھی انشاء ﷲ بن جائیں گے۔انہوں نے فخریہ انداز میں کہا کہ ضلع چکوال کے تمام سیاستدانوں کو سیاست ورثہ میں ملی ہے جبکہ دربٹہ کے عوام کو فخر ہونا چاہیئے میں نے سیاست میں خود ترقی کی ہے اور آج الحمدللہ نہ صرف ضلع چکوال بلکہ صوبہ پنجاب میں ایک تعارف موجود ہے ۔آخر میں پریس کلب لاوہ اور ایم ایم اے کی ضلعی قیادت کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر پیش کیا گیا۔
2209429 .0302

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں